بقرہ · 59/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ فَأَنزَلْنَا عَلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا رِجْزًا مِّنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ ۝٥٩
Fabaddalal lazeena zalamoo qawlan ghairal lazee qeela lahum fa anzalnaa `alal lazeena zalamoo rijzam minas samaaa`i bimaa kaanoo yafsuqoon
📖 اردو ترجمہ
تو جو ظالم تھے، انہوں نے اس لفظ کو، جس کا ان کو حکم دیا تھا، بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا، پس ہم نے (ان) ظالموں پر آسمان سے عذاب نازل کیا، کیونکہ نافرمانیاں کئے جاتے تھے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • بَدَّلَ: تبدیل کیا، بدل دیا۔
  • ظَلَمُوا: جنہوں نے ظلم کیا، یعنی اپنی جانوں پر ظلم کیا۔
  • قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ: وہ بات کہی جو انہیں کہنے کو نہیں کہی گئی تھی، یعنی حکم کی مخالفت کی۔
  • رِجْزًا: عذاب، سزا۔
  • يَفْسُقُونَ: نافرمانی کرتے ہیں، حکم سے باہر نکل جاتے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ وہ شہر میں داخل ہوتے وقت عاجزی اور انکساری کے ساتھ داخل ہوں اور زبان سے "حِطَّة" (یعنی اے اللہ! ہمارے گناہ معاف فرما) کہیں، لیکن ان ظالموں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ انہوں نے نہ صرف قول کو تبدیل کیا بلکہ عمل کو بھی مسخ کر دیا۔ حکم تھا کہ جھک کر عاجزی سے داخل ہوں، مگر وہ الٹے پاؤں (پیٹھ کے بل) گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے، اور زبان سے جو کہنا تھا اس کے بجائے طنزاً کہا: "حَبَّةٌ فِي شَعَرَةٍ" (یعنی دانہ بال میں)۔ یہ ان کی شرارت اور استہزاء تھا کہ انہوں نے اللہ کے حکم کو مذاق بنا لیا۔

انہوں نے قول اور فعل دونوں میں تبدیلی کی، حالانکہ قول میں تبدیلی آسان تھی، پھر بھی انہوں نے وہ نہ کہا جو کہا گیا تھا۔ جب وہ اللہ کے حکم کی اتنی بے ادبی کرنے والے تھے، تو ان کا فعل کی تبدیلی سے بھی باز نہ آنا یقینی تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس نافرمانی اور سرکشی کی وجہ سے ان پر آسمان سے عذاب نازل فرمایا۔ مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ یہ عذاب طاعون کی صورت میں آیا جس نے ان میں سے بہت سے لوگوں کو ہلاک کر دیا۔

یہ عذاب ان کے فسق و فجور کا نتیجہ تھا، کیونکہ وہ اللہ کے احکام سے باہر نکل گئے تھے اور مسلسل نافرمانی پر اصرار کر رہے تھے۔

دعوتی پہلو:

اس واقعہ میں ہمارے لیے بڑی عبرت اور نصیحت ہے کہ اللہ کے حکم کو سن کر اس پر عمل کرنا چاہیے، نہ کہ اسے بدلنا یا اس کا مذاق اڑانا۔ آج بھی بہت سے لوگ اللہ کے احکام کو سنتے ہیں لیکن اپنی خواہشات کے مطابق ان میں تبدیلی کر لیتے ہیں، یا ان پر ہنستے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ قرآن و سنت کو سامنے رکھ کر اپنی زندگی گزاریں، کیونکہ اللہ کا عذاب صرف پہلی امتوں کے لیے نہیں تھا، بلکہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو اللہ کے حکم کو بدلے یا اس کا استہزاء کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے احکام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان ظالموں کے انجام سے بچائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 57-61 — بقرہ

57وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَىٰ ۖ كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ ۖ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَٰكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
اور بادل کا تم پر سایہ کئے رکھا اور (تمہارے لیے) من و سلویٰ اتارتے رہے کہ جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائی ہیں، ان کو کھاؤ (پیو) مگر تمہارے بزرگوں نے ان نعمتوں کی کچھ قدر نہ جانی (اور) وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑتے تھے بلکہ اپنا ہی نقصان کرتے تھے
58وَإِذْ قُلْنَا ادْخُلُوا هَٰذِهِ الْقَرْيَةَ فَكُلُوا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ ۚ وَسَنَزِيدُ الْمُحْسِنِينَ
اور جب ہم نے (ان سے) کہا کہ اس گاؤں میں داخل ہو جاؤ اور اس میں جہاں سے چاہو، خوب کھاؤ (پیو) اور (دیکھنا) دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا اور حطة کہنا، ہم تمہارے گناہ معاف کر دیں گے اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے
59فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ فَأَنزَلْنَا عَلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا رِجْزًا مِّنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ
تو جو ظالم تھے، انہوں نے اس لفظ کو، جس کا ان کو حکم دیا تھا، بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا، پس ہم نے (ان) ظالموں پر آسمان سے عذاب نازل کیا، کیونکہ نافرمانیاں کئے جاتے تھے
60۞ وَإِذِ اسْتَسْقَىٰ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ فَقُلْنَا اضْرِب بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ ۖ فَانفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا ۖ قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ ۖ كُلُوا وَاشْرَبُوا مِن رِّزْقِ اللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے (خدا سے) پانی مانگا تو ہم نے کہا کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مارو۔ (انہوں نے لاٹھی ماری) تو پھر اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، اور تمام لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کر (کے پانی پی) لیا۔ (ہم نے حکم دیا کہ) خدا کی (عطا فرمائی ہوئی) روزی کھاؤ اور پیو، مگر زمین میں فساد نہ کرتے پھرنا
61وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَىٰ لَن نَّصْبِرَ عَلَىٰ طَعَامٍ وَاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنبِتُ الْأَرْضُ مِن بَقْلِهَا وَقِثَّائِهَا وَفُومِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَا ۖ قَالَ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَىٰ بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ ۚ اهْبِطُوا مِصْرًا فَإِنَّ لَكُم مَّا سَأَلْتُمْ ۗ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ ۗ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۗ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا وَّكَانُوا يَعْتَدُونَ
اور جب تم نے کہا کہ موسیٰ! ہم سے ایک (ہی) کھانے پر صبر نہیں ہو سکتا تو اپنے پروردگار سے دعا کیجئے کہ ترکاری اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز (وغیرہ) جو نباتات زمین سے اُگتی ہیں، ہمارے لیے پیدا کر دے۔ انہوں نے کہا کہ بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہوں۔ (اگر یہی چیزیں مطلوب ہیں) تو کسی شہر میں جا اترو، وہاں جو مانگتے ہو، مل جائے گا۔ اور (آخرکار) ذلت (ورسوائی) اور محتاجی (وبے نوائی) ان سے چمٹا دی گئی اور وہ الله کے غضب میں گرفتار ہو گئے۔ یہ اس لیے کہ وہ الله کی آیتوں سے انکار کرتے تھے اور (اس کے) نبیوں کو ناحق قتل کر دیتے تھے۔ (یعنی) یہ اس لیے کہ نافرمانی کئے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے تھے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
59آیت

ترجمہ — بقرہ 59

سورہ بقرہ آیت 59 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو جو ظالم تھے، انہوں نے اس لفظ کو، جس…

سورہ آیت 59/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 57–61. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں