اور جب ان (کفار) سے کہا جاتا ہے کہ رحمٰن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں رحمٰن کیا؟ کیا جس کے لئے تم ہم سے کہتے ہو ہم اس کے آگے سجدہ کریں اور اس سے بدکتے ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
الرَّحْمٰن: وہ ذات جو اپنی مخلوقات پر بے حد رحمت فرماتی ہے۔
نُفُورًا: دوری، بیزاری، نفرت اور حق سے بھاگنا۔
تفسیر آیت:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کافروں کے اس گستاخانہ رویے کا ذکر فرماتا ہے جب انہیں توحید اور عبادت کی دعوت دی جاتی تھی۔ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ "الرحمٰن" کے سامنے سجدہ کرو اور اس کی عبادت کرو، تو وہ حقارت اور استہزاء کے انداز میں کہتے تھے: "الرحمٰن کیا چیز ہے؟ ہم تو اسے جانتے ہی نہیں!" یہ اس لیے تھا کہ مشرکینِ عرب اللہ تعالیٰ کے اس اسمِ مبارک "الرحمٰن" سے واقف نہیں تھے، کیونکہ وہ صرف "اللہ" کا نام جانتے تھے، اور یہ نام ان کے معبودوں میں شامل نہیں تھا۔ وہ کہتے تھے: "کیا ہم اس چیز کے سامنے سجدہ کریں جس کا حکم تم ہمیں دے رہے ہو؟" یعنی وہ اپنی جہالت اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے حق کو ماننے سے انکار کر دیتے تھے۔
یہ دعوتِ حق ان کے لیے اور زیادہ دوری اور نفرت کا باعث بنتی تھی، کیونکہ ان کے دل سخت ہو چکے تھے اور ان کی فطرتیں بگڑ چکی تھیں۔ جب انہیں سچائی کی طرف بلایا جاتا تو وہ اس سے اور بھی بھاگتے اور ان کی نفرت میں اضافہ ہو جاتا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کا دل جب تکبر اور ہٹ دھرمی سے بھر جائے تو وہ حق کو قبول کرنے کے بجائے اس سے بھاگتا ہے۔ لیکن اے بندے! تو اپنے دل کو عاجزی اور انکساری سے بھر، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر بے پناہ رحمت فرمائی ہے۔ وہ "الرحمٰن" ہے، جس کی رحمت تمام مخلوقات کو محیط ہے۔ جب تو اس کے سامنے سجدہ کرتا ہے تو تو اس کی قربت حاصل کرتا ہے اور اس کی رحمت کے سائے میں آ جاتا ہے۔ کافروں کی طرح حق سے نفرت نہ کر، بلکہ حق کو کھلے دل سے قبول کر، کیونکہ سجدہ ہی وہ مقام ہے جہاں بندہ اپنے رب کے سب سے قریب ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سجدے کا حکم دیا تاکہ ہم اس کی عظمت کے سامنے جھکیں اور اس کی رحمت کے طالب بنیں۔ کیا ہی خوش قسمت ہے وہ بندہ جو اپنے رب کے سامنے سجدہ کرتا ہے اور اس کی رحمت کا طالب ہوتا ہے!
جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا وہ (جس کا نام) رحمٰن (یعنی بڑا مہربان ہے) تو اس کا حال کسی باخبر سے دریافت کرلو
اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بنایا۔ (یہ باتیں) اس شخص کے لئے جو غور کرنا چاہے یا شکرگزاری کا ارادہ کرے (سوچنے اور سمجھنے کی ہیں)
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔