Fa-izan qadaitum manaa sikakum fazkurul laaha kazikrikum aabaaa`akum aw ashadda zikraa; faminannaasi mai yaqoolu Rabbanaaa aatinaa fiddunyaa wa maa lahoo fil Aakhirati min khalaaq
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
پھر جب حج کے تمام ارکان پورے کرچکو تو (منیٰ میں) خدا کو یاد کرو۔ جس طرح اپنے باپ دادا کو یاد کیا کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بعض لوگ ایسے ہیں جو (خدا سے) التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو (جو دنیا ہے) دنیا ہی میں عنایت کر ایسے لوگوں کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
چون مناسكتان را به جاى آورديد، همچنان كه پدران خويش را ياد مىكرديد -حتى بيشتر از آن- خداى را ياد كنيد. برخى از مردم مىگويند: اى پروردگار ما، ما را در دنيا چيزى بخش. اينان را در آخرت نصيبى نيست.
پھر جب حج کے تمام ارکان پورے کرچکو تو (منیٰ میں) خدا کو یاد کرو۔ جس طرح اپنے باپ دادا کو یاد کیا کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بعض لوگ ایسے ہیں جو (خدا سے) التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو (جو دنیا ہے) دنیا ہی میں عنایت کر ایسے لوگوں کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
مَنَاسِکَ: حج کے وہ اعمال جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے طور پر ادا کیے جائیں۔
قَضَیتُم: مکمل کر لو، ادا کر لو۔
خَلَاق: نصیب، حصہ، بھلا۔
تفسیرِ آیات:
جب تم اپنے حج کے تمام مناسک اور عبادات مکمل کر لو، اور اپنے ذبیحوں کو ذبح کر لو، تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرو، اس کی حمد و ثنا بیان کرو، اور اس کی عظمت کو یاد کرو۔ جس طرح تم اپنے آباء و اجداد کے کارناموں اور مفاخر کو فخر کے ساتھ یاد کیا کرتے تھے، اسی طرح یا اس سے بھی زیادہ شدت اور محبت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرو۔ کیونکہ تمہیں جو بھی نعمت حاصل ہے، وہ اسی کا فضل ہے، اس لیے اس کا ذکر سب سے زیادہ حق دار ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی مختلف اقسام کی طرف اشارہ فرمایا۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو صرف دنیا کے طلب گار ہیں، ان کی ساری توجہ دنیا کی خوشحالی پر مرکوز ہے۔ وہ حج کے دوران بھی صرف یہی دعا مانگتے ہیں: "اے ہمارے رب! ہمیں دنیا ہی میں سب کچھ دے دے" یعنی صحت، مال، اولاد اور دنیوی آسائشیں۔ ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں، کیونکہ انہوں نے آخرت کو نظر انداز کر دیا اور صرف دنیا کو ہی اپنا مقصد بنا لیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ مسلمان کا مقصدِ حیات صرف دنیا کی کامیابی نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اسے آخرت کی کامیابی کو بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ حج جیسی عظیم عبادت کے بعد اللہ کا ذکر کرنا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر نعمت کا خالق و مالک صرف اللہ ہے، اور ہمیں اپنی زندگی کے ہر لمحے میں اس کا شکر گزار بندہ بننا چاہیے۔ افسوس کہ بہت سے لوگ صرف دنیا کے حصول میں لگے رہتے ہیں اور آخرت کو بھول جاتے ہیں، حالانکہ اصل کامیابی تو آخرت ہی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی کی دعا کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
اس کا تمہیں کچھ گناہ نہیں کہ (حج کے دنوں میں بذریعہ تجارت) اپنے پروردگار سے روزی طلب کرو اور جب عرفات سے واپس ہونے لگو تو مشعر حرام (یعنی مزدلفے) میں خدا کا ذکر کرو اور اس طرح ذکر کرو جس طرح اس نے تم کو سکھایا۔ اور اس سے پیشتر تم لوگ (ان طریقوں سے) محض ناواقف تھے
پھر جب حج کے تمام ارکان پورے کرچکو تو (منیٰ میں) خدا کو یاد کرو۔ جس طرح اپنے باپ دادا کو یاد کیا کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بعض لوگ ایسے ہیں جو (خدا سے) التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو (جو دنیا ہے) دنیا ہی میں عنایت کر ایسے لوگوں کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔