حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب ایک شخص کو مارنے کے بعد یہ محسوس کیا کہ یہ کام شیطان کے بہکاوے سے ہوا ہے، تو انہوں نے فوراً اللہ تعالیٰ سے توبہ کی اور دعا کی۔ اس کے بعد انہوں نے اللہ کی عظیم نعمتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا: "اے میرے رب! تو نے مجھ پر جو انعامات کیے ہیں—توبہ کی توفیق، مغفرت، قوت، حکمت اور علم—انہی کے صدقے میں میں عہد کرتا ہوں کہ میں کبھی بھی مجرموں کا مددگار اور ساتھی نہیں بنوں گا۔"
یہ وہ عظیم عہد ہے جو ایک نبی نے اپنے رب سے کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ وعدہ کیا کہ وہ اپنی زندگی میں کسی بھی گنہگار، ظالم یا کافر کی حمایت نہیں کریں گے، نہ ان کے جرائم میں ان کا ہاتھ بٹائیں گے اور نہ ہی ان کے ساتھ تعاون کریں گے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ہم پر اپنی نعمتیں نازل کرتا ہے—چاہے وہ علم ہو، قوت ہو، مال ہو یا کوئی اور صلاحیت—تو ہمیں ان نعمتوں کو اللہ کی اطاعت میں استعمال کرنا چاہیے، نہ کہ معصیت اور گناہ میں۔ ایک مومن کی پہچان یہ ہے کہ وہ ہمیشہ نیکی کا ساتھ دیتا ہے اور برائی سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح یہ عہد کریں کہ ہم کبھی ظالموں اور گنہگاروں کے مددگار نہیں بنیں گے، بلکہ ہمیشہ حق اور سچائی کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ آمین۔
اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے بےخبر ہو رہے تھے تو دیکھا کہ وہاں دو شخص لڑ رہے تھے ایک تو موسٰی کی قوم کا ہے اور دوسرا اُن کے دشمنوں میں سے تو جو شخص اُن کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو موسٰی کے دشمنوں میں سے تھا مدد طلب کی تو اُنہوں نے اس کو مکا مارا اور اس کا کام تمام کر دیا کہنے لگے کہ یہ کام تو (اغوائے) شیطان سے ہوا بیشک وہ (انسان کا) دشمن اور صریح بہکانے والا ہے
الغرض صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے کہ دیکھیں (کیا ہوتا ہے) تو ناگہاں وہی شخص جس نے کل اُن سے مدد مانگی تھی پھر اُن کو پکار رہا ہے۔ موسٰی نے اس سے کہا کہ تُو تو صریح گمراہ ہے
جب موسٰی نے ارادہ کیا کہ اس شخص کو جو ان دونوں کا دشمن تھا پکڑ لیں تو وہ (یعنی موسٰی کی قوم کا آدمی) بول اُٹھا کہ جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا اسی طرح چاہتے ہو کہ مجھے بھی مار ڈالو۔ تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم وستم کرتے پھرو اور یہ نہیں چاہتے ہو کہ نیکو کاروں میں ہو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔