اس آیت میں حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اُس بچے کے قتل کی حکمت سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے چاہا کہ ان کے رب ان دونوں ماں باپ کو اس بچے کے بدلے ایسا بچہ عطا فرمائے جو پاکیزگی، صلاح اور تقویٰ میں اس سے بہتر ہو، اور اپنے والدین کے ساتھ زیادہ محبت، شفقت اور نرمی رکھنے والا ہو۔
یہاں اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتے ہیں کہ بعض اوقات جو چیز ظاہری طور پر نقصان دہ نظر آتی ہے، وہ دراصل بندے کے لیے رحمت ہوتی ہے۔ یہ بچہ اپنے کفر و سرکشی کی وجہ سے اپنے والدین کو بھی گمراہ کرنے کا سبب بن سکتا تھا، اس لیے اللہ نے اپنی حکمت سے اسے اٹھا لیا اور والدین کو اس سے بہتر اولاد عطا فرمائی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ رب العالمین اپنے بندوں کے ساتھ بے حد مہربان ہے۔ وہ جو کچھ بھی کرتا ہے، بندے کی بھلائی کے لیے کرتا ہے۔ جب ہم کسی مصیبت یا پریشانی میں مبتلا ہوں تو ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ اس میں بھی کوئی حکمت اور بھلائی چھپی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو ان کی آزمائشوں کا بدلہ ضرور دیتا ہے، اور جو چیز وہ چھینتا ہے، اس سے بہتر عطا فرماتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھیں، صبر کریں اور اس کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ یاد رکھیں، اللہ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے، اور وہ اپنے بندوں کے ساتھ ہمیشہ بھلائی کا ارادہ رکھتا ہے۔
(کہ وہ جو) کشتی (تھی) غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت (کرکے یعنی کشتیاں چلا کر گذارہ) کرتے تھے۔ اور ان کے سامنے (کی طرف) ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں (تاکہ وہ اسے غصب نہ کرسکے)
اور وہ جو دیوار تھی سو وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی (جو) شہر میں (رہتے تھے) اور اس کے نیچے ان کا خزانہ (مدفون) تھا اور ان کا باپ ایک نیک بخت آدمی تھا۔ تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور (پھر) اپنا خزانہ نکالیں۔ یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے۔ اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کئے۔ یہ ان باتوں کا راز ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔