ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- خَرَقَهَا: اس نے کشتی کو چیر دیا، یعنی کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ کر نکال دیا۔
- إِمْرًا: بہت بڑا، نہایت منکر اور سخت برا کام۔
تفسیر آیت:
پھر دونوں (حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام) چلتے رہے یہاں تک کہ وہ سمندر کے کنارے پہنچے، وہاں ایک کشتی ملی۔ انہوں نے کشتی والوں سے درخواست کی کہ ہمیں اپنی کشتی میں سوار کر لیں۔ کشتی والوں نے انہیں بغیر کسی اجرت کے سوار کر لیا، کیونکہ وہ حضرت خضر علیہ السلام کی تعظیم کرتے تھے۔ جب دونوں کشتی میں سوار ہو گئے اور کشتی دریا کے بیچوں بیچ پہنچی تو حضرت خضر علیہ السلام نے جان بوجھ کر کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ کر اسے چیر دیا، تاکہ کشتی میں پانی داخل ہونے لگے۔
یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام بہت متعجب ہوئے اور انہوں نے فوراً اعتراض کیا: "کیا آپ نے کشتی کو اس لیے چیرا ہے تاکہ اس کے سواروں کو ڈبو دیں؟ یہ تو بہت ہی برا اور منکر کام ہے جو آپ نے کیا ہے۔" حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ اعتراض بالکل فطری تھا، کیونکہ ظاہری طور پر یہ کام نہایت نقصان دہ اور خطرناک تھا، خاص کر ایسے لوگوں کے ساتھ جنہوں نے انہیں مفت میں سوار کیا تھا۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کی نگاہیں محدود ہوتی ہیں، ہم صرف ظاہری صورت حال دیکھتے ہیں، لیکن اللہ کے نیک بندوں کے اعمال میں جو حکمت اور مصلحت پوشیدہ ہوتی ہے، وہ ہماری سمجھ سے باہر ہوتی ہے۔ اس لیے ہمیں اللہ کے فیصلوں پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ جو کچھ کرتا ہے، بھلائی ہی کے لیے کرتا ہے۔
یہ قصہ ہمیں صبر اور اعتماد کا درس دیتا ہے کہ جب ہمیں کوئی بات سمجھ نہ آئے تو ہمیں جلدی نہیں کرنی چاہیے، بلکہ اللہ کی حکمت پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی جلد بازی کی، لیکن حضرت خضر علیہ السلام نے انہیں صبر کی تلقین کی، کیونکہ علمِ الٰہی کی گہرائیوں تک پہنچنے کے لیے صبر ہی کلید ہے۔
📜 آیت 69-73 — کہف
ترجمہ — کہف 71
سورہ آیت 71/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 69–73. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








