بقرہ · 93/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُم بِقُوَّةٍ وَاسْمَعُوا ۖ قَالُوا سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَأُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ ۚ قُلْ بِئْسَمَا يَأْمُرُكُم بِهِ إِيمَانُكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ۝٩٣
Wa iz akhaznaa meesaaqakum wa rafa`naa fawqa kumut Toora khuzoo maaa aatainaakum biquwwatinw wasma`oo qaaloo sami`naa wa `asainaa wa ushriboo fee quloobihimul `ijla bikufrihim; qul bi`samaa yaamurukum biheee eemaanukum in kuntum m`mineen
📖 اردو ترجمہ
اور جب ہم نے تم (لوگوں) سے عہد واثق لیا اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا کہ) جو (کتاب) ہم نے تم کو دی ہے، اس کو زور سے پکڑو اور جو تمہیں حکم ہوتا ہے (اس کو) سنو تو وہ (جو تمہارے بڑے تھے) کہنے لگے کہ ہم نے سن تو لیا لیکن مانتے نہیں۔ اور ان کے کفر کے سبب بچھڑا (گویا) ان کے دلوں میں رچ گیا تھا۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ اگر تم مومن ہو تو تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • مِيثَاقَكُمْ: تم سے مضبوط عہد و پیمان
  • الطُّورَ: پہاڑ (کوہِ طور)
  • بِقُوَّةٍ: مضبوطی اور پوری ہمت سے
  • وَاسْمَعُوا: سنو اور قبول کرو
  • وَأُشْرِبُوا: ان کے دلوں میں (بچھڑے کی محبت) پی دی گئی
  • بِئْسَمَا: کتنا برا ہے وہ

تفسیر:

اے بنی اسرائیل! اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے تم سے مضبوط عہد لیا تھا کہ تم موسیٰ علیہ السلام کی اتباع کرو گے اور جو کچھ وہ تمہارے پاس لائیں گے اسے مانو گے۔ پھر جب تم نے عہد توڑا تو ہم نے تمہارے اوپر کوہِ طور کو بلند کیا تاکہ تمہیں ڈرایا جائے، اور کہا: "جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے (تورات) اسے مضبوطی سے پکڑو اور سنو اور اطاعت کرو، ورنہ ہم یہ پہاڑ تم پر گرا دیں گے۔" اس پر تم نے زبان سے کہا: "ہم نے سنا" لیکن دل سے کہا: "ہم نافرمانی کریں گے۔" اور ان کے دلوں میں بچھڑے کی محبت اس قدر پی دی گئی تھی کہ وہ ان کے دلوں میں گھل مل گئی تھی، یہ سب ان کے کفر کی وجہ سے تھا۔

اے نبی! ان سے کہو: تمہارا یہ ایمان تمہیں کتنا برا حکم دیتا ہے! یہ تمہیں اللہ کے ساتھ بچھڑے کی عبادت کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اگر تم واقعی ایمان والے ہو تو یہ ایمان کیسا ہے جو تمہیں کفر اور گمراہی کی طرف لے جاتا ہے؟ حقیقی ایمان تو انسان کو اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کی طرف لے جاتا ہے، نہ کہ نافرمانی اور شرک کی طرف۔

دعوتی پہلو:

پیارے مسلمانو! اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے۔ دیکھیے بنی اسرائیل نے زبان سے کہا "ہم نے سنا" لیکن دل سے نافرمانی کی۔ ہمیں چاہیے کہ ہمارا ایمان صرف زبان تک محدود نہ رہے بلکہ دل میں اترے اور ہمارے اعمال میں ظاہر ہو۔ اللہ تعالیٰ ہم سے سچا ایمان چاہتا ہے، ایسا ایمان جو ہمیں نیکی کی طرف لے جائے اور گناہوں سے روکے۔ آج ہمیں چاہیے کہ قرآن و سنت کو مضبوطی سے پکڑیں، اس پر عمل کریں اور اپنے دلوں کو اللہ کی محبت سے بھریں، نہ کہ دنیا کی محبت سے۔ یاد رکھیں، سچا ایمان وہی ہے جو انسان کو اللہ کی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق دے۔ اللہ ہمیں سچا ایمان عطا فرمائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو سن کر عمل کرتے ہیں، نہ کہ سن کر نافرمانی کرتے ہیں۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 91-95 — بقرہ

91وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ قَالُوا نُؤْمِنُ بِمَا أُنزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْفُرُونَ بِمَا وَرَاءَهُ وَهُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْ ۗ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُونَ أَنبِيَاءَ اللَّهِ مِن قَبْلُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے (اب) نازل فرمائی ہے، اس کو مانو۔ تو کہتے ہیں کہ جو کتاب ہم پر (پہلے) نازل ہو چکی ہے، ہم تو اسی کو مانتے ہیں۔ (یعنی) یہ اس کے سوا کسی اور (کتاب) کو نہیں مانتے، حالانکہ وہ (سراسر) سچی ہے اور جو ان کی (آسمانی) کتاب ہے، اس کی بھی تصدیق کرتی ہے۔ (ان سے) کہہ دو کہ اگر تم صاحبِ ایمان ہوتے تو الله کے پیغمبروں کو پہلے ہی کیوں قتل کیا کرتے
92۞ وَلَقَدْ جَاءَكُم مُّوسَىٰ بِالْبَيِّنَاتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِن بَعْدِهِ وَأَنتُمْ ظَالِمُونَ
اور موسیٰ تمہارے پاس کھلے ہوئے معجزات لے کر آئے تو تم ان کے (کوہِ طور جانے کے) بعد بچھڑے کو معبود بنا بیٹھے اور تم (اپنے ہی حق میں) ظلم کرتے تھے
93وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُم بِقُوَّةٍ وَاسْمَعُوا ۖ قَالُوا سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَأُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ ۚ قُلْ بِئْسَمَا يَأْمُرُكُم بِهِ إِيمَانُكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
اور جب ہم نے تم (لوگوں) سے عہد واثق لیا اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا کہ) جو (کتاب) ہم نے تم کو دی ہے، اس کو زور سے پکڑو اور جو تمہیں حکم ہوتا ہے (اس کو) سنو تو وہ (جو تمہارے بڑے تھے) کہنے لگے کہ ہم نے سن تو لیا لیکن مانتے نہیں۔ اور ان کے کفر کے سبب بچھڑا (گویا) ان کے دلوں میں رچ گیا تھا۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ اگر تم مومن ہو تو تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے
94قُلْ إِن كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْآخِرَةُ عِندَ اللَّهِ خَالِصَةً مِّن دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
کہہ دو کہ اگر آخرت کا گھر اور لوگوں (یعنی مسلمانوں) کے لیے نہیں اور خدا کے نزدیک تمہارے ہی لیے مخصوص ہے تو اگر سچے ہو تو موت کی آرزو تو کرو
95وَلَن يَتَمَنَّوْهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ
لیکن ان اعمال کی وجہ سے، جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں، یہ کبھی اس کی آرزو نہیں کریں گے، اور خدا ظالموں سے (خوب) واقف ہے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
93آیت

ترجمہ — بقرہ 93

سورہ بقرہ آیت 93 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب ہم نے تم (لوگوں) سے عہد واثق لیا…

سورہ آیت 93/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 91–95. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں