بقرہ · 285/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
ءَامَنَ ٱلرَّسُولُ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِ مِن رَّبِّهِۦ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَۚ كُلٌّ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِۦۚ وَقَالُواْ سَمِعۡنَا وَأَطَعۡنَاۖ غُفۡرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيۡكَ ٱلۡمَصِيرُ  ۝٢٨٥
Aamanar-Rasoolu bimaaa unzila ilaihi mir-Rabbihee walmu`minoon; kullun aamana billaahi wa Malaaa`ikathihee wa Kutubhihee wa Rusulih laa nufarriqu baina ahadim-mir-Rusulihee wa qaaloo sami`naa wa ata`naa ghufraanaka Rabbanaa wa ilaikal-maseer
📖 اردو ترجمہ
رسول (خدا) اس کتاب پر جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور مومن بھی۔ سب خدا پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں (اورکہتے ہیں کہ) ہم اس کے پیغمبروں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور وہ (خدا سے) عرض کرتے ہیں کہ ہم نے (تیرا حکم) سنا اور قبول کیا۔ اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

آیت نمبر 285

معانی الفاظ:

  • آمَنَ الرَّسُولُ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان لایا، یعنی پورے یقین اور دل کی گہرائی سے تصدیق کی۔
  • بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ: اس وحی اور قرآن پر جو ان کے رب کی طرف سے ان پر نازل ہوئی۔
  • لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ: ہم اللہ کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے، یعنی سب کو مانتے ہیں۔
  • غُفْرَانَكَ: تیری بخشش چاہتے ہیں، اے ہمارے رب!
  • وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ: اور تیری ہی طرف سب کی بازگشت اور لوٹ کر جانا ہے۔

تفسیر:

یہ آیت ایمان کی انتہائی خوبصورت اور جامع تصویر پیش کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پوری وحی پر ایمان لایا جو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل ہوئی، اور آپ کے ساتھ ساتھ مومنین نے بھی اسی طرح ایمان لایا۔ یہ ایمان محض زبانی اقرار نہیں بلکہ دل کی گہرائی سے تصدیق اور عملی اطاعت کا نام ہے۔

ہر مومن کا ایمان ان چیزوں پر مشتمل ہے: اللہ تعالیٰ پر ایمان کہ وہی واحد رب اور معبود ہے، اس کی تمام صفاتِ جلال اور کمال پر یقین، اس کے فرشتوں پر ایمان جو کرم والے اور اللہ کے حکم کے پابند ہیں، اس کی تمام کتابوں پر ایمان جو اس نے اپنے انبیاء پر نازل فرمائیں، اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان۔ مومنین کا طرۂ امتیاز یہ ہے کہ وہ رسولوں میں تفریق نہیں کرتے، جیسا کہ یہود و نصاریٰ نے کیا کہ بعض کو مانا اور بعض کا انکار کیا، بلکہ مومنین سب رسولوں کو مانتے ہیں اور سب کا احترام کرتے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین کی زبان پر یہ دعا جاری ہے: "ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی" یعنی ہم نے آپ کے احکام کو کان لگا کر سنا اور دل و جان سے ان پر عمل کیا، جو آپ نے حکم دیا اسے کیا اور جس سے منع فرمایا اس سے رک گئے۔ پھر وہ عاجزی اور نیازمندی سے عرض کرتے ہیں: "اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش چاہتے ہیں، تو نے ہم پر جو احسانات اور نعمتیں فرمائی ہیں ان کا ہم شکر ادا نہیں کر سکتے، اور ہمارا انجام اور بازگشت تو ہی کی طرف ہے۔"

دعوتی پہلو:

پیارے مسلمانو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ایمان کا تقاضا صرف زبان سے اقرار نہیں بلکہ دل سے تصدیق اور اعضاء سے عمل ہے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں "سمعنا وأطعنا" تو ہم اللہ سے عہد کرتے ہیں کہ ہم اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کریں گے۔ یہی وہ عظیم مقام ہے جو مومن کو دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔ آئیے ہم اپنے ایمان کو تازہ کریں، رسولوں کے ساتھ محبت اور ادب کو اپنے دلوں میں بٹھائیں، اور اللہ سے بخشش مانگتے رہیں، کیونکہ ہمارا انجام اسی کی طرف ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا میں سکون اور آخرت میں کامیابی عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں کامل ایمان اور اس پر استقامت نصیب فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 283-286 — بقرہ

283۞ وَإِن كُنتُمۡ عَلَىٰ سَفَرٍ وَلَمۡ تَجِدُواْ كَاتِبًا فَرِهَٰنٌ مَّقۡبُوضَةٌۖ فَإِنۡ أَمِنَ بَعۡضُكُم بَعۡضًا فَلۡيُؤَدِّ ٱلَّذِي ٱؤۡتُمِنَ أَمَٰنَتَهُۥ وَلۡيَتَّقِ ٱللَّهَ رَبَّهُۥۗ وَلَا تَكۡتُمُواْ ٱلشَّهَٰدَةَۚ وَمَن يَكۡتُمۡهَا فَإِنَّهُۥٓ ءَاثِمٌ قَلۡبُهُۥۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ عَلِيمٌ 
اور اگر تم سفر پر ہواور (دستاویز) لکھنے والا مل نہ سکے تو (کوئی چیز) رہن یا قبضہ رکھ کر (قرض لے لو) اور اگر کوئی کسی کو امین سمجھے (یعنی رہن کے بغیر قرض دیدے) تو امانتدار کو چاہیئے کہ صاحب امانت کی امانت ادا کردے اور خدا سے جو اس کا پروردگار ہے ڈرے۔اور (دیکھنا) شہادت کو مت چھپانا۔ جو اس کو چھپائے گا وہ دل کا گنہگار ہوگا۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
284لِّلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ وَإِن تُبۡدُواْ مَا فِيٓ أَنفُسِكُمۡ أَوۡ تُخۡفُوهُ يُحَاسِبۡكُم بِهِ ٱللَّهُۖ فَيَغۡفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيرٌ 
جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ تم اپنے دلوں کی بات کو ظاہر کرو گے تو یا چھپاؤ گے تو خدا تم سے اس کا حساب لے گا پھر وہ جسے چاہے مغفرت کرے اور جسے چاہے عذاب دے۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
285ءَامَنَ ٱلرَّسُولُ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِ مِن رَّبِّهِۦ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَۚ كُلٌّ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِۦۚ وَقَالُواْ سَمِعۡنَا وَأَطَعۡنَاۖ غُفۡرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيۡكَ ٱلۡمَصِيرُ 
رسول (خدا) اس کتاب پر جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور مومن بھی۔ سب خدا پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں (اورکہتے ہیں کہ) ہم اس کے پیغمبروں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور وہ (خدا سے) عرض کرتے ہیں کہ ہم نے (تیرا حکم) سنا اور قبول کیا۔ اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے
286لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَاۚ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَعَلَيۡهَا مَا ٱكۡتَسَبَتۡۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذۡنَآ إِن نَّسِينَآ أَوۡ أَخۡطَأۡنَاۚ رَبَّنَا وَلَا تَحۡمِلۡ عَلَيۡنَآ إِصۡرًا كَمَا حَمَلۡتَهُۥ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِنَاۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلۡنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِۦۖ وَٱعۡفُ عَنَّا وَٱغۡفِرۡ لَنَا وَٱرۡحَمۡنَآۚ أَنتَ مَوۡلَىٰنَا فَٱنصُرۡنَا عَلَى ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡكَٰفِرِينَ 
خدا کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اچھے کام کرے گا تو اس کو ان کا فائدہ ملے گا برے کرے گا تو اسے ان کا نقصان پہنچے گا۔ اے پروردگار اگر ہم سے بھول یا چوک ہوگئی ہو تو ہم سے مؤاخذہ نہ کیجیو۔ اے پروردگار ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالیو جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے پروردگار جتنا بوجھ اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں اتنا ہمارے سر پر نہ رکھیو۔ اور (اے پروردگار) ہمارے گناہوں سے درگزر کر اور ہمیں بخش دے۔ اور ہم پر رحم فرما۔ تو ہی ہمارا مالک ہے اور ہم کو کافروں پر غالب فرما
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
285آیت

ترجمہ — بقرہ 285

سورہ آیت 285/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 283–286. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں