حج · 73/78
ترجمہ تلفظ — حج
يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ ۖ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ۚ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ ۝٧٣
Yaaa ayyuhan naasu duriba masalun fastami`oo lah; innal lazeena tad`oona min doonil laahi lai yakhluqoo zubaabanw wa lawijtama`oo lahoo wa iny yaslub humuz zubbabu shai`al laa yastan qizoohu minh; da`ufat taalibu walmatloob
📖 اردو ترجمہ
لوگو! ایک مثال بیان کی جاتی ہے اسے غور سے سنو۔ کہ جن لوگوں کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے اگرچہ اس کے لئے سب مجتمع ہوجائیں۔ اور اگر ان سے مکھی کوئی چیز لے جائے تو اسے اس سے چھڑا نہیں سکتے۔ طالب اور مطلوب (یعنی عابد اور معبود دونوں) گئے گزرے ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • ضُرِبَ مَثَلٌ: ایک مثال بیان کیا گیا ہے۔
  • فَاسْتَمِعُوا لَهُ: اسے غور سے سنو۔
  • تَدْعُونَ: جنہیں تم پکارتے ہو (عبادت کرتے ہو
  • یَسْلُبْهُمُ: چھین لے۔
  • لَا یَسْتَنْقِذُوهُ: وہ اسے چھڑا نہیں سکتے۔
  • الطَّالِبُ: طلب کرنے والا (یہاں مراد: عابد اور معبودِ باطل
  • الْمَطْلُوبُ: جس سے طلب کیا جائے (یہاں مراد: ذباب/مکھی

تفسیر:

اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے سامنے ایک مثال پیش کی ہے، اسے کان لگا کر سنو اور اس پر غور و فکر کرو۔ یہ مثال تمہارے ان معبودوں کی ہے جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو اور ان کی عبادت کرتے ہو۔

ان تمام معبودوں کی حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک معمولی سی مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے، چاہے وہ سب کے سب جمع ہو جائیں اور ایک دوسرے کی مدد کریں۔ مکھی جیسی حقیر اور کمزور مخلوق کو پیدا کرنا ان کے بس میں نہیں، تو پھر وہ اس سے بڑی مخلوق کو کیسے پیدا کر سکتے ہیں؟ یہ ان کی انتہائی کمزوری اور عاجزی کی دلیل ہے۔

مزید برآں، اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے — جیسے خوشبو، کھانا یا کوئی اور چیز جو ان پر لگی ہو — تو وہ اسے مکھی سے چھڑا نہیں سکتے۔ ذرا تصور کریں! جس معبود کی عبادت کی جا رہی ہو، وہ ایک مکھی سے بھی اپنی چیز واپس نہ لے سکے، تو پھر اسے معبود بنانا کتنی بڑی جہالت ہے؟

اس طرح طالب (مانگنے والا) بھی کمزور ہے اور مطلوب (جس سے مانگا جائے) بھی کمزور ہے۔ یعنی عابد بھی عاجز ہے اور معبودِ باطل بھی عاجز ہے۔ دونوں ہی بے بس اور ناتواں ہیں۔


دعوتی پہلو:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت اور کمال قدرت کو واضح کیا ہے۔ جب یہ بتایا گیا کہ یہ بت اور معبودِ باطل ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی واحد خالق ہے جو ہر چیز کو پیدا کرنے پر قادر ہے۔ وہی ہے جو مکھی کو بھی پیدا کرتا ہے اور اسے اپنی غذا اور حفاظت کا انتظام بھی کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اندازہ لگائیں کہ وہ اتنے چھوٹے سے کیڑے کو بھی پیدا کرتا ہے اور اسے اس کی ضروریات فراہم کرتا ہے۔ کیا ایسا عظیم خالق ہمارے لیے عبادت کے لائق نہیں؟ کیا ہم ایسے معبودوں کو چھوڑ کر اس کی طرف رجوع نہ کریں جو خود کسی چیز کے مالک نہیں؟

یہ آیت ہمیں توحید کی طرف بلاتی ہے اور شرک کی بیہودگی کو واضح کرتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی عبادت صرف اللہ کے لیے مخصوص کریں، کیونکہ وہی ہے جو سنتا ہے، دیکھتا ہے، اور ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کی رحمت اور برکت ہم پر ہو، آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 71-75 — حج

71وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَمَا لَيْسَ لَهُم بِهِ عِلْمٌ ۗ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِن نَّصِيرٍ
اور (یہ لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن کی اس نے کوئی سند نازل نہیں فرمائی اور نہ ان کے پاس اس کی کوئی دلیل ہے۔ اور ظالموں کا کوئی بھی مددگار نہیں ہوگا
72وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ تَعْرِفُ فِي وُجُوهِ الَّذِينَ كَفَرُوا الْمُنكَرَ ۖ يَكَادُونَ يَسْطُونَ بِالَّذِينَ يَتْلُونَ عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا ۗ قُلْ أَفَأُنَبِّئُكُم بِشَرٍّ مِّن ذَٰلِكُمُ ۗ النَّارُ وَعَدَهَا اللَّهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ
اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی تو (ان کی شکل بگڑ جاتی ہے اور) تم ان کے چہروں میں صاف طور پر ناخوشی (کے آثار) دیکھتے ہو۔ قریب ہوتے ہیں کہ جو لوگ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں ان پر حملہ کردیں۔ کہہ دو کہ میں تم کو اس سے بھی بری چیز بتاؤں؟ وہ دوزخ کی آگ ہے۔ جس کا خدا نے کافروں سے وعدہ کیا ہے۔ اور وہ برا ٹھکانا ہے
73يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ ۖ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ۚ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ
لوگو! ایک مثال بیان کی جاتی ہے اسے غور سے سنو۔ کہ جن لوگوں کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے اگرچہ اس کے لئے سب مجتمع ہوجائیں۔ اور اگر ان سے مکھی کوئی چیز لے جائے تو اسے اس سے چھڑا نہیں سکتے۔ طالب اور مطلوب (یعنی عابد اور معبود دونوں) گئے گزرے ہیں
74مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ
ان لوگوں نے خدا کی قدر جیسی کرنی چاہیئے تھی نہیں کی۔ کچھ شک نہیں کہ خدا زبردست اور غالب ہے
75اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ
خدا فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے منتخب کرلیتا ہے اور انسانوں میں سے بھی۔ بےشک خدا سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے
حجقرآن فہرست
78آیت
مدنیRevelation
73آیت

ترجمہ — حج 73

سورہ حج آیت 73 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : لوگو! ایک مثال بیان کی جاتی ہے اسے غور سے…

سورہ آیت 73/78 — حج الحج (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حج سنیں, حج ترجمہ, حج mp3, حج pdf. آیت 71–75. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں