ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أُفٍّ: ناپسندیدگی اور کراہت کا اظہار، یعنی "تف!" یا "چھی!"۔
- لَکُم: تم پر۔
- تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللہِ: اللہ کو چھوڑ کر جن کی تم عبادت کرتے ہو۔
- أَفَلَا تَعْقِلُونَ: کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟
تفسیر:
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو ان کے شرک اور بت پرستی پر اس طرح ٹوکا کہ "أُفٍّ لَّکُمْ" یعنی تم پر کراہت اور ناپسندیدگی ہو! یہ ایک سخت تنبیہ ہے جو انہوں نے ان لوگوں کو کی جو اللہ کو چھوڑ کر بے جان بتوں کی عبادت کر رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا: تم پر اور ان چیزوں پر بھی کراہت ہے جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو۔ یہ بت نہ کسی کو نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان، نہ وہ سنتے ہیں، نہ دیکھتے ہیں اور نہ کسی کی مدد کر سکتے ہیں۔ پھر انہوں نے ان سے پوچھا: "کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟" یعنی کیا تمہارے پاس عقل نہیں ہے کہ اس بات کو سمجھو کہ جس چیز میں کوئی خوبی نہیں، وہ عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے؟ عقل سلیم تو یہی کہتی ہے کہ عبادت صرف اس کی ہونی چاہیے جو حقیقی خالق اور مالک ہو، جو سننے والا اور جواب دینے والا ہو۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان کو اپنی عقل کو استعمال کرنا چاہیے اور ہر اس چیز سے بچنا چاہیے جو اللہ کی توحید کے خلاف ہو۔ اسلام ایک فطری دین ہے جو عقلِ سلیم کی دعوت دیتا ہے۔ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو جاہلیت کی اندھی تقلید سے نکال کر توحید کی روشنی کی طرف بلایا، اسی طرح آج بھی ہمیں چاہیے کہ ہر اس چیز سے بیزاری کا اظہار کریں جو اللہ کے سوا معبود بنائی جائے، چاہے وہ بت ہوں، قبریں ہوں یا کوئی اور مخلوق۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عقلِ سلیم عطا فرمائے اور ہمیں توحید پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔
📜 آیت 65-69 — انبیاء
ترجمہ — انبیاء 67
سورہ انبیاء آیت 67 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تف ہے تم پر اور جن کو تم خدا کے…سورہ آیت 67/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 65–69. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








