ترجمہ — Tafsir
فَإِذَا اسْتَوَيْتَ: جب آپ (نوح علیہ السلام) کشتی پر سوار ہو کر اطمینان سے بیٹھ جاؤ۔
مَن مَّعَكَ: جو لوگ آپ کے ساتھ ایمان لائے تھے۔
عَلَى الْفُلْكِ: کشتی پر۔
نَجَّانَا: ہمیں نجات دی، بچا لیا۔
الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ: ظالم لوگوں سے، یعنی کافروں سے۔
جب حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھ مومن کشتی پر سوار ہو کر آرام سے بیٹھ گئے اور طوفان سے محفوظ ہو گئے، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اس عظیم نعمت پر اللہ کا شکر ادا کریں۔ یہ شکر صرف زبانی نہ ہو بلکہ دل سے نکلے ہوئے الفاظ ہوں۔ چنانچہ انہیں سکھایا گیا کہ کہیں: "تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات دی۔" اس میں یہ سبق ہے کہ مصیبت سے نکلنے پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ نجات صرف اللہ کی طرف سے ہے۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ جب بھی اللہ تعالیٰ کسی مشکل، مصیبت یا خطرے سے ہمیں نجات دے، تو ہمیں فوراً اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ شکر کرنے سے اللہ تعالیٰ نعمتوں میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی یہ دعا ہمارے لیے ایک نمونہ ہے کہ ہم بھی اپنی زندگی کے ہر موڑ پر اللہ کا شکر ادا کریں، خاص طور پر جب ہم کسی ظلم، کفر یا گمراہی سے بچ جائیں۔ یہ شکر ہمیں اللہ کے قریب کرتا ہے اور ہمارے ایمان کو مضبوط کرتا ہے۔ آئیے ہم بھی اپنی زندگی میں اس حکم پر عمل کریں اور ہر نعمت پر اللہ کا شکر بجا لائیں، کیونکہ شکر کرنے والوں سے اللہ محبت کرتا ہے اور انہیں مزید نوازتا ہے۔
📜 آیت 26-30 — سورہ مؤمنون
ترجمہ — مؤمنون 28
سورہ مؤمنون آیت 28 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب تم اور تمہارے ساتھی کشتی میں بیٹھ جاؤ…سورہ آیت 28/118 — سورہ مؤمنون المؤمنون (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ مؤمنون سنیں, سورہ مؤمنون ترجمہ, سورہ مؤمنون mp3, سورہ مؤمنون pdf. آیت 26–30. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, September 8, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








