Wa warisa Sulaimaanu Daawooda wa qaala yaaa aiyuhan naasu `ullimnaa mantiqat tairi wa ooteenaa min kulli shai`in inna haazaa lahuwal fadlul mubeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور سلیمان اور داؤد کے قائم مقام ہوئے۔ اور کہنے لگے کہ لوگو! ہمیں (خدا کی طرف سے) جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر چیز عنایت فرمائی گئی ہے۔ بےشک یہ (اُس کا) صریح فضل ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و سليمان وارث داود شد و گفت: اى مردم، به ما زبان مرغان آموختند و از هر نعمتى ارزانى داشتند. و اين عنايتى است آشكار.
اور سلیمان اور داؤد کے قائم مقام ہوئے۔ اور کہنے لگے کہ لوگو! ہمیں (خدا کی طرف سے) جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر چیز عنایت فرمائی گئی ہے۔ بےشک یہ (اُس کا) صریح فضل ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
وَرِثَ: وراثت میں پایا، جانشین ہوا۔
مَنطِقَ الطَّيْرِ: پرندوں کی بولیاں سمجھنا، ان کی آوازوں کا مفہوم جاننا۔
الْفَضْلُ الْمُبِينُ: واضح فضل، کھلی بزرگی اور نمایاں برتری۔
تفسیر:
حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے باپ حضرت داؤد علیہ السلام کا وارث بنایا، لیکن یہ وراثت صرف مال و دولت کی نہ تھی، بلکہ نبوت، علم اور سلطنت کی وراثت تھی۔ یہ وہ عظیم نعمت تھی جو اللہ نے انہیں عطا فرمائی۔ پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے اللہ کے فضل کا اظہار کیا اور فرمایا: "اے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولیاں سمجھنا سکھایا گیا ہے، اور ہمیں ہر وہ چیز دی گئی ہے جو انبیاء اور بادشاہوں کو دی جاتی ہے۔" انہوں نے اس نعمت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اللہ کا واضح فضل ہے جو ہمیں دوسروں پر نمایاں کرتا ہے۔
یہاں حضرت سلیمان علیہ السلام کا مقصد فخر یا تکبر نہیں تھا، بلکہ وہ اللہ کی نعمت کا شکر ادا کر رہے تھے اور اپنی قوم کو اللہ کی قدرت اور کرم کی نشانیاں دکھا رہے تھے۔ انہوں نے یہ سب کچھ اپنی ذات کی طرف منسوب نہیں کیا، بلکہ اللہ کی طرف منسوب کیا اور اسے فضلِ الٰہی قرار دیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے علم، حکمت اور سلطنت جیسی عظیم نعمتیں عطا فرماتا ہے۔ لیکن اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان ان نعمتوں کو اللہ کا فضل سمجھے اور ان کا شکر ادا کرے، نہ کہ ان پر غرور کرے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا طرزِ عمل ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے کہ ہم اپنی کامیابیوں اور نعمتوں کو اللہ کا فضل قرار دیں اور دوسروں کو بھی اللہ کی رحمت اور کرم کی طرف راغب کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہے اور جو اس کا شکر ادا کرتا ہے، وہ اسے مزید نوازتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں اللہ کی نعمتوں کو پہچانیں اور ان کا صحیح استعمال کریں، تاکہ ہم بھی اللہ کے فضل کے مستحق بنیں۔
اور سلیمان اور داؤد کے قائم مقام ہوئے۔ اور کہنے لگے کہ لوگو! ہمیں (خدا کی طرف سے) جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر چیز عنایت فرمائی گئی ہے۔ بےشک یہ (اُس کا) صریح فضل ہے
یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کے میدان میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا کہ چیونٹیوں اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔