کہف · 63/110
ترجمہ تلفظ — کہف
قَالَ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ ۚ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا ۝٦٣
Qaala ara`ayta iz awainaaa ilas sakhrati fa innee naseetul hoota wa maaa ansaaneehu illash Shaitaanu an azkurah; wattakhaza sabeelahoo fil bahri`ajabaa
📖 اردو ترجمہ
(اس نے) کہا کہ بھلا آپ نے دیکھا کہ جب ہم نے پتھر کے ساتھ آرام کیا تھا تو میں مچھلی (وہیں) بھول گیا۔ اور مجھے (آپ سے) اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا۔ اور اس نے عجب طرح سے دریا میں اپنا رستہ لیا

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ: ہم پتھر کے پاس پناہ لے کر آرام کرنے بیٹھے تھے۔
  • نَسِیتُ الْحُوتَ: میں مچھلی (کا ذکر) بھول گیا۔
  • مَا أَنسَانِیهُ إِلَّا الشَّیْطَانُ: مجھے اس کا ذکر صرف شیطان نے بھلایا۔
  • وَاتَّخَذَ سَبِیلَهُ فِی الْبَحْرِ عَجَبًا: اس نے سمندر میں اپنا راستہ بنایا، جو حیرت انگیز تھا۔

تفسیر:

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے خادم (یوشع بن نون) اس چٹان کے پاس پہنچے جہاں وہ تھکے ہوئے آرام کرنے کے لیے ٹھہرے تھے، تو وہاں اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم معجزہ ظاہر ہوا۔ وہ مچھلی جو وہ اپنے ساتھ لے کر چل رہے تھے اور جو پہلے سے مردہ تھی، اللہ کے حکم سے زندہ ہو گئی اور سمندر میں چھلانگ لگا کر غائب ہو گئی۔ لیکن یہ واقعہ اس وقت سامنے نہ آیا، بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس سے بے خبر رہے۔

پھر جب وہ آگے بڑھے اور تھکاوٹ کی وجہ سے کھانے کا مطالبہ کیا، تو ان کے خادم نے کہا: "کیا آپ کو یاد ہے جب ہم اس چٹان کے پاس ٹھہرے تھے؟ وہاں میں نے مچھلی کا ذکر کرنا بھول گیا، اور مجھے اس کا ذکر صرف شیطان نے بھلایا۔ وہ مچھلی زندہ ہو کر سمندر میں اپنا راستہ بنا گئی، اور یہ واقعہ انتہائی حیرت انگیز تھا۔"

یہ واقعہ اس بات کی علامت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے ایک خاص بندے (حضرت خضر علیہ السلام) سے ملاقات کا راستہ تیار کیا تھا۔ مچھلی کا زندہ ہونا اور سمندر میں اس کا غائب ہو جانا اس ملاقات کا نشان تھا، جسے اللہ نے اپنے حکم سے ظاہر کیا۔

دعوتی پہلو:

اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی رہنمائی فرماتا ہے، چاہے وہ راستے کیسے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے عظیم نبی بھی علم کی تلاش میں نکلے، تو اللہ نے ان کے لیے ایسے نشانات پیدا کیے جو حیرت انگیز تھے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ علم حاصل کرنے کے لیے محنت اور مشقت برداشت کرنی پڑتی ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ شیطان انسان کو بھلانے کا سبب بنتا ہے، لیکن اللہ کی مشیت ہر چیز پر غالب ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ پر بھروسہ رکھیں اور اس کی رہنمائی پر یقین کریں، کیونکہ وہی ہمیں صحیح راستہ دکھانے والا ہے۔



📜 آیت 61-65 — کہف

61فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا
جب ان کے ملنے کے مقام پر پہنچے تو اپنی مچھلی بھول گئے تو اس نے دریا میں سرنگ کی طرح اپنا رستہ بنالیا
62فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِن سَفَرِنَا هَٰذَا نَصَبًا
جب آگے چلے تو (موسیٰ نے) اپنے شاگرد سے کہا کہ ہمارے لئے کھانا لاؤ۔ اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی ہے
63قَالَ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ ۚ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا
(اس نے) کہا کہ بھلا آپ نے دیکھا کہ جب ہم نے پتھر کے ساتھ آرام کیا تھا تو میں مچھلی (وہیں) بھول گیا۔ اور مجھے (آپ سے) اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا۔ اور اس نے عجب طرح سے دریا میں اپنا رستہ لیا
64قَالَ ذَٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ ۚ فَارْتَدَّا عَلَىٰ آثَارِهِمَا قَصَصًا
(موسیٰ نے) کہا یہی تو (وہ مقام) ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے تو وہ اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے
65فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَا آتَيْنَاهُ رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَعَلَّمْنَاهُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًا
(وہاں) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا جس کو ہم نے اپنے ہاں سے رحمت (یعنی نبوت یا نعمت ولایت) دی تھی اور اپنے پاس سے علم بخشا تھا
کہفقرآن فہرست
110آیت
مکیRevelation
63آیت

ترجمہ — کہف 63

سورہ کہف آیت 63 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (اس نے) کہا کہ بھلا آپ نے دیکھا کہ جب…

سورہ آیت 63/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 61–65. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں