ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- وَاسْتَفْزِزْ: ہلکا کرنے کی کوشش کرو، یعنی انہیں راہِ راست سے ہٹانے کے لیے ان کے دلوں میں وسوسے ڈالو۔
- بِصَوْتِكَ: اپنی آواز سے، یعنی وسوسہ اندازی اور گمراہ کن پکار سے۔
- وَأَجْلِبْ: جمع کرو، اکٹھا کرو۔
- بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ: اپنے سواروں اور پیادوں کے ساتھ، یعنی اپنی تمام تر طاقت اور وسائل سے۔
- وَشَارِكْهُمْ: ان کے ساتھ شریک ہو جاؤ۔
- فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ: مال اور اولاد میں۔
- وَعِدْهُمْ: ان سے وعدے کرو۔
- غُرُورًا: دھوکہ اور فریب۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ شیطان کے اس حکم کا ذکر فرما رہے ہیں جو اس نے قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کہا تھا، جب اسے مہلت دی گئی تو اس نے قسم کھائی کہ وہ بنی آدم کو گمراہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے شیطان! تو جسے بھی گمراہ کر سکتا ہے، اپنی پکار سے اسے راہِ راست سے بھٹکا دے۔ یعنی اپنے وسوسوں، اپنی گمراہ کن آوازوں اور اپنے فریب سے لوگوں کے دلوں میں برے خیالات ڈال، انہیں گناہوں کی طرف بلاتا رہ۔
پھر فرمایا کہ اپنے سواروں اور پیادوں کو ان پر چڑھا لا، یعنی اپنے تمام تر وسائل اور اپنے مددگاروں کو جمع کر کے انہیں گھیر لے۔ شیطان کے سوار اور پیادے وہ انسان اور جن ہیں جو اس کی اطاعت کرتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں اس کا ساتھ دیتے ہیں۔
اس کے بعد فرمایا کہ ان کے مال اور اولاد میں شریک ہو جا۔ شیطان کی شرکت مال میں یہ ہے کہ وہ لوگوں کو حرام کمانے، سود لینے، دھوکہ دینے اور ناجائز ذرائع سے مال حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اور اولاد میں شرکت یہ ہے کہ وہ زنا کے ذریعے پیدا ہونے والی اولاد، یا اولاد کو کفر و شرک کی طرف لے جانا، یا انہیں اللہ کے احکام سے دور رکھنا۔
پھر فرمایا کہ ان سے وعدے کرتا رہ، یعنی انہیں جھوٹی امیدیں دلاتا رہ کہ کوئی حساب و کتاب نہیں، کوئی آخرت نہیں، تم جو چاہو کرو۔ لیکن اللہ تعالیٰ فوراً ہی حقیقت واضح فرما دیتے ہیں کہ شیطان جو وعدے ان سے کرتا ہے وہ محض دھوکہ اور فریب ہے، کیونکہ اس کے پاس کوئی سچائی نہیں، وہ صرف جھوٹ بولتا ہے اور لوگوں کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ شیطان ہمارا کھلا دشمن ہے اور وہ ہر لمحہ ہمیں گمراہ کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ وہ ہمارے مال، ہماری اولاد اور ہماری زندگی کے ہر پہلو میں گھسنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبردار کر دیا ہے اور شیطان کے تمام وعدے جھوٹے اور فریب پر مبنی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی پناہ مانگیں، قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامیں، اور شیطان کے وسوسوں سے بچنے کے لیے اللہ کا ذکر کریں۔ یاد رکھیں، جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، اللہ اسے شیطان کے شر سے محفوظ رکھتا ہے۔ ہمیں اپنی اولاد کو بھی شیطان کے شر سے بچانے کے لیے انہیں نیک تربیت دینی چاہیے اور انہیں اللہ کے احکام سکھانے چاہئیں، تاکہ وہ اس دشمن کے فریب میں نہ آئیں۔
📜 آیت 62-66 — اسراء
ترجمہ — اسراء 64
سورہ اسراء آیت 64 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ان میں سے جس کو بہکا سکے اپنی آواز…سورہ آیت 64/111 — اسراء الإسراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اسراء سنیں, اسراء ترجمہ, اسراء mp3, اسراء pdf. آیت 62–66. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








