کہف · 62/110
ترجمہ تلفظ — کہف
فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِن سَفَرِنَا هَٰذَا نَصَبًا ۝٦٢
Falammaa jaawazaa qaala lifataahu aatinaa ghadaaa`anaa laqad laqeena min safarinaa haazaa nasabaa
📖 اردو ترجمہ
جب آگے چلے تو (موسیٰ نے) اپنے شاگرد سے کہا کہ ہمارے لئے کھانا لاؤ۔ اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فَتَاهُ: اس کے خادم (جو سفر میں ساتھ تھا
  • غَدَاءَنَا: ہمارا ناشتہ یا صبح کا کھانا۔
  • نَصَبًا: تھکاوٹ اور مشقت۔

تفسیر:

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے خادم اس مقام سے آگے بڑھ گئے جہاں انہیں مچھلی کا واقعہ پیش آیا تھا، اور وہ اس جگہ سے تجاوز کر گئے، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھوک محسوس ہوئی۔ انہوں نے اپنے خادم سے کہا: "ہمارا کھانا لاؤ، ہمیں اس سفر میں سخت تھکاوٹ اور مشقت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔"

یہاں ایک اہم نکتہ قابل غور ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس وقت تک تھکاوٹ محسوس نہیں ہوئی تھی جب تک وہ اس مقام سے آگے نہیں بڑھ گئے تھے، جہاں انہیں رکنے کا حکم تھا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب انسان اپنے مقصد سے بھٹک جاتا ہے یا اس جگہ سے آگے نکل جاتا ہے جہاں اسے رکنا تھا، تو اسے تھکاوٹ اور مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر چلتے ہوئے جب ہم اپنے مقصد کی طرف بڑھتے ہیں، تو اللہ ہماری مدد کرتا ہے، لیکن جب ہم غفلت کا شکار ہو کر راستہ بھول جاتے ہیں، تو پھر مشقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس آیت میں ایک اور سبق یہ بھی ہے کہ سفر میں کھانے کا اہتمام کرنا چاہیے، اور اپنے ساتھیوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم سے نہایت نرمی اور محبت کے ساتھ کھانا طلب کیا، جو ہمارے لیے ایک بہترین نمونہ ہے کہ ہم اپنے ماتحتوں اور ساتھیوں کے ساتھ حسن سلوک کریں۔

یہ واقعہ اس عظیم سفر کا حصہ ہے جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک خاص بندے (حضرت خضر علیہ السلام) سے ملنے کے لیے نکلے تھے، تاکہ علمِ لدنی حاصل کریں۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ علم حاصل کرنے کے لیے مشقتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں، اور جب تک ہم اپنے مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد نہیں کریں گے، کامیابی نہیں ملے گی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین کی سمجھ عطا فرمائے اور ہمیں علم حاصل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 60-64 — کہف

60وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِفَتَاهُ لَا أَبْرَحُ حَتَّىٰ أَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَيْنِ أَوْ أَمْضِيَ حُقُبًا
اور جب موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ جب تک دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں خواہ برسوں چلتا رہوں
61فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا
جب ان کے ملنے کے مقام پر پہنچے تو اپنی مچھلی بھول گئے تو اس نے دریا میں سرنگ کی طرح اپنا رستہ بنالیا
62فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِن سَفَرِنَا هَٰذَا نَصَبًا
جب آگے چلے تو (موسیٰ نے) اپنے شاگرد سے کہا کہ ہمارے لئے کھانا لاؤ۔ اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی ہے
63قَالَ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ ۚ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا
(اس نے) کہا کہ بھلا آپ نے دیکھا کہ جب ہم نے پتھر کے ساتھ آرام کیا تھا تو میں مچھلی (وہیں) بھول گیا۔ اور مجھے (آپ سے) اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا۔ اور اس نے عجب طرح سے دریا میں اپنا رستہ لیا
64قَالَ ذَٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ ۚ فَارْتَدَّا عَلَىٰ آثَارِهِمَا قَصَصًا
(موسیٰ نے) کہا یہی تو (وہ مقام) ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے تو وہ اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے
کہفقرآن فہرست
110آیت
مکیRevelation
62آیت

ترجمہ — کہف 62

سورہ کہف آیت 62 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جب آگے چلے تو (موسیٰ نے) اپنے شاگرد سے کہا…

سورہ آیت 62/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 60–64. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں