ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- حَرِّقُوهُ: اسے آگ میں جلا دو۔
- وَانصُرُوا آلِهَتَكُمْ: اپنے معبودوں کی مدد کرو۔
- إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ: اگر تم کچھ کرنے والے ہو۔
تفسیر:
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کے سامنے ان کے بتوں کی بے حقیقتی ثابت کر دی اور ان کی تمام دلیلیں باطل ہو گئیں، تو وہ لوگ دلیل اور حجت سے عاجز آ گئے۔ ان کے پاس کوئی جواب نہ بچا، اس لیے انہوں نے ظلم اور طاقت کا راستہ اختیار کیا۔ وہ چیخ اٹھے: "اسے آگ میں جلا دو! اپنے معبودوں کی مدد کرو، اگر تم واقعی کچھ کرنے والے ہو۔" انہوں نے یہ فیصلہ اس لیے کیا کہ آگ کا عذاب سب سے زیادہ تکلیف دہ اور ڈراؤنا تھا، اور وہ سمجھتے تھے کہ اس طرح وہ اپنے بتوں کی عزت بحال کر لیں گے اور لوگوں کو ابراہیم علیہ السلام کی دعوت سے روک دیں گے۔
چنانچہ انہوں نے ایک بہت بڑی آگ روشن کی، جس میں ایک پہاڑ جیسی عظیم آگ بھڑکائی گئی، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس میں ڈال دیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: "اے آگ! ابراہیم کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جا۔" چنانچہ آگ نے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچایا، اور وہ اس میں بالکل محفوظ رہے۔ یہ اللہ کا معجزہ تھا جو اس نے اپنے دوست ابراہیم علیہ السلام کے لیے ظاہر فرمایا۔
دعوتی پہلو:
اس واقعے سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ حق پر قائم رہنے والوں کی اللہ ہمیشہ مدد کرتا ہے، چاہے مخالفین کی طاقت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔ جب انسان اپنے ایمان پر مضبوط ہو اور اللہ پر بھروسہ رکھے، تو اللہ اس کے لیے آگ کو بھی ٹھنڈا کر دیتا ہے۔ آج بھی جو لوگ اللہ کی راہ میں مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کرتے ہیں، انہیں یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ ان کے ساتھ ہے اور وہ کبھی اپنے بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ سچائی اور توحید کی راہ پر چلنے والوں کے لیے اللہ کی نصرت ہمیشہ شامل حال رہتی ہے، اور باطل کی طاقت چاہے کتنی ہی بڑی ہو، وہ اللہ کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔
📜 آیت 66-70 — انبیاء
ترجمہ — انبیاء 68
سورہ انبیاء آیت 68 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (تب وہ) کہنے لگے کہ اگر تمہیں (اس سے اپنے…سورہ آیت 68/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 66–70. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








