Fa awhainaaa ilaihi anis na`il fulka bi a`yuninaa wa wahyinaa fa izaa jaaa`a amrunaa wa faarat tannooru fasluk feehaa min kullin zawjainis naini wa ahlaka illaa man sabaqa `alaihil qawlu minhum wa laa tukhaat ibnee fil lazeena zalamooo innaahum mughraqoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
پس ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے سامنے اور ہمارے حکم سے ایک کشتی بناؤ۔ پھر جب ہمارا حکم آ پہنچے اور تنور (پانی سے بھر کر) جوش مارنے لگے تو سب (قسم کے حیوانات) میں جوڑا جوڑا (یعنی نر اور مادہ) دو دو کشتی میں بٹھا دو اور اپنے گھر والوں کو بھی، سو ان کے جن کی نسبت ان میں سے (ہلاک ہونے کا) حکم پہلے صادر ہوچکا ہے۔ اور ظالموں کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا، وہ ضرور ڈبو دیئے جائیں گے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
به او وحى كرديم كه كشتى را در حضور ما و به الهام ما بساز. و چون فرمان ما در رسيد و آب از تنور بيرون زد از هر جنسى دو تا و نيز كسان خود را به آن ببر. مگر آن كس كه پيش از اين در باره او سخن رفته است. و در باره ستمكاران با من سخن مگوى كه آنها همه غرقهشدگانند.
بِأَعْیُنِنَا: ہماری نگاہ و حفاظت کے تحت، ہمارے سامنے۔
وَوَحْیِنَا: ہمارے حکم اور ہماری تعلیم کے مطابق۔
فَارَ التَّنُّورُ: تنور (روٹی پکانے کی جگہ) سے پانی ابل پڑا، جو عذاب کے آغاز کی علامت تھی۔
فَاسْلُکْ: داخل کرو، لے چلو۔
زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ: ہر قسم کے جانداروں میں سے نر اور مادہ۔
مُغْرَقُونَ: ڈبو کر ہلاک کیے جانے والے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو وحی بھیج کر حکم دیا کہ وہ کشتی بنائیں، لیکن یہ کشتی عام حالات میں نہیں بلکہ اللہ کی خاص نگاہ، حفاظت اور اس کی تعلیم و رہنمائی کے تحت بنائی جائے۔ یہ اللہ کا فضل تھا کہ وہ کشتی بنانے کا فن نہیں جانتے تھے، لیکن اللہ نے خود انہیں سکھایا اور ان کی حفاظت فرمائی۔ پھر اللہ نے انہیں بتایا کہ جب ہمارا حکم آئے اور تنور سے پانی ابلنے لگے، تو یہ عذاب کے آغاز کی نشانی ہوگی۔ اس وقت آپ کو چاہیے کہ ہر قسم کے جانداروں میں سے ایک نر اور ایک مادہ کشتی میں داخل کر لیں، تاکہ ان کی نسل باقی رہے۔ اپنے گھر والوں کو بھی ساتھ لے لیں، سوائے ان لوگوں کے جن پر اللہ کا عذاب پہلے سے مقدر ہو چکا ہے، جیسے آپ کی بیوی اور بیٹا جو ایمان نہیں لائے تھے۔ اللہ نے حضرت نوح کو سختی سے منع فرمایا کہ وہ ظالموں کے بارے میں اللہ سے سفارش نہ کریں، کیونکہ وہ یقینی طور پر غرق ہونے والے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے، اللہ کی اطاعت اور اس کے حکم پر عمل کرنے کی برکت دیکھیں کہ حضرت نوح نے اللہ کے حکم پر کشتی بنائی اور وہی کشتی ان کے اور ان کے ماننے والوں کے لیے نجات کا ذریعہ بنی۔ دوسرا، اللہ کی حفاظت کا یقین رکھیں کہ جب ہم اللہ کے حکم پر عمل کرتے ہیں تو وہ ہمیں اپنی خاص نگاہ میں رکھتا ہے۔ تیسرا، یہ کہ ظلم اور کفر کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے، چاہے وہ کتنے ہی قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ اللہ کا فیصلہ عادلانہ ہے اور اس کے سامنے کسی کی سفارش کام نہیں آتی۔ چوتھا، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور اللہ کے احکام پر عمل کریں، کیونکہ یہی ہماری دنیا اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت نوح علیہ السلام کی طرح صبر اور استقامت عطا فرمائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں۔ آمین۔
پس ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے سامنے اور ہمارے حکم سے ایک کشتی بناؤ۔ پھر جب ہمارا حکم آ پہنچے اور تنور (پانی سے بھر کر) جوش مارنے لگے تو سب (قسم کے حیوانات) میں جوڑا جوڑا (یعنی نر اور مادہ) دو دو کشتی میں بٹھا دو اور اپنے گھر والوں کو بھی، سو ان کے جن کی نسبت ان میں سے (ہلاک ہونے کا) حکم پہلے صادر ہوچکا ہے۔ اور ظالموں کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا، وہ ضرور ڈبو دیئے جائیں گے
پس ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے سامنے اور ہمارے حکم سے ایک کشتی بناؤ۔ پھر جب ہمارا حکم آ پہنچے اور تنور (پانی سے بھر کر) جوش مارنے لگے تو سب (قسم کے حیوانات) میں جوڑا جوڑا (یعنی نر اور مادہ) دو دو کشتی میں بٹھا دو اور اپنے گھر والوں کو بھی، سو ان کے جن کی نسبت ان میں سے (ہلاک ہونے کا) حکم پہلے صادر ہوچکا ہے۔ اور ظالموں کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا، وہ ضرور ڈبو دیئے جائیں گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔