بقرہ · 66/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
فَجَعَلْنَاهَا نَكَالًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ ۝٦٦
Faja`alnaahaa nakaalal limaa baina yadihaa wa maa khalfahaa wa maw`izatal lilmuttaqeen
📖 اردو ترجمہ
اور اس قصے کو اس وقت کے لوگوں کے لیے اور جو ان کے بعد آنے والے تھے عبرت اور پرہیز گاروں کے لیے نصیحت بنا دیا
📜

ترجمہ — Tafsir

فَجَعَلْنَاهَا نَكَالًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ

معانی الفاظ:

  • نَكَالًا: عبرت اور سزا، ایسی سزا جو دیکھنے والوں کے لیے باعثِ عبرت ہو۔
  • لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا: ان گناہوں کے لیے جو اس سے پہلے ہو چکے تھے، یعنی ان کی پہلے کی سرکشیوں کا بدلہ۔
  • وَمَا خَلْفَهَا: ان گناہوں کے لیے جو اس کے بعد ہوئے، یعنی مچھلیوں کے شکار کا جرم جس پر انہیں پکڑا گیا۔
  • مَوْعِظَةً: نصیحت اور یاد دہانی۔
  • لِّلْمُتَّقِينَ: پرہیزگاروں کے لیے، جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اہلِ ایلہ (مچھلیوں کے شکار والی بستی) کے انجام کو بیان فرمایا ہے کہ ہم نے ان کی سزا کو ایک عبرتناک نشان بنا دیا۔ یہ سزا ان لوگوں کے لیے تھی جو ان کے آس پاس رہتے تھے اور ان کے پڑوسی تھے، تاکہ وہ دیکھیں کہ اللہ کی نافرمانی کا انجام کیا ہوتا ہے۔ نیز یہ سزا ان کے لیے بھی تھی جو ان کے بعد آئیں گے، تاکہ وہ ان کے انجام سے سبق حاصل کریں اور ایسے گناہوں سے بچیں۔ یہ واقعہ ان لوگوں کے لیے بھی نصیحت ہے جو اپنے گناہوں پر اصرار کرتے ہیں، کیونکہ اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے۔

یہ سزا صرف عذاب ہی نہیں تھی بلکہ ایک عظیم سبق تھی، تاکہ لوگ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی سے ڈریں۔ اور خاص طور پر پرہیزگاروں کے لیے یہ ایک یاد دہانی ہے، جو اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں اور اس کی اطاعت کرتے ہیں، تاکہ وہ اپنے ایمان پر قائم رہیں اور اللہ کی رحمت کے امیدوار بنیں۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کی نافرمانی کبھی بھی بے نتیجہ نہیں ہوتی۔ ہر قوم جو اللہ کے احکام سے سرتابی کرتی ہے، اسے اپنے انجام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اللہ کی رحمت ان لوگوں کے لیے ہے جو اس سے ڈرتے ہیں اور اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان واقعات سے عبرت حاصل کریں اور اپنی زندگیوں کو اللہ کے احکام کے مطابق ڈھالیں، تاکہ ہم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوں۔ یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اللہ کی پکڑ سے بچنے کا واحد راستہ تقویٰ اور اطاعت ہے، جو ہمیں جنت کی طرف لے جاتی ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 64-68 — بقرہ

64ثُمَّ تَوَلَّيْتُم مِّن بَعْدِ ذَٰلِكَ ۖ فَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَكُنتُم مِّنَ الْخَاسِرِينَ
تو تم اس کے بعد (عہد سے) پھر گئے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو تم خسارے میں پڑے گئے ہوتے
65وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِينَ اعْتَدَوْا مِنكُمْ فِي السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ
اور تم ان لوگوں کو خوب جانتے ہوں، جو تم میں سے ہفتے کے دن (مچھلی کا شکار کرنے) میں حد سے تجاوز کر گئے تھے، تو ہم نے ان سے کہا کہ ذلیل وخوار بندر ہو جاؤ
66فَجَعَلْنَاهَا نَكَالًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ
اور اس قصے کو اس وقت کے لوگوں کے لیے اور جو ان کے بعد آنے والے تھے عبرت اور پرہیز گاروں کے لیے نصیحت بنا دیا
67وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تَذْبَحُوا بَقَرَةً ۖ قَالُوا أَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا ۖ قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ ایک بیل ذبح کرو۔ وہ بولے، کیا تم ہم سے ہنسی کرتے ہو۔ (موسیٰ نے) کہا کہ میں الله کی پناہ مانگتا ہوں کہ نادان بنوں
68قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا هِيَ ۚ قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَلَا بِكْرٌ عَوَانٌ بَيْنَ ذَٰلِكَ ۖ فَافْعَلُوا مَا تُؤْمَرُونَ
انہوں نے کہا کہ اپنے پروردگار سے التجا کیجئے کہ وہ ہمیں یہ بتائے کہ وہ بیل کس طرح کا ہو۔ (موسیٰ نے) کہا کہ پروردگار فرماتا ہے کہ وہ بیل نہ تو بوڑھا ہو اور نہ بچھڑا، بلکہ ان کے درمیان (یعنی جوان) ہو۔ جیسا تم کو حکم دیا گیا ہے، ویسا کرو
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
66آیت

ترجمہ — بقرہ 66

سورہ بقرہ آیت 66 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اس قصے کو اس وقت کے لوگوں کے لیے…

سورہ آیت 66/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 64–68. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں