کہہ دو کہ اگر آخرت کا گھر اور لوگوں (یعنی مسلمانوں) کے لیے نہیں اور خدا کے نزدیک تمہارے ہی لیے مخصوص ہے تو اگر سچے ہو تو موت کی آرزو تو کرو
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
الدَّارُ الْآخِرَةُ: آخرت کا گھر، یعنی جنت۔
خَالِصَةً: خاص، خالص، صرف تمہارے لیے۔
مِّن دُونِ النَّاسِ: لوگوں کو چھوڑ کر، دوسرے لوگوں کے علاوہ۔
فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ: تو موت کی تمنا کرو، یعنی موت مانگو۔
تفسیر:
اے نبی! آپ ان یہودیوں سے کہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنت صرف انہی کے لیے ہے، اور یہ کہ وہ اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں، اللہ کے دوست ہیں، اور ان کے سوا کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ ان سے کہیں: اگر حقیقت میں آخرت کا گھر یعنی جنت اللہ کے نزدیک خالص تمہارے لیے ہے، اور دوسرے لوگوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں، تو پھر موت کی تمنا کرو۔ کیونکہ جو شخص یقین رکھتا ہو کہ اس کا انجام جنت ہے، اس کی موت ہی اس کے لیے راحت اور نجات کا ذریعہ ہے، اور وہ اس دنیا کی مشقتوں سے جلدی نجات پانے کے لیے موت کو ترستا ہے۔ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو تو موت مانگو، تاکہ تمہاری سچائی ظاہر ہو جائے۔ لیکن تم جانتے ہو کہ تم جھوٹے ہو، اس لیے تم موت کی تمنا کبھی نہیں کرو گے، کیونکہ تمہارے اعمال تمہیں جہنم کی طرف لے جا رہے ہیں۔
یہ ایک عظیم چیلنج تھا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے ذریعے یہودیوں کو دیا، تاکہ ان کا جھوٹ کھل جائے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص اپنے دعوے میں سچا ہوتا ہے تو وہ اسے ثابت کرنے سے نہیں ڈرتا، لیکن جھوٹا شخص ہمیشہ آزمائش سے بھاگتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ محض دعوے کرنے سے کچھ نہیں ہوتا، بلکہ سچائی کا ثبوت عمل سے دینا پڑتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو صرف زبانی دعووں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اپنے اعمال سے ثابت کریں کہ ہم واقعی اللہ سے محبت کرتے ہیں اور اس کی رضا کے طالب ہیں۔ جو شخص اللہ سے ملاقات کا شوق رکھتا ہے، اللہ بھی اس سے ملاقات کا شوق رکھتا ہے۔ آئیے ہم اپنے دلوں کو پاک کریں، اپنے اعمال کو سنواریں، اور اللہ کی رحمت کے امیدوار بنیں، کیونکہ جنت صرف انہی کے لیے ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے، چاہے وہ کسی بھی نسل یا قوم سے تعلق رکھتا ہو۔ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہی ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔
اور جب ہم نے تم (لوگوں) سے عہد واثق لیا اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا کہ) جو (کتاب) ہم نے تم کو دی ہے، اس کو زور سے پکڑو اور جو تمہیں حکم ہوتا ہے (اس کو) سنو تو وہ (جو تمہارے بڑے تھے) کہنے لگے کہ ہم نے سن تو لیا لیکن مانتے نہیں۔ اور ان کے کفر کے سبب بچھڑا (گویا) ان کے دلوں میں رچ گیا تھا۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ اگر تم مومن ہو تو تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے
بلکہ ان کو تم اور لوگوں سے زندگی کے کہیں حریص دیکھو گے، یہاں تک کہ مشرکوں سے بھی۔ ان میں سے ہر ایک یہی خواہش کرتا ہے کہ کاش وہ ہزار برس جیتا رہے، مگر اتنی لمبی عمر اس کو مل بھی جائے تو اسے عذاب سے تو نہیں چھڑا سکتی۔ اور جو کام یہ کرتے ہیں، خدا ان کو دیکھ رہا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔