Wa iz akhaznaa meesaaqakum wa rafa`naa fawqa kumut Toora khuzoo maaa aatainaakum biquwwatinw wasma`oo qaaloo sami`naa wa `asainaa wa ushriboo fee quloobihimul `ijla bikufrihim; qul bi`samaa yaamurukum biheee eemaanukum in kuntum m`mineen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جب ہم نے تم (لوگوں) سے عہد واثق لیا اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا کہ) جو (کتاب) ہم نے تم کو دی ہے، اس کو زور سے پکڑو اور جو تمہیں حکم ہوتا ہے (اس کو) سنو تو وہ (جو تمہارے بڑے تھے) کہنے لگے کہ ہم نے سن تو لیا لیکن مانتے نہیں۔ اور ان کے کفر کے سبب بچھڑا (گویا) ان کے دلوں میں رچ گیا تھا۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ اگر تم مومن ہو تو تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و با شما پيمان بستيم و كوه طور را بر فراز سرتان بداشتيم. اكنون آنچه را كه برايتان فرستادهايم با ايمان استوار بگيريد و كلام خدا را بشنويد. گفتند: شنيديم و به كار نخواهيم بست. بر اثر كفرشان عشق گوساله در دلشان جاى گرفت. بگو: اگر بدانچه مىگوييد باور داريد، باورتان شما را به بدكارى وا مىدارد.
اور جب ہم نے تم (لوگوں) سے عہد واثق لیا اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا کہ) جو (کتاب) ہم نے تم کو دی ہے، اس کو زور سے پکڑو اور جو تمہیں حکم ہوتا ہے (اس کو) سنو تو وہ (جو تمہارے بڑے تھے) کہنے لگے کہ ہم نے سن تو لیا لیکن مانتے نہیں۔ اور ان کے کفر کے سبب بچھڑا (گویا) ان کے دلوں میں رچ گیا تھا۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ اگر تم مومن ہو تو تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
مِيثَاقَكُمْ: تم سے مضبوط عہد و پیمان
الطُّورَ: پہاڑ (کوہِ طور)
بِقُوَّةٍ: مضبوطی اور پوری ہمت سے
وَاسْمَعُوا: سنو اور قبول کرو
وَأُشْرِبُوا: ان کے دلوں میں (بچھڑے کی محبت) پی دی گئی
بِئْسَمَا: کتنا برا ہے وہ
تفسیر:
اے بنی اسرائیل! اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے تم سے مضبوط عہد لیا تھا کہ تم موسیٰ علیہ السلام کی اتباع کرو گے اور جو کچھ وہ تمہارے پاس لائیں گے اسے مانو گے۔ پھر جب تم نے عہد توڑا تو ہم نے تمہارے اوپر کوہِ طور کو بلند کیا تاکہ تمہیں ڈرایا جائے، اور کہا: "جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے (تورات) اسے مضبوطی سے پکڑو اور سنو اور اطاعت کرو، ورنہ ہم یہ پہاڑ تم پر گرا دیں گے۔" اس پر تم نے زبان سے کہا: "ہم نے سنا" لیکن دل سے کہا: "ہم نافرمانی کریں گے۔" اور ان کے دلوں میں بچھڑے کی محبت اس قدر پی دی گئی تھی کہ وہ ان کے دلوں میں گھل مل گئی تھی، یہ سب ان کے کفر کی وجہ سے تھا۔
اے نبی! ان سے کہو: تمہارا یہ ایمان تمہیں کتنا برا حکم دیتا ہے! یہ تمہیں اللہ کے ساتھ بچھڑے کی عبادت کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اگر تم واقعی ایمان والے ہو تو یہ ایمان کیسا ہے جو تمہیں کفر اور گمراہی کی طرف لے جاتا ہے؟ حقیقی ایمان تو انسان کو اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کی طرف لے جاتا ہے، نہ کہ نافرمانی اور شرک کی طرف۔
دعوتی پہلو:
پیارے مسلمانو! اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے۔ دیکھیے بنی اسرائیل نے زبان سے کہا "ہم نے سنا" لیکن دل سے نافرمانی کی۔ ہمیں چاہیے کہ ہمارا ایمان صرف زبان تک محدود نہ رہے بلکہ دل میں اترے اور ہمارے اعمال میں ظاہر ہو۔ اللہ تعالیٰ ہم سے سچا ایمان چاہتا ہے، ایسا ایمان جو ہمیں نیکی کی طرف لے جائے اور گناہوں سے روکے۔ آج ہمیں چاہیے کہ قرآن و سنت کو مضبوطی سے پکڑیں، اس پر عمل کریں اور اپنے دلوں کو اللہ کی محبت سے بھریں، نہ کہ دنیا کی محبت سے۔ یاد رکھیں، سچا ایمان وہی ہے جو انسان کو اللہ کی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق دے۔ اللہ ہمیں سچا ایمان عطا فرمائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو سن کر عمل کرتے ہیں، نہ کہ سن کر نافرمانی کرتے ہیں۔ آمین۔
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے (اب) نازل فرمائی ہے، اس کو مانو۔ تو کہتے ہیں کہ جو کتاب ہم پر (پہلے) نازل ہو چکی ہے، ہم تو اسی کو مانتے ہیں۔ (یعنی) یہ اس کے سوا کسی اور (کتاب) کو نہیں مانتے، حالانکہ وہ (سراسر) سچی ہے اور جو ان کی (آسمانی) کتاب ہے، اس کی بھی تصدیق کرتی ہے۔ (ان سے) کہہ دو کہ اگر تم صاحبِ ایمان ہوتے تو الله کے پیغمبروں کو پہلے ہی کیوں قتل کیا کرتے
اور جب ہم نے تم (لوگوں) سے عہد واثق لیا اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا کہ) جو (کتاب) ہم نے تم کو دی ہے، اس کو زور سے پکڑو اور جو تمہیں حکم ہوتا ہے (اس کو) سنو تو وہ (جو تمہارے بڑے تھے) کہنے لگے کہ ہم نے سن تو لیا لیکن مانتے نہیں۔ اور ان کے کفر کے سبب بچھڑا (گویا) ان کے دلوں میں رچ گیا تھا۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ اگر تم مومن ہو تو تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔