ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا: یعنی انہوں نے اللہ کا ذکر بکثرت کیا، اور شعر گوئی انہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر سکی۔
- وَانتَصَرُوا: یعنی انہوں نے اپنا دفاع کیا اور جواب دیا۔
- مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُوا: یعنی جب ان پر ظلم کیا گیا، انہیں ستایا گیا اور انہیں ہجو کا نشانہ بنایا گیا۔
- أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ: یعنی وہ کس انجام اور کس ٹھکانے کی طرف لوٹیں گے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شاعروں کے بارے میں جو پہلے فرمایا تھا کہ گمراہ لوگ شاعروں کی پیروی کرتے ہیں، اس سے مستثنیٰ قرار دیے گئے ہیں وہ شعراء جو ایمان لائے، نیک عمل کیے، اللہ کا ذکر کثرت سے کیا، اور جب ان پر ظلم کیا گیا تو انہوں نے اپنا دفاع کیا اور حق کی حمایت میں شعر کہے۔ یہ وہ شعراء ہیں جنہوں نے اپنی شاعری کو اللہ کے دین کی خدمت، رسول اللہ ﷺ کی مدد اور اسلام کے دفاع کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے اپنے اشعار میں توحید، رسالت اور اخلاقی اقدار کو فروغ دیا، اور کافروں کے ہجو کا جواب دیا جب انہوں نے مسلمانوں کو ستایا اور ان کی توہین کی۔
یہ استثنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ شاعری فی نفسہ بری نہیں، بلکہ اس کا استعمال اچھے یا برے مقاصد کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ جو شاعر ایمان، عمل صالح اور ذکر الٰہی کی دولت سے مالا مال ہوں، اور اپنی شاعری کو حق کی خدمت میں لگائیں، وہ قابل تعریف ہیں۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ شعراء اس کی بہترین مثال ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی مدد میں اپنی شاعری کا بھرپور استعمال کیا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ظلم کرنے والے عنقریب جان لیں گے کہ وہ کس انجام کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ ظلم کرنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے شرک کیا، اللہ کے بندوں پر ظلم کیا، ان کے حقوق غصب کیے، اور انہیں ستایا۔ ان کا انجام جہنم اور اللہ کا عذاب ہے، اور وہ اپنے اس انجام کو ضرور دیکھیں گے۔ یہ ایک سخت تنبیہ ہے کہ ظلم کا انجام بہت برا ہے، اور ظالم کو اپنے کیے کی سزا ضرور ملے گی۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر فن اور ہر صلاحیت کو اللہ کی رضا کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی صلاحیتوں کو حق اور انصاف کی خدمت میں لگائے تو وہ اللہ کے نزدیک محبوب ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی صلاحیتوں کو اچھے کاموں میں استعمال کریں، اور جب ہم پر ظلم ہو تو صبر کے ساتھ حق کا دفاع کریں۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیتا، اور ان کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ اللہ کا ذکر کثرت سے کرے، نیک عمل کرے، اور اپنے دین کی حفاظت کے لیے اپنی زبان اور قلم کا استعمال کرے۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو اللہ کی رضا اور جنت تک پہنچاتا ہے۔
📜 آیت 225-227 — شعراء
ترجمہ — شعراء 227
سورہ شعراء آیت 227 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے اور…سورہ آیت 227/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 225–227. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








