بقرہ · 58/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَإِذْ قُلْنَا ادْخُلُوا هَٰذِهِ الْقَرْيَةَ فَكُلُوا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ ۚ وَسَنَزِيدُ الْمُحْسِنِينَ ۝٥٨
Wa iz qulnad khuloo haazihil qaryata fakuloo minhaa haisu shi`tum raghadanw wadkhulul baaba sujjadanw wa qooloo hittatun naghfir lakum khataayaakum; wa sanazeedul muhsineen
📖 اردو ترجمہ
اور جب ہم نے (ان سے) کہا کہ اس گاؤں میں داخل ہو جاؤ اور اس میں جہاں سے چاہو، خوب کھاؤ (پیو) اور (دیکھنا) دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا اور حطة کہنا، ہم تمہارے گناہ معاف کر دیں گے اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • رَغَدًا: فراخی اور آسودگی کے ساتھ، کشادہ روزی
  • سُجَّدًا: جھکے ہوئے، عاجزی اور خشوع کے ساتھ (یہاں سجدہ یا رکوع کی حالت مراد ہے)
  • حِطَّةٌ: ہمارے گناہ معاف فرما دے، بخشش کی دعا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے عظیم احسانات یاد دلاتا ہے کہ جب بنی اسرائیل کو صحرائے سینا میں چالیس سال کی آوارگی (تیہ) کے بعد نجات ملی، تو انہیں حکم دیا گیا کہ بیت المقدس (فلسطین) کے مقدس شہر میں داخل ہو جاؤ۔ یہ شہر ان کے لیے ایک عظیم انعام تھا، جہاں کی زمین سرسبز اور پھلدار تھی۔ اللہ نے فرمایا: اس شہر میں جہاں سے چاہو، جتنا چاہو کھاؤ، تمہارے لیے یہ سب حلال اور پاکیزہ ہے، تمہیں کسی قسم کی تنگی یا پابندی نہیں۔

لیکن ساتھ ہی دو شرطیں بھی لگائی گئیں:

  1. دروازے سے جھک کر داخل ہونا: یعنی عاجزی اور انکساری کے ساتھ داخل ہونا، نہ کہ غرور اور تکبر کے ساتھ۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ وہ اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں۔
  2. زبان سے استغفار کرنا: یعنی یہ دعا کرنا کہ "اے ہمارے رب! ہمارے گناہ معاف فرما دے۔" یہ اس بات کا اظہار تھا کہ وہ اپنی کوتاہیوں اور خطاؤں کا اعتراف کرتے ہیں اور اللہ سے بخشش طلب کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ اگر وہ ان شرائط کو پورا کریں گے، تو اللہ ان کے گناہ معاف فرما دے گا، ان کی خطاؤں پر پردہ ڈال دے گا۔ اور جو لوگ اس سے بھی بڑھ کر نیکی کریں گے، یعنی احسان کریں گے، انہیں اللہ اپنے فضل سے مزید اجر و ثواب عطا فرمائے گا۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔ جب بھی ہم اپنے گناہوں پر پشیمان ہو کر اللہ کی طرف رجوع کریں، تو وہ ہمیں معاف فرما دیتا ہے۔ اللہ نے بنی اسرائیل کو جو موقع دیا، وہی موقع ہمیں بھی دیا گیا ہے کہ ہم توبہ اور استغفار کے ذریعے اپنے گناہوں کو مٹا سکتے ہیں۔

اس آیت سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے کہ کامیابی کا راستہ عاجزی اور انکساری میں ہے، نہ کہ تکبر میں۔ جب ہم اللہ کے سامنے جھکیں گے، تو اللہ ہمیں عزت دے گا۔ اور یاد رکھیں، اللہ کی رحمت صرف معافی تک محدود نہیں، بلکہ وہ احسان کرنے والوں کو مزید نوازتا ہے۔ تو آئیے ہم بھی اپنی زندگیوں میں استغفار کو اپنائیں، عاجزی اختیار کریں، اور نیکیوں میں سبقت کریں تاکہ اللہ کی رحمت اور فضل کے مستحق بن سکیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 56-60 — بقرہ

56ثُمَّ بَعَثْنَاكُم مِّن بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
پھر موت آ جانے کے بعد ہم نے تم کو ازسرِ نو زندہ کر دیا، تاکہ احسان مانو
57وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَىٰ ۖ كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ ۖ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَٰكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
اور بادل کا تم پر سایہ کئے رکھا اور (تمہارے لیے) من و سلویٰ اتارتے رہے کہ جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائی ہیں، ان کو کھاؤ (پیو) مگر تمہارے بزرگوں نے ان نعمتوں کی کچھ قدر نہ جانی (اور) وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑتے تھے بلکہ اپنا ہی نقصان کرتے تھے
58وَإِذْ قُلْنَا ادْخُلُوا هَٰذِهِ الْقَرْيَةَ فَكُلُوا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ ۚ وَسَنَزِيدُ الْمُحْسِنِينَ
اور جب ہم نے (ان سے) کہا کہ اس گاؤں میں داخل ہو جاؤ اور اس میں جہاں سے چاہو، خوب کھاؤ (پیو) اور (دیکھنا) دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا اور حطة کہنا، ہم تمہارے گناہ معاف کر دیں گے اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے
59فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ فَأَنزَلْنَا عَلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا رِجْزًا مِّنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ
تو جو ظالم تھے، انہوں نے اس لفظ کو، جس کا ان کو حکم دیا تھا، بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا، پس ہم نے (ان) ظالموں پر آسمان سے عذاب نازل کیا، کیونکہ نافرمانیاں کئے جاتے تھے
60۞ وَإِذِ اسْتَسْقَىٰ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ فَقُلْنَا اضْرِب بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ ۖ فَانفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا ۖ قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ ۖ كُلُوا وَاشْرَبُوا مِن رِّزْقِ اللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے (خدا سے) پانی مانگا تو ہم نے کہا کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مارو۔ (انہوں نے لاٹھی ماری) تو پھر اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، اور تمام لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کر (کے پانی پی) لیا۔ (ہم نے حکم دیا کہ) خدا کی (عطا فرمائی ہوئی) روزی کھاؤ اور پیو، مگر زمین میں فساد نہ کرتے پھرنا
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
58آیت

ترجمہ — بقرہ 58

سورہ بقرہ آیت 58 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب ہم نے (ان سے) کہا کہ اس گاؤں…

سورہ آیت 58/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 56–60. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں