یہ آیت کریمہ ان مشرکین کا رد کر رہی ہے جو اللہ کے عذاب سے بے خوف ہو کر اپنے بتوں اور معبودوں پر بھروسہ کیے بیٹھے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا ان کے پاس ایسے معبود ہیں جو انہیں ہمارے عذاب سے بچا سکیں؟ حالانکہ یہ معبود خود اتنی طاقت نہیں رکھتے کہ اپنی جان کو کسی تکلیف یا نقصان سے بچا سکیں، نہ اپنے لیے کوئی فائدہ حاصل کر سکیں۔ جب یہ اپنی مدد نہیں کر سکتے تو اپنے عابدوں کی مدد کیسے کریں گے؟ اور نہ ہی انہیں اللہ کے عذاب سے کوئی پناہ دے سکتا ہے۔
یہاں اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس غلط تصور کی تردید فرما رہے ہیں کہ ان کے معبود انہیں اللہ کے عذاب سے بچا لیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی پناہ دینے والا نہیں، کوئی بچانے والا نہیں۔ یہ بت اور معبود بالکل بے بس ہیں، نہ اپنا بھلا کر سکتے ہیں نہ برا، تو دوسروں کے لیے کیا کریں گے؟
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ ہم اپنی پناہ اور مدد صرف اللہ سے مانگیں۔ کتنے لوگ آج بھی اپنے معاشروں میں مختلف چیزوں سے ڈرتے ہیں یا ان سے امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں، حالانکہ ساری طاقت اور اختیار صرف اللہ کے پاس ہے۔ جب ہم یقین کریں گے کہ اللہ ہی حقیقی محافظ ہے، تو ہمارے دل مضبوط ہوں گے اور ہم کسی مخلوق کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر بہت مہربانی فرمائی ہے کہ ہمیں سیدھا اپنی طرف رجوع کرنے کی تلقین کی، تاکہ ہم کبھی ذلت اور بے یقینی کا شکار نہ ہوں۔ آئیے ہم اپنے معاملات میں اللہ پر بھروسہ کریں اور اسی سے مدد طلب کریں، کیونکہ وہی سب کچھ کرنے پر قادر ہے۔
بلکہ ہم ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادا کو متمتع کرتے رہے یہاں تک کہ (اسی حالت میں) ان کی عمریں بسر ہوگئیں۔ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں۔ تو کیا یہ لوگ غلبہ پانے والے ہیں؟
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔