اسراء · 15/111
ترجمہ تلفظ — اسراء
مَّنِ اهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۗ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا ۝١٥
Manihtadaa fa innamaa yahtadee linafsihee wa man dalla fa innamaa yadillu `alaihaa; wa laa taziru waaziratunw wizra ukhraa; wa maa kunnaa mu`azzibeena hatta nab`asa Rasoola
📖 اردو ترجمہ
جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے لئے اختیار کرتا ہے۔ اور جو گمراہ ہوتا ہے گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا۔ اور کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اور جب تک ہم پیغمبر نہ بھیج لیں عذاب نہیں دیا کرتے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • اہتدیٰ: ہدایت پانے والا، راہِ راست اختیار کرنے والا
  • ضلّ: گمراہ ہوا، راہِ حق سے بھٹک گیا
  • تزر: اٹھائے گی، برداشت کرے گی
  • وازرة: گناہ گار نفس
  • وزر: بوجھ، گناہ
  • معذّبین: عذاب دینے والے
  • نبعث: بھیجیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں انسان کے اعمال کے ذاتی نتیجے اور اپنے عدلِ کامل کا ذکر فرماتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے کہ جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے، یعنی ایمان اور عملِ صالح کی راہ پر چلتا ہے، تو اس کی ہدایت کا ثواب اسی کو ملے گا، کوئی دوسرا اس کا حصہ دار نہیں ہوگا۔ اور جو شخص گمراہی اختیار کرتا ہے، یعنی حق سے منہ موڑ کر باطل کی پیروی کرتا ہے، تو اس کی گمراہی کا وبال بھی اسی پر ہوگا، اس کا نقصان بھی اسی کو پہنچے گا۔ یہ اللہ کا عدلِ مطلق ہے کہ ہر شخص اپنے عمل کا نتیجہ خود بھگتے گا۔

پھر فرمایا کہ کوئی گناہ گار نفس کسی دوسرے کا گناہ اٹھائے گا نہیں۔ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے، نہ کوئی باپ بیٹے کا بوجھ اٹھائے گا، نہ بیٹا باپ کا، نہ کوئی دوست اپنے دوست کا۔ یہ اللہ کا انتہائی انصاف ہے کہ ہر ایک کو اس کے اپنے عمل کا بدلہ دیا جائے گا۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے عدل کا ایک اور پہلو بیان فرماتے ہیں کہ ہم کسی قوم کو عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ ان کے پاس رسول نہ بھیج دیں۔ یعنی اللہ کا قانونِ عدل یہ ہے کہ پہلے حجت قائم کی جائے، رسول بھیجے جائیں، کتابیں نازل کی جائیں، لوگوں کو راہِ راست دکھائی جائے، اور پھر جو لوگ اس کے باوجود گمراہی پر قائم رہیں، انہیں عذاب دیا جائے۔ یہ اللہ کی رحمت اور انصاف کا تقاضا ہے کہ وہ بغیر اطلاع کے کسی کو سزا نہیں دیتا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت اہم سبق ملتا ہے کہ ہماری نجات اور کامیابی کا دارومدار ہمارے اپنے اعمال پر ہے۔ ہم اپنے والدین کے ایمان پر جنت نہیں پا سکتے، اور نہ ہی ہمارے گناہوں کا بوجھ کسی اور پر ڈالا جائے گا۔ یہ ہمارے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ نے ہم پر رحم فرمایا اور ہمارے پاس رسولِ رحمت ﷺ کو بھیجا، جنہوں نے ہمیں راہِ حق دکھائی۔ آج ہمارے پاس قرآن اور سنت موجود ہے، حجت قائم ہے، بس ضرورت ہے اس پر عمل کرنے کی۔ اللہ نے ہمیں عقل دی، اختیار دیا، اور رسول بھیج کر راستہ صاف کر دیا۔ اب جو بھی ہدایت چاہے گا، اسے ملے گی، اور جو گمراہی چاہے گا، وہ خود اس کا ذمہ دار ہوگا۔ آئیے ہم اس نعمتِ عظیمہ کا شکریہ ادا کریں اور اپنی زندگیوں کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالیں، تاکہ ہم آخرت میں کامیاب ہوں۔



📜 آیت 13-17 — اسراء

13وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ ۖ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنشُورًا
اور ہم نے ہر انسان کے اعمال کو (بہ صورت کتاب) اس کے گلے میں لٹکا دیا ہے۔ اور قیامت کے روز (وہ) کتاب اسے نکال دکھائیں گے جسے وہ کھلا ہوا دیکھے گا
14اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَىٰ بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا
(کہا جائے گا کہ) اپنی کتاب پڑھ لے۔ تو آج اپنا آپ ہی محاسب کافی ہے
15مَّنِ اهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۗ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا
جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے لئے اختیار کرتا ہے۔ اور جو گمراہ ہوتا ہے گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا۔ اور کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اور جب تک ہم پیغمبر نہ بھیج لیں عذاب نہیں دیا کرتے
16وَإِذَا أَرَدْنَا أَن نُّهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُوا فِيهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاهَا تَدْمِيرًا
اور جب ہمارا ارادہ کسی بستی کے ہلاک کرنے کا ہوا تو وہاں کے آسودہ لوگوں کو (فواحش پر) مامور کردیا تو وہ نافرمانیاں کرتے رہے۔ پھر اس پر (عذاب کا) حکم ثابت ہوگیا۔ اور ہم نے اسے ہلاک کر ڈالا
17وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ ۗ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ بِذُنُوبِ عِبَادِهِ خَبِيرًا بَصِيرًا
اور ہم نے نوح کے بعد بہت سی اُمتوں کو ہلاک کر ڈالا۔ اور تمہارا پروردگار اپنے بندوں کے گناہوں کو جاننے اور دیکھنے والا کافی ہے
اسراءقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
15آیت

ترجمہ — اسراء 15

سورہ اسراء آیت 15 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے لئے اختیار…

سورہ آیت 15/111 — اسراء الإسراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اسراء سنیں, اسراء ترجمہ, اسراء mp3, اسراء pdf. آیت 13–17. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں