اور اگر یہ لوگ اعتراض کریں تو (اے پیغمبر) تمہارا کام فقط کھول کر سنا دینا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
تَوَلَّوْا: منہ پھیر لیں، اعراض کریں۔
الْبَلَاغُ الْمُبِینُ: واضح اور صریح پیغام پہنچا دینا۔
تفسیر:
اے محبوب رسول! اگر یہ لوگ آپ کی دعوت سے منہ موڑ لیں اور حق کو قبول کرنے سے اعراض کریں، تو آپ کو کسی قسم کا رنج یا ملال نہیں ہونا چاہیے۔ آپ کا کام صرف یہ ہے کہ اللہ کا پیغام لوگوں تک واضح اور صریح انداز میں پہنچا دیں، اور آپ نے یہ فریضہ بخوبی انجام دے دیا ہے۔ ہدایت دینا آپ کے اختیار میں نہیں، بلکہ یہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہی جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے۔
یہ آیت مبارکہ ہمیں ایک عظیم سبق سکھاتی ہے کہ دعوت و تبلیغ کا کام کرنے والے کو صرف پیغام پہنچانے کی ذمہ داری ہے، نتیجہ اللہ کے سپرد کر دینا چاہیے۔ اگر لوگ قبول نہ کریں تو مایوس نہ ہوں، کیونکہ ہر نبی کی یہی سنت رہی ہے۔ آج بھی ہمیں چاہیے کہ ہم لوگوں تک اسلام کا پیغام محبت اور حکمت کے ساتھ پہنچائیں، اور اگر کوئی قبول نہ کرے تو ہم صرف اتنا کہہ دیں کہ ہم نے حق پہنچا دیا، ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
یہ آیت مومن کے دل میں یہ یقین پیدا کرتی ہے کہ کامیابی کا معیار لوگوں کا قبول کرنا نہیں، بلکہ اللہ کا حکم بجا لانا ہے۔ جو شخص اپنا فرض ادا کر دے، وہ اللہ کے نزدیک کامیاب ہے، چاہے دنیا اسے ناکام ہی کیوں نہ سمجھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں صبر و استقامت عطا کرے۔ آمین۔
اور خدا ہی نے تمہارے لیے گھروں کو رہنے کی جگہ بنایا اور اُسی نے چوپایوں کی کھالوں سے تمہارے لیے ڈیرے بنائے۔ جن کو تم سبک دیکھ کر سفر اور حضر میں کام میں لاتے ہو اور اُن کی اون، پشم اور بالوں سے تم اسباب اور برتنے کی چیزیں (بناتے ہو جو) مدت تک (کام دیتی ہیں)
اور خدا ہی نے تمہارے (آرام کے) لیے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کے سائے بنائے اور پہاڑوں میں غاریں بنائیں اور کُرتے بنائے جو تم کو گرمی سے بچائیں۔ اور (ایسے) کُرتے (بھی) جو تم کو اسلحہ جنگ (کے ضرر) سے محفوظ رکھیں۔ اسی طرح خدا اپنا احسان تم پر پورا کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار بنو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔