Wa iz akhaznaa meesaaqakum wa rafa`naa fawqakumut Toora khuzoo maaa aatainaakum biquwwatinw wazkuroo maa feehi la`allakum tattaqoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جب ہم نے تم سے عہد (کر) لیا اور کوہِ طُور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا) کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے، اس کو زور سے پکڑے رہو، اور جو اس میں (لکھا) ہے، اسے یاد رکھو، تاکہ (عذاب سے) محفوظ رہو
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و به ياد آريد آن زمان را كه با شما پيمان بستيم و كوه طور را بر فراز سرتان بداشتيم. آنچه را كه به شما دادهايم با اطمينان بگيريد و آنچه را كه در آن است به خاطر بسپاريد. باشد كه پرهيزگار شويد.
اور جب ہم نے تم سے عہد (کر) لیا اور کوہِ طُور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا) کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے، اس کو زور سے پکڑے رہو، اور جو اس میں (لکھا) ہے، اسے یاد رکھو، تاکہ (عذاب سے) محفوظ رہو
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
مِيثَاقَكُمْ: تم سے مضبوط عہد و پیمان
الطُّورَ: پہاڑ (خاص طور پر کوہِ سینا)
بِقُوَّةٍ: پوری قوت و استقامت کے ساتھ، جدوجہد اور محنت سے
تَتَّقُونَ: پرہیزگار بنو، اللہ کے عذاب سے بچو
تفسیر:
اے بنی اسرائیل! اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے تم سے مضبوط عہد لیا تھا کہ تم اللہ پر ایمان لاؤ گے، اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرو گے، اور اس کی نازل کردہ کتاب (تورات) پر عمل کرو گے۔ اس عہد کی پختگی کے لیے ہم نے تمہارے اوپر کوہِ طور کو بلند کیا تھا، یہاں تک کہ وہ تمہارے سروں پر سایہ فگن تھا، اور تمہیں ڈرایا گیا کہ اگر تم نے عہد توڑا تو یہ پہاڑ تم پر گرا دیا جائے گا۔ اس وقت ہم نے کہا: "جو کتاب ہم نے تمہیں دی ہے اسے پوری قوت، جدوجہد اور استقامت کے ساتھ پکڑو، اس میں جو احکام ہیں انہیں حفظ کرو، سمجھو اور ان پر عمل کرو، اور اسے ہرگز فراموش نہ کرو، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ اور اللہ کے عذاب سے محفوظ رہو۔"
یہ واقعہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے جو عہد لیتا ہے وہ سنجیدہ اور پابند ہوتا ہے۔ بنی اسرائیل نے یہ عہد توڑا، لیکن اللہ کی رحمت نے انہیں بار بار موقع دیا۔ ہمیں اس سے سبق لینا چاہیے کہ اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط کریں، اس کی کتاب کو سمجھ کر پڑھیں، اور اس پر عمل کرنے میں کوتاہی نہ کریں۔ قرآن مجید ہمارے لیے وہی ہدایت ہے جو تورات بنی اسرائیل کے لیے تھی، لیکن یہ آخری اور مکمل کتاب ہے، جسے اللہ نے قیامت تک کے لیے محفوظ رکھا ہے۔ آج ہمیں اسے پوری قوت سے پکڑنا ہے، اس پر غور و فکر کرنا ہے، اور اسے اپنی زندگی کا دستور بنانا ہے تاکہ ہم دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو آسان بنا دیا ہے، اسے پڑھنا عبادت ہے، سمجھنا باعثِ برکت ہے، اور اس پر عمل کرنا نجات کا ذریعہ ہے۔ آئیے ہم اس عظیم نعمت کی قدر کریں اور اسے اپنے دلوں میں بسائیں، کیونکہ یہی ہماری کامیابی اور پرہیزگاری کا راستہ ہے۔
اور جب تم نے کہا کہ موسیٰ! ہم سے ایک (ہی) کھانے پر صبر نہیں ہو سکتا تو اپنے پروردگار سے دعا کیجئے کہ ترکاری اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز (وغیرہ) جو نباتات زمین سے اُگتی ہیں، ہمارے لیے پیدا کر دے۔ انہوں نے کہا کہ بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہوں۔ (اگر یہی چیزیں مطلوب ہیں) تو کسی شہر میں جا اترو، وہاں جو مانگتے ہو، مل جائے گا۔ اور (آخرکار) ذلت (ورسوائی) اور محتاجی (وبے نوائی) ان سے چمٹا دی گئی اور وہ الله کے غضب میں گرفتار ہو گئے۔ یہ اس لیے کہ وہ الله کی آیتوں سے انکار کرتے تھے اور (اس کے) نبیوں کو ناحق قتل کر دیتے تھے۔ (یعنی) یہ اس لیے کہ نافرمانی کئے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے تھے
جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست، (یعنی کوئی شخص کسی قوم و مذہب کا ہو) جو خدا اور روز قیامت پر ایمان لائے گا، اور نیک عمل کرے گا، تو ایسے لوگوں کو ان (کے اعمال) کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غم ناک ہوں گے
اور جب ہم نے تم سے عہد (کر) لیا اور کوہِ طُور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا) کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے، اس کو زور سے پکڑے رہو، اور جو اس میں (لکھا) ہے، اسے یاد رکھو، تاکہ (عذاب سے) محفوظ رہو
اور تم ان لوگوں کو خوب جانتے ہوں، جو تم میں سے ہفتے کے دن (مچھلی کا شکار کرنے) میں حد سے تجاوز کر گئے تھے، تو ہم نے ان سے کہا کہ ذلیل وخوار بندر ہو جاؤ
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔