ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- اذْهَبْ: چلے جا، یعنی تیری مہلت کا وقت ختم ہو چکا، اب اپنے انجام کی طرف بڑھ۔
- جَزَاؤُكُمْ: تمہاری سزا اور بدلہ۔
- مَّوْفُورًا: مکمل، بھرپور، جس میں کوئی کمی نہ ہو، نہ تو کم کیا جائے اور نہ ہی کوئی رعایت دی جائے۔
تفسیر آیت:
اللہ تعالیٰ نے جب شیطان کو اپنی رحمت سے محروم کر کے لعنت کا مستحق ٹھہرایا اور اس نے سرکشی میں کہہ دیا کہ میں تیرے بندوں کو تیری سیدھی راہ سے بھٹکاؤں گا، تو اللہ تعالیٰ نے اسے مخاطب کر کے فرمایا: "اذْهَبْ" یعنی چلے جا، تجھے جو مہلت دی گئی ہے وہ ختم ہو چکی، اب تو اپنے انجام کی طرف جا۔ یہ کوئی عزت کی رخصت نہیں، بلکہ ذلت اور رسوائی کے ساتھ نکالا جانا ہے۔
پھر فرمایا: "فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ" یعنی جو لوگ تجھے اختیار کریں گے، تیری بات مان کر تیرے پیچھے چلیں گے، تیرے راستے پر چلیں گے، تو ان کا انجام کیا ہوگا؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ" یعنی یقیناً جہنم ہی تم سب کا بدلہ ہے، تمہارے لیے اور تمہارے پیروکاروں کے لیے۔ یہاں "جزاؤکم" کہہ کر شیطان اور اس کے پیروکاروں دونوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا گیا، کیونکہ دونوں کا انجام ایک ہی ہے۔
پھر فرمایا: "جَزَاءً مَّوْفُورًا" یعنی یہ سزا مکمل اور بھرپور ہوگی، جس میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی، نہ کوئی تخفیف ہوگی، نہ کوئی رعایت۔ یہ ان کے اعمال کے مطابق پوری پوری سزا ہوگی، جیسے وہ گناہوں میں ڈوبے رہے، ویسے ہی عذاب میں ڈوبے رہیں گے۔
یہ آیت دراصل ایک عظیم تنبیہ ہے ہر اس انسان کے لیے جو شیطان کے بہکاوے میں آتا ہے۔ شیطان کو اللہ نے یہاں یہ واضح کر دیا کہ اس کا انجام جہنم ہے، اور جو اس کی پیروی کرے گا، اس کا بھی وہی انجام ہے۔ یہ اللہ کی رحمت کا تقاضا ہے کہ اس نے پہلے سے خبردار کر دیا، تاکہ کوئی شخص یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے معلوم نہ تھا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو ہمارا کھلا دشمن قرار دیا ہے اور اس کی پیروی کے انجام سے آگاہ کر دیا ہے۔ یہ اللہ کی محبت اور شفقت کی دلیل ہے کہ اس نے ہمیں خطرے سے پہلے ہی خبردار کر دیا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم شیطان کے دھوکے سے بچیں، اس کی وسوسہ اندازیوں کو نظر انداز کریں، اور اللہ کی راہ پر ثابت قدم رہیں۔ جو شخص اللہ کی اطاعت کرتا ہے، وہ شیطان کے عزائم کو خاک میں ملا دیتا ہے۔ یاد رکھیں، شیطان کا وعدہ جھوٹا ہے، لیکن اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اللہ نے جنت کا وعدہ اپنے نیک بندوں سے کیا ہے، اور وہ اپنے وعدے میں کبھی خلاف نہیں کرتا۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی اطاعت کو اپنا شعار بنائیں، اور شیطان کے دھوکے سے بچنے کے لیے اللہ سے پناہ مانگیں، کیونکہ وہی ہمارا حامی و ناصر ہے۔
📜 آیت 61-65 — اسراء
ترجمہ — اسراء 63
سورہ اسراء آیت 63 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : خدا نے فرمایا (یہاں سے) چلا جا۔ جو شخص ان…سورہ آیت 63/111 — اسراء الإسراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اسراء سنیں, اسراء ترجمہ, اسراء mp3, اسراء pdf. آیت 61–65. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








