ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- یَقُولُونَ مَا لَا یَفْعَلُونَ: یعنی وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں، یعنی جھوٹ بولتے ہیں اور ایسے دعوے کرتے ہیں جن پر عمل نہیں کرتے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ شاعروں کے حالات بیان فرما رہے ہیں کہ ان کا شیوہ ہی جھوٹ اور باطل ہے۔ وہ اپنے کلام میں ایسی باتیں کہتے ہیں جو حقیقت میں کرتے نہیں۔ وہ مبالغہ آرائی کرتے ہیں، بے جا مدح سرائی کرتے ہیں، لوگوں کی عزتیں تاراج کرتے ہیں، اور ایسے کاموں کا دعویٰ کرتے ہیں جن سے وہ خود خالی ہیں۔ وہ اپنے اشعار میں بہادری، سخاوت، عفت اور نیکی کے قصیدے پڑھتے ہیں، لیکن خود ان صفات سے محروم ہوتے ہیں۔ یہی ان کی سب سے بڑی خرابی ہے کہ ان کا قول اور فعل آپس میں متصادم ہوتے ہیں۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اسلام میں قول اور فعل کی ہم آہنگی بہت اہم ہے۔ ایک مومن کو چاہیے کہ وہ صرف وہی بات کہے جو وہ خود کرتا ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو وہ لوگ بہت ناپسند ہیں جو کہتے ہیں اور کرتے نہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اے ایمان والو! تم وہ باتیں کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں؟ اللہ کے نزدیک یہ بہت ناپسندیدہ بات ہے کہ تم کہو وہ جو کرو نہیں۔" (الصف: 2-3)
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے کہ سچائی اور عمل میں مطابقت ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی زبان کو جھوٹ سے پاک رکھیں، وعدوں کو پورا کریں، اور ایسی باتیں نہ کہیں جن پر ہم خود عمل نہ کر سکیں۔ یاد رکھیں! اللہ تعالیٰ سچے اور صادق لوگوں سے محبت کرتا ہے، اور جھوٹے دعوے کرنے والوں سے نفرت۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو قول و فعل کی ہم آہنگی سے مزین کریں، تاکہ ہم اللہ کے محبوب بندے بن سکیں اور آخرت میں کامیاب ہوں۔ اللہ ہمیں سچائی پر چلنے اور جھوٹ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 224-227 — شعراء
ترجمہ — شعراء 226
سورہ شعراء آیت 226 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور کہتے وہ ہیں جو کرتے نہیںسورہ آیت 226/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 224–227. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








