Wa izaa tutlaa `laihim Aayaatunaa baiyinaatin ta`rifu fee wujoohil lazeena kafarul munkara yakaadoona yastoona bil lazeena yatloona `alaihim Aayaatinaa; qul afa unab bi`ukum bisharrim min zaalikum; an Naaru wa `adahal laahul lazeena kafaroo wa bi`sal maseer
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی تو (ان کی شکل بگڑ جاتی ہے اور) تم ان کے چہروں میں صاف طور پر ناخوشی (کے آثار) دیکھتے ہو۔ قریب ہوتے ہیں کہ جو لوگ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں ان پر حملہ کردیں۔ کہہ دو کہ میں تم کو اس سے بھی بری چیز بتاؤں؟ وہ دوزخ کی آگ ہے۔ جس کا خدا نے کافروں سے وعدہ کیا ہے۔ اور وہ برا ٹھکانا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
چون آيات روشنگر ما بر آنان خوانده شود، نشان انكار را بر چهره كافران مىشناسى؛ چنان كه نزديك باشد بر آنان كه آيات را مىخوانند، حملهور شوند. بگو: آيا شما را به چيزى بدتر از اين آگاه كنم؟ آتش. خدا آن را به كسانى كه ايمان نياوردهاند وعده داده است و آتش بد سرانجامى است.
اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی تو (ان کی شکل بگڑ جاتی ہے اور) تم ان کے چہروں میں صاف طور پر ناخوشی (کے آثار) دیکھتے ہو۔ قریب ہوتے ہیں کہ جو لوگ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں ان پر حملہ کردیں۔ کہہ دو کہ میں تم کو اس سے بھی بری چیز بتاؤں؟ وہ دوزخ کی آگ ہے۔ جس کا خدا نے کافروں سے وعدہ کیا ہے۔ اور وہ برا ٹھکانا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
بَیِّنَاتٍ: واضح اور روشن دلیلیں، ایسی آیات جو حق کو ظاہر کرنے والی ہوں۔
الْمُنکَرَ: ناپسندیدگی، چہرے پر ناگواری اور کراہت کا اثر۔
یَسْطُونَ: حملہ کرنا، جھپٹنا، سختی سے پکڑنا۔
تفسیر:
جب ان کافروں کے سامنے ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں، جو حق اور سچائی کو روشن کرنے والی ہیں، تو آپ ان کے چہروں پر ناگواری اور انکار کے آثار صاف دیکھ سکتے ہیں۔ ان کے چہرے عبوس ہو جاتے ہیں، اور ان کی آنکھوں میں غصہ اور نفرت جھلکنے لگتی ہے۔ وہ اس قدر شدید غصے میں آ جاتے ہیں کہ قریب ہوتے ہیں کہ وہ ان مومنین پر حملہ کر دیں جو انہیں اللہ کی آیات سناتے ہیں اور حق کی دعوت دیتے ہیں۔
اے نبی! آپ ان سے فرمائیں: کیا میں تمہیں اس سے بھی بدتر چیز کی خبر دوں جو تمہیں سخت ناپسند ہے؟ وہ ہے آگ — جہنم کی آگ — جس کا اللہ نے کافروں سے وعدہ کیا ہے۔ یہ آگ ان کے لیے تیار کی گئی ہے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے جہاں وہ پہنچیں گے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کی دعوت دینے والوں کو کافروں کی طرف سے اذیتوں اور تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن مومن کو ثابت قدم رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ کافروں کا غصہ اور ان کی دشمنی دراصل ان کی کمزوری کی علامت ہے، کیونکہ حق سن کر وہ دلیل سے جواب نہیں دے سکتے، اس لیے وہ طاقت اور حملے کا سہارا لیتے ہیں۔ مومن کو چاہیے کہ وہ اللہ پر بھروسہ رکھے اور اپنی دعوت پر قائم رہے، کیونکہ آخرت میں کافروں کا انجام جہنم ہے، اور مومنین کا انجام جنت — یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے میں کوئی تبدیلی نہیں کی، اور وہ اپنے بندوں کے ساتھ انصاف کرنے والا ہے۔
اور (یہ لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن کی اس نے کوئی سند نازل نہیں فرمائی اور نہ ان کے پاس اس کی کوئی دلیل ہے۔ اور ظالموں کا کوئی بھی مددگار نہیں ہوگا
اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی تو (ان کی شکل بگڑ جاتی ہے اور) تم ان کے چہروں میں صاف طور پر ناخوشی (کے آثار) دیکھتے ہو۔ قریب ہوتے ہیں کہ جو لوگ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں ان پر حملہ کردیں۔ کہہ دو کہ میں تم کو اس سے بھی بری چیز بتاؤں؟ وہ دوزخ کی آگ ہے۔ جس کا خدا نے کافروں سے وعدہ کیا ہے۔ اور وہ برا ٹھکانا ہے
لوگو! ایک مثال بیان کی جاتی ہے اسے غور سے سنو۔ کہ جن لوگوں کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے اگرچہ اس کے لئے سب مجتمع ہوجائیں۔ اور اگر ان سے مکھی کوئی چیز لے جائے تو اسے اس سے چھڑا نہیں سکتے۔ طالب اور مطلوب (یعنی عابد اور معبود دونوں) گئے گزرے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔