کہف · 64/110
ترجمہ تلفظ — کہف
قَالَ ذَٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِۚ فَٱرۡتَدَّا عَلَىٰٓ ءَاثَارِهِمَا قَصَصًا  ۝٦٤
Qaala zaalika maa kunnaa nabgh; fartaddaa `alaa aasaari him maa qasasaa
📖 اردو ترجمہ
(موسیٰ نے) کہا یہی تو (وہ مقام) ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے تو وہ اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • ذٰلِكَ: یہ (وہ چیز)
  • مَا كُنَّا نَبْغِ: ہم جس کی تلاش میں تھے / ہم جسے چاہتے تھے
  • فَارْتَدَّا: وہ دونوں واپس لوٹے
  • عَلَىٰ آثَارِهِمَا: اپنے (آئے ہوئے) نشانات پر
  • قَصَصًا: نشانات کا سراغ لگاتے ہوئے / قدم بہ قدم پیچھے لوٹتے ہوئے

تفسیر:

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب مچھلی کے دریا میں چلے جانے اور پانی کے راستے بننے کا عجیب واقعہ دیکھا تو فوراً سمجھ گئے کہ یہی وہ نشانی ہے جس کا انہیں انتظار تھا۔ انہوں نے اپنے خادم (یوشع بن نون) سے فرمایا: "یہی تو وہ چیز ہے جس کی ہمیں تلاش تھی!" یعنی مچھلی کا زندہ ہو کر دریا میں چلے جانا اور اس کا راستہ بنانا اس بات کی علامت تھی کہ وہ مقام قریب ہی ہے جہاں انہیں ایک برگزیدہ بندہ (حضرت خضر علیہ السلام) ملیں گے۔

یہ سن کر دونوں خوشی خوشی اپنے قدموں کے نشانات کو دیکھتے ہوئے واپس لوٹے۔ وہ احتیاط سے اسی راستے پر چلے جس راستے سے آئے تھے، تاکہ راستہ نہ بھولیں اور بالکل اسی جگہ پہنچ جائیں جہاں سے وہ آگے بڑھے تھے۔ آخر کار وہ اسی چٹان (صخرہ) کے پاس پہنچ گئے جہاں انہوں نے آرام کیا تھا اور مچھلی کو دریا میں چھوڑا تھا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں ہمیں چند بہترین اسباق ملتے ہیں:

  1. طلب علم میں ثابت قدمی: حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک عظیم پیغمبر تھے، پھر بھی علم کی تلاش میں لمبا سفر کیا اور جب نشانی ملی تو فوراً اس پر عمل کیا۔ ہمیں بھی علم دین حاصل کرنے کے لیے مشقت برداشت کرنی چاہیے۔
  2. نشانیوں پر غور: اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو راستہ دکھانے کے لیے نشانیاں مقرر کرتا ہے۔ جب انسان سچے دل سے کسی نیک کام کا ارادہ کرتا ہے تو اللہ اس کے راستے کھول دیتا ہے۔
  3. عاجزی اور انکساری: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم کے ساتھ نرمی سے گفتگو کی اور اس کی بات کو اہمیت دی۔ ہمیں بھی چاہیے کہ چھوٹوں اور کم علم والوں کی بات سنیں، کیونکہ اللہ کبھی کبھی انہیں ذریعے سے رہنمائی عطا فرماتا ہے۔
  4. حوصلہ اور امید: جب انسان مایوس ہونے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کسی نہ کسی طرح امید کی کرن دکھاتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی تھکاوٹ کے بعد وہ نشانی مل گئی جس کی انہیں تلاش تھی۔

اللہ ہمیں علم حاصل کرنے کی توفیق دے اور ہمیں اپنے دین کی سمجھ عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 62-66 — کہف

62فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَىٰهُ ءَاتِنَا غَدَآءَنَا لَقَدۡ لَقِينَا مِن سَفَرِنَا هَٰذَا نَصَبًا 
جب آگے چلے تو (موسیٰ نے) اپنے شاگرد سے کہا کہ ہمارے لئے کھانا لاؤ۔ اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی ہے
63قَالَ أَرَءَيۡتَ إِذۡ أَوَيۡنَآ إِلَى ٱلصَّخۡرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ ٱلۡحُوتَ وَمَآ أَنسَىٰنِيهُ إِلَّا ٱلشَّيۡطَٰنُ أَنۡ أَذۡكُرَهُۥۚ وَٱتَّخَذَ سَبِيلَهُۥ فِي ٱلۡبَحۡرِ عَجَبًا 
(اس نے) کہا کہ بھلا آپ نے دیکھا کہ جب ہم نے پتھر کے ساتھ آرام کیا تھا تو میں مچھلی (وہیں) بھول گیا۔ اور مجھے (آپ سے) اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا۔ اور اس نے عجب طرح سے دریا میں اپنا رستہ لیا
64قَالَ ذَٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِۚ فَٱرۡتَدَّا عَلَىٰٓ ءَاثَارِهِمَا قَصَصًا 
(موسیٰ نے) کہا یہی تو (وہ مقام) ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے تو وہ اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے
65فَوَجَدَا عَبۡدًا مِّنۡ عِبَادِنَآ ءَاتَيۡنَٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِندِنَا وَعَلَّمۡنَٰهُ مِن لَّدُنَّا عِلۡمًا 
(وہاں) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا جس کو ہم نے اپنے ہاں سے رحمت (یعنی نبوت یا نعمت ولایت) دی تھی اور اپنے پاس سے علم بخشا تھا
66قَالَ لَهُۥ مُوسَىٰ هَلۡ أَتَّبِعُكَ عَلَىٰٓ أَن تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا 
موسیٰ نے ان سے (جن کا نام خضر تھا) کہا کہ جو علم (خدا کی طرف سے) آپ کو سکھایا گیا ہے اگر آپ اس میں سے مجھے کچھ بھلائی (کی باتیں) سکھائیں تو میں آپ کے ساتھ رہوں
کہفقرآن فہرست
110آیت
مکیRevelation
64آیت

ترجمہ — کہف 64

سورہ آیت 64/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 62–66. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں