Allazee khalaqas samaawaati wal arda wa maa bainahumaa fee sittati aiyaamin summmmastawaa `alal `Arsh; ar Rahmaanu fas`al bihee khabeeraa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا وہ (جس کا نام) رحمٰن (یعنی بڑا مہربان ہے) تو اس کا حال کسی باخبر سے دریافت کرلو
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آن كه آسمانها و زمين و هر چه را در ميان آنهاست به شش روز بيافريد، آنگاه به عرش پرداخت. اوست خداى رحمان و در باره او از كسى بپرس كه آگاه باشد.
جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا وہ (جس کا نام) رحمٰن (یعنی بڑا مہربان ہے) تو اس کا حال کسی باخبر سے دریافت کرلو
📜
ترجمہ — Tafsir
اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، سب کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ پھر وہ عرش پر استوا فرمایا، یعنی اپنی شان کے لائق بلندی اور عظمت کے ساتھ عرش پر متمکن ہوا۔ وہی رحمن ہے، جس کی رحمت تمام مخلوقات کو محیط ہے۔
اے نبی! آپ اس کے بارے میں کسی خبیر (باخبر) سے دریافت کریں، یعنی خود اللہ تعالیٰ ہی اپنی ذات، صفات، عظمت اور رحمت کا سب سے بڑا خبیر ہے۔ نیز آسمانی کتابوں کے علماء اور جبرائیل علیہ السلام بھی اس کی معرفت رکھتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی معرفت کا جو علم عطا کیا گیا، وہ کسی اور کو حاصل نہیں۔
یہ آیت ہمیں اللہ کی عظمت اور کمال قدرت پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ جس ذات نے اتنی بڑی کائنات کو پیدا کیا، وہ یقیناً ہر چیز پر قادر ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس کی رحمت سے مایوس نہ ہوں اور اس کی معرفت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت کرتے ہوئے اپنی صفات کا علم قرآن میں نازل فرمایا ہے، تاکہ ہم اسے پہچانیں اور اس کی عبادت کریں۔ جو شخص اللہ کو پہچان لیتا ہے، وہ اپنی زندگی کا مقصد سمجھ لیتا ہے اور اس کی رحمت کے حصول کی راہ آسان ہو جاتی ہے۔
جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا وہ (جس کا نام) رحمٰن (یعنی بڑا مہربان ہے) تو اس کا حال کسی باخبر سے دریافت کرلو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔