Illal lazeena taaboo wa aslahoo wa baiyanoo fa ulaaa`ika atoobu `alaihim; wa Anat Tawwaabur Raheem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
ہاں جو توبہ کرتے ہیں اور اپنی حالت درست کرلیتے اور (احکام الہیٰ کو) صاف صاف بیان کردیتے ہیں تو میں ان کے قصور معاف کردیتا ہوں اور میں بڑا معاف کرنے والا (اور) رحم والا ہوں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
مگر آنها كه توبه كردند و به صلاح آمدند و آنچه پنهان داشته بودند آشكار ساختند، كه توبهشان را مىپذيرم و من توبهپذير و مهربانم.
ہاں جو توبہ کرتے ہیں اور اپنی حالت درست کرلیتے اور (احکام الہیٰ کو) صاف صاف بیان کردیتے ہیں تو میں ان کے قصور معاف کردیتا ہوں اور میں بڑا معاف کرنے والا (اور) رحم والا ہوں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
تابوا: توبہ کیا، گناہوں سے باز آئے اور اللہ سے معافی مانگی۔
أصلحوا: اپنے اعمال کو درست کیا، نیک اعمال کیے۔
بینوا: ظاہر کیا، واضح کیا، جو کچھ چھپایا تھا اسے بیان کر دیا۔
أتوب علیہم: میں ان کی توبہ قبول کرتا ہوں، ان پر رحمت کی نظر ڈالتا ہوں۔
التواب: بار بار توبہ قبول کرنے والا۔
الرحیم: بہت رحم فرمانے والا۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے آیت میں ان لوگوں پر لعنت کا ذکر کیا تھا جو ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے، لوگوں کو راہِ حق سے روکتے رہے، اور رسول اللہ ﷺ کی نشانیوں اور صفات کو چھپاتے رہے۔ اب اس آیت میں اللہ تعالیٰ رحمت کا دروازہ کھولتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس سخت وعید سے مستثنیٰ وہ لوگ ہیں جو توبہ کر لیں، یعنی اپنے کفر اور گناہوں پر نادم ہو کر اللہ کی طرف رجوع کریں، اپنے اعمال کو درست کر لیں، اور جو حق چھپایا تھا اسے لوگوں کے سامنے بیان کر دیں۔ ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور رحمت کا وعدہ فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں ان کی توبہ قبول کرتا ہوں، ان کے گناہ معاف کرتا ہوں، اور انہیں اپنی رحمت سے نوازتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ اپنی صفات بیان فرماتے ہیں کہ وہ "التواب" ہے یعنی بار بار توبہ قبول کرنے والا، اور "الرحیم" ہے یعنی اپنے بندوں پر بے حد رحم فرمانے والا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا بہت خوبصورت پہلو نمایاں ہے۔ انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔ چاہے انسان کتنا ہی بڑا گناہ کر بیٹھے، اگر وہ خلوص دل سے توبہ کرے، اپنے حال کو درست کرے، اور حق کو ظاہر کرے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیتے ہیں۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ مایوسی کبھی نہیں کرنی چاہیے، اللہ کی رحمت اس کے غضب سے زیادہ وسیع ہے۔ جو شخص اپنی غلطی پر نادم ہو کر اللہ کی طرف لوٹتا ہے، اللہ اسے خوش آمدید کہتا ہے اور اسے اپنی بخشش سے نوازتا ہے۔ یہی اللہ کا وعدہ ہے، اور اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہمیشہ اللہ کی رحمت سے امید رکھیں، اپنے گناہوں پر نادم ہوں، اور اپنی زندگی کو اللہ کے احکام کے مطابق ڈھالیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اور ان کی توبہ قبول فرمانا اس کی سنت ہے۔
بےشک (کوہ) صفا اور مروہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں۔ تو جو شخص خانہٴ کعبہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ دونوں کا طواف کرے۔ (بلکہ طواف ایک قسم کا نیک کام ہے) اور جو کوئی نیک کام کرے تو خدا قدر شناس اور دانا ہے
جو لوگ ہمارے حکموں اور ہدایتوں کو جو ہم نے نازل کی ہیں (کسی غرض فاسد سے) چھپاتے ہیں باوجود یہ کہ ہم نے ان لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اپنی کتاب میں کھول کھول کر بیان کردیا ہے۔ ایسوں پر خدا اور تمام لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں
ہاں جو توبہ کرتے ہیں اور اپنی حالت درست کرلیتے اور (احکام الہیٰ کو) صاف صاف بیان کردیتے ہیں تو میں ان کے قصور معاف کردیتا ہوں اور میں بڑا معاف کرنے والا (اور) رحم والا ہوں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔