نمل · 15/93
ترجمہ تلفظ — نمل
وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ عِلْمًا ۖ وَقَالَا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي فَضَّلَنَا عَلَىٰ كَثِيرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ ۝١٥
Wa laqad aatainaa Daawooda wa sulaimaana `ilmaa; wa qaalal hamdu lil laahil lazee faddalanaa `alaa kaseerim min `ibaadihil mu`mineen
📖 اردو ترجمہ
اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم بخشا اور انہوں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے جس نے ہمیں بہت سے مومن بندوں پر فضلیت دی

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • آتَيْنَا: ہم نے عطا کیا۔
  • عِلْمًا: علم، معرفت، فہم اور بصیرت۔
  • فَضَّلَنَا: ہمیں فضیلت دی، برتری عطا کی۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ نے اپنے دو برگزیدہ نبیوں حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کو علمِ عظیم عطا فرمایا۔ یہ علم صرف دنیاوی علم نہیں تھا، بلکہ علمِ نبوت، علمِ قضاوت (فیصلہ کرنے کا علم)، پرندوں اور جانوروں کی زبان سمجھنے کا علم، پہاڑوں کی تسبیح کا علم، اور اللہ کی قدرت کے اسرار و رموز کا علم تھا۔ یہ وہ علم تھا جس نے انہیں زمین کے بادشاہوں اور اللہ کے برگزیدہ بندوں میں ممتاز کر دیا۔

یہ علم پا کر دونوں نبیوں نے جو سب سے پہلا ردِ عمل ظاہر کیا، وہ شکر اور حمد تھا۔ انہوں نے کہا: "الحمد للہ الذی فضلنا علی کثیر من عبادہ المؤمنین" یعنی تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا کی۔

یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی فضیلت کا موازنہ عام لوگوں سے نہیں، بلکہ "مومن بندوں" سے کیا۔ یعنی انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ہم کافروں سے بہتر ہیں، بلکہ کہا کہ ہمیں ایمان والوں میں سے بھی بہت سے لوگوں پر فوقیت دی گئی ہے۔ یہ ان کی عاجزی اور شکرگزاری کا اعلیٰ مقام ہے۔

اس آیت سے ہمیں کئی اہم سبق ملتے ہیں:

  1. علم کی عظمت: اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے علم کا ذکر کیا، کیونکہ علم ہی وہ چیز ہے جو انسان کو بلندی عطا کرتی ہے۔ علمِ دین اور علمِ دنیا دونوں اللہ کی نعمتیں ہیں، لیکن علمِ نافع جو اللہ کی رضا کے لیے ہو، سب سے افضل ہے۔
  2. شکرگزاری کا رویہ: جب اللہ کسی بندے کو علم اور فضیلت دیتا ہے تو بندے کو چاہیے کہ وہ فخر اور تکبر نہ کرے، بلکہ اللہ کا شکر ادا کرے اور اپنی نعمت کو اللہ کی راہ میں استعمال کرے۔
  3. تواضع اور عاجزی: حضرت داؤد اور سلیمان علیہما السلام نے اپنی فضیلت کا ذکر کرتے ہوئے بھی عاجزی کا دامن نہیں چھوڑا۔ انہوں نے اللہ کی طرف نسبت کی، اپنی طرف نہیں۔
  4. نعمت کا اعتراف: نعمت ملنے پر اس کا اعتراف کرنا اور اللہ کا شکر ادا کرنا ایمان کی نشانی ہے۔ جب ہم کسی نعمت کو پائیں تو زبان سے "الحمد للہ" کہیں اور دل سے شکر ادا کریں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی علمِ نافع عطا فرمائے اور اس پر شکر کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔



📜 آیت 13-17 — نمل

13فَلَمَّا جَاءَتْهُمْ آيَاتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوا هَٰذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ
جب ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں پہنچیں، کہنے لگے یہ صریح جادو ہے
14وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا ۚ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ
اور بےانصافی اور غرور سے ان سے انکار کیا لیکن ان کے دل ان کو مان چکے تھے۔ سو دیکھ لو فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا
15وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ عِلْمًا ۖ وَقَالَا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي فَضَّلَنَا عَلَىٰ كَثِيرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ
اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم بخشا اور انہوں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے جس نے ہمیں بہت سے مومن بندوں پر فضلیت دی
16وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ ۖ وَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَيْءٍ ۖ إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ
اور سلیمان اور داؤد کے قائم مقام ہوئے۔ اور کہنے لگے کہ لوگو! ہمیں (خدا کی طرف سے) جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر چیز عنایت فرمائی گئی ہے۔ بےشک یہ (اُس کا) صریح فضل ہے
17وَحُشِرَ لِسُلَيْمَانَ جُنُودُهُ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ وَالطَّيْرِ فَهُمْ يُوزَعُونَ
اور سلیمان کے لئے جنوں اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے گئے اور قسم وار کئے جاتے تھے
نملقرآن فہرست
93آیت
مکیRevelation
15آیت

ترجمہ — نمل 15

سورہ نمل آیت 15 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم بخشا اور…

سورہ آیت 15/93 — نمل النمل (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نمل سنیں, نمل ترجمہ, نمل mp3, نمل pdf. آیت 13–17. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں