Wa iz qulnaa lilma laaa`ikatis judoo li Aadama fasajadooo illaaa Ibleesa kaana minal jinni fafasaqa `an amri Rabbih; afatattakhizoonahoo wa zurriyatahooo awliyaaa`a min doonee wa hum lakum `aduww; bi`sa lizzaalimeena badalaa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس (نے نہ کیا) وہ جنات میں سے تھا تو اپنے پروردگار کے حکم سے باہر ہوگیا۔ کیا تم اس کو اور اس کی اولاد کو میرے سوا دوست بناتے ہو۔ حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں (اور شیطان کی دوستی) ظالموں کے لئے (خدا کی دوستی کا) برا بدل ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و آنگاه كه به فرشتگان گفتيم كه آدم را سجده كنيد، همه جز ابليس كه از جن بود و از فرمان پروردگارش سر بتافت سجده كردند. آيا شيطان و فرزندانش را به جاى من به دوستى مىگيريد، حال آنكه دشمن شمايند؟ ظالمان بد چيزى را به جاى خدا برگزيدند.
اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس (نے نہ کیا) وہ جنات میں سے تھا تو اپنے پروردگار کے حکم سے باہر ہوگیا۔ کیا تم اس کو اور اس کی اولاد کو میرے سوا دوست بناتے ہو۔ حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں (اور شیطان کی دوستی) ظالموں کے لئے (خدا کی دوستی کا) برا بدل ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ: اپنے رب کے حکم سے نکل گیا، حکمِ الٰہی کی اطاعت سے باہر ہو گیا۔
أَوْلِيَاءَ: دوست، حامی، مددگار۔
بَدَلًا: بدلہ، عوض۔
تفسیرِ آیہ:
اے نبی! اُس وقت کو یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو۔ یہ سجدہ عبادت کا نہیں بلکہ تحیت اور عزت کا تھا، جیسا کہ شریعتِ اسلامیہ میں سجدہ صرف اللہ کے لیے ہے، مگر اس وقت یہ حکم امتحان اور آدم (علیہ السلام) کی فضیلت کے اظہار کے لیے تھا۔ چنانچہ تمام فرشتوں نے بلا کسی تردد کے حکمِ الٰہی کی تعمیل کی اور سجدہ کیا، سوائے ابلیس کے۔ ابلیس جنوں میں سے تھا، فرشتوں میں سے نہیں تھا، اسی لیے اس نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی، تکبر کیا اور سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ اپنے رب کے حکم سے نکل گیا اور لعنت کا مستحق ہو گیا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے فرمایا: کیا تم لوگ ابلیس اور اس کی اولاد کو میرے سوا دوست اور مددگار بناتے ہو؟ حالانکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ وہی تو تھا جس نے تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کے ساتھ دشمنی کی اور تمہیں گمراہ کرنے کی قسم کھائی۔ کیا عقل مند انسان اپنے دشمن کو دوست بناتا ہے؟ کیا وہ اپنے خالق و مالک کو چھوڑ کر شیطان کی اطاعت کرتا ہے؟ یہ ظالموں کے لیے کتنا برا بدلہ ہے کہ انہوں نے اللہ کی اطاعت چھوڑ کر شیطان کی اطاعت کو پسند کیا۔
یہ آیت مسلمانوں کے لیے ایک عظیم سبق اور نصیحت ہے کہ شیطان ہمارا ازلی دشمن ہے، اس نے ہمارے باپ آدم (علیہ السلام) کے ساتھ دشمنی کا آغاز کیا تھا اور آج تک وہ ہر انسان کو گمراہ کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں خبردار کر رہے ہیں کہ شیطان اور اس کی اولاد کو کبھی اپنا دوست نہ بناؤ، کیونکہ وہ تمہیں ہلاکت کے راستے پر لے جانے والا ہے۔ شیطان کے وسوسوں سے بچنے کا واحد راستہ اللہ کی اطاعت، قرآن پر عمل اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی ہے۔ جو شخص شیطان کو چھوڑ کر اللہ کا دوست بن جائے، وہ کامیاب ہے، اور جو اللہ کو چھوڑ کر شیطان کا دوست بن جائے، وہ خسارے میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں شیطان کے شر سے محفوظ رکھے اور اس کی اطاعت سے بچائے۔ آمین۔
اور سب تمہارے پروردگار کے سامنے صف باندھ کر لائے جائیں گے (تو ہم ان سے کہیں گے کہ) جس طرح ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا (اسی طرح آج) تم ہمارے سامنے آئے لیکن تم نے تو یہ خیال کر رکھا تھا کہ ہم نے تمہارے لئے (قیامت کا) کوئی وقت مقرر ہی نہیں کیا
اور (عملوں کی) کتاب (کھول کر) رکھی جائے گی تو تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ جو کچھ اس میں (لکھا) ہوگا اس سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے ہائے شامت یہ کیسی کتاب ہے کہ نہ چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی کو۔ (کوئی بات بھی نہیں) مگر اسے لکھ رکھا ہے۔ اور جو عمل کئے ہوں گے سب کو حاضر پائیں گے۔ اور تمہارا پروردگار کسی پر ظلم نہیں کرے گا
اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس (نے نہ کیا) وہ جنات میں سے تھا تو اپنے پروردگار کے حکم سے باہر ہوگیا۔ کیا تم اس کو اور اس کی اولاد کو میرے سوا دوست بناتے ہو۔ حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں (اور شیطان کی دوستی) ظالموں کے لئے (خدا کی دوستی کا) برا بدل ہے
میں نے ان کو نہ تو آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے کے وقت بلایا تھا اور نہ خود ان کے پیدا کرنے کے وقت۔ اور میں ایسا نہ تھا کہ گمراہ کرنے والوں کو مددگار بناتا
اور جس دن خدا فرمائے گا کہ (اب) میرے شریکوں کو جن کی نسبت تم گمان (الوہیت) رکھتے تھے بلاؤ تو وہ ان کے بلائیں گے مگر وہ ان کو کچھ جواب نہ دیں گے۔ اور ہم ان کے بیچ میں ایک ہلاکت کی جگہ بنادیں گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔