مؤمنون · 27/118
ترجمہ تلفظ — مؤمنون
فَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِ أَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا فَإِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ ۙ فَاسْلُكْ فِيهَا مِن كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ ۖ وَلَا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا ۖ إِنَّهُم مُّغْرَقُونَ ۝٢٧
Fa awhainaaa ilaihi anis na`il fulka bi a`yuninaa wa wahyinaa fa izaa jaaa`a amrunaa wa faarat tannooru fasluk feehaa min kullin zawjainis naini wa ahlaka illaa man sabaqa `alaihil qawlu minhum wa laa tukhaat ibnee fil lazeena zalamooo innaahum mughraqoon
📖 اردو ترجمہ
پس ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے سامنے اور ہمارے حکم سے ایک کشتی بناؤ۔ پھر جب ہمارا حکم آ پہنچے اور تنور (پانی سے بھر کر) جوش مارنے لگے تو سب (قسم کے حیوانات) میں جوڑا جوڑا (یعنی نر اور مادہ) دو دو کشتی میں بٹھا دو اور اپنے گھر والوں کو بھی، سو ان کے جن کی نسبت ان میں سے (ہلاک ہونے کا) حکم پہلے صادر ہوچکا ہے۔ اور ظالموں کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا، وہ ضرور ڈبو دیئے جائیں گے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فُلْک: کشتی، بڑی ناؤ۔
  • بِأَعْیُنِنَا: ہماری نگاہ و حفاظت کے تحت، ہمارے سامنے۔
  • وَوَحْیِنَا: ہمارے حکم اور ہماری تعلیم کے مطابق۔
  • فَارَ التَّنُّورُ: تنور (روٹی پکانے کی جگہ) سے پانی ابل پڑا، جو عذاب کے آغاز کی علامت تھی۔
  • فَاسْلُکْ: داخل کرو، لے چلو۔
  • زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ: ہر قسم کے جانداروں میں سے نر اور مادہ۔
  • مُغْرَقُونَ: ڈبو کر ہلاک کیے جانے والے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو وحی بھیج کر حکم دیا کہ وہ کشتی بنائیں، لیکن یہ کشتی عام حالات میں نہیں بلکہ اللہ کی خاص نگاہ، حفاظت اور اس کی تعلیم و رہنمائی کے تحت بنائی جائے۔ یہ اللہ کا فضل تھا کہ وہ کشتی بنانے کا فن نہیں جانتے تھے، لیکن اللہ نے خود انہیں سکھایا اور ان کی حفاظت فرمائی۔ پھر اللہ نے انہیں بتایا کہ جب ہمارا حکم آئے اور تنور سے پانی ابلنے لگے، تو یہ عذاب کے آغاز کی نشانی ہوگی۔ اس وقت آپ کو چاہیے کہ ہر قسم کے جانداروں میں سے ایک نر اور ایک مادہ کشتی میں داخل کر لیں، تاکہ ان کی نسل باقی رہے۔ اپنے گھر والوں کو بھی ساتھ لے لیں، سوائے ان لوگوں کے جن پر اللہ کا عذاب پہلے سے مقدر ہو چکا ہے، جیسے آپ کی بیوی اور بیٹا جو ایمان نہیں لائے تھے۔ اللہ نے حضرت نوح کو سختی سے منع فرمایا کہ وہ ظالموں کے بارے میں اللہ سے سفارش نہ کریں، کیونکہ وہ یقینی طور پر غرق ہونے والے ہیں۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے، اللہ کی اطاعت اور اس کے حکم پر عمل کرنے کی برکت دیکھیں کہ حضرت نوح نے اللہ کے حکم پر کشتی بنائی اور وہی کشتی ان کے اور ان کے ماننے والوں کے لیے نجات کا ذریعہ بنی۔ دوسرا، اللہ کی حفاظت کا یقین رکھیں کہ جب ہم اللہ کے حکم پر عمل کرتے ہیں تو وہ ہمیں اپنی خاص نگاہ میں رکھتا ہے۔ تیسرا، یہ کہ ظلم اور کفر کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے، چاہے وہ کتنے ہی قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ اللہ کا فیصلہ عادلانہ ہے اور اس کے سامنے کسی کی سفارش کام نہیں آتی۔ چوتھا، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور اللہ کے احکام پر عمل کریں، کیونکہ یہی ہماری دنیا اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت نوح علیہ السلام کی طرح صبر اور استقامت عطا فرمائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں۔ آمین۔



📜 آیت 25-29 — مؤمنون

25إِنْ هُوَ إِلَّا رَجُلٌ بِهِ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوا بِهِ حَتَّىٰ حِينٍ
اس آدمی کو تو دیوانگی (کا عارضہ) ہے تو اس کے بارے میں کچھ مدت انتظار کرو
26قَالَ رَبِّ انصُرْنِي بِمَا كَذَّبُونِ
نوح نے کہا کہ پروردگار انہوں نے مجھے جھٹلایا ہے تو میری مدد کر
27فَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِ أَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا فَإِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ ۙ فَاسْلُكْ فِيهَا مِن كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ ۖ وَلَا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا ۖ إِنَّهُم مُّغْرَقُونَ
پس ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے سامنے اور ہمارے حکم سے ایک کشتی بناؤ۔ پھر جب ہمارا حکم آ پہنچے اور تنور (پانی سے بھر کر) جوش مارنے لگے تو سب (قسم کے حیوانات) میں جوڑا جوڑا (یعنی نر اور مادہ) دو دو کشتی میں بٹھا دو اور اپنے گھر والوں کو بھی، سو ان کے جن کی نسبت ان میں سے (ہلاک ہونے کا) حکم پہلے صادر ہوچکا ہے۔ اور ظالموں کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا، وہ ضرور ڈبو دیئے جائیں گے
28فَإِذَا اسْتَوَيْتَ أَنتَ وَمَن مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَجَّانَا مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
اور جب تم اور تمہارے ساتھی کشتی میں بیٹھ جاؤ تو (خدا کا شکر کرنا اور) کہنا کہ سب تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے۔ جس نے ہم کو نجات بخشی ظالم لوگوں سے
29وَقُل رَّبِّ أَنزِلْنِي مُنزَلًا مُّبَارَكًا وَأَنتَ خَيْرُ الْمُنزِلِينَ
اور (یہ بھی) دعا کرنا کہ اے پروردگار ہم کو مبارک جگہ اُتاریو اور تو سب سے بہتر اُتارنے والا ہے
مؤمنونقرآن فہرست
118آیت
مکیRevelation
27آیت

ترجمہ — مؤمنون 27

سورہ مؤمنون آیت 27 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پس ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے…

سورہ آیت 27/118 — مؤمنون المؤمنون (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مؤمنون سنیں, مؤمنون ترجمہ, مؤمنون mp3, مؤمنون pdf. آیت 25–29. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں