ترجمہ — Tafsir
فَخَرَجَ مِنْهَا خَائِفًا يَتَرَقَّبُ ۖ قَالَ رَبِّ نَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
معانی الفاظ:
- خَائِفًا: ڈرتا ہوا، خوف کی حالت میں۔
- يَتَرَقَّبُ: انتظار کرتا ہوا، نگاہ رکھتا ہوا، ہر طرف سے خطرے کا اندیشہ رکھتا ہوا۔
- نَجِّنِي: مجھے نجات دے، مجھے بچا لے۔
- الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ: ظالم لوگ، یعنی فرعون اور اس کی قوم۔
تفسیر:
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس نیک مشیر شخص کا مشورہ سنا جس نے انہیں شہر چھوڑنے کا کہا تھا، تو وہ فوراً اس پر عمل کرتے ہوئے شہر سے نکل گئے۔ وہ اس حالت میں نکلے کہ ان کے دل میں خوف تھا اور وہ ہر طرف سے خطرے کی توقع کر رہے تھے، ڈرتے تھے کہ کہیں فرعون کے آدمی انہیں پکڑ نہ لیں۔ وہ راستے میں ہر آہٹ پر چونکتے تھے اور انتظار میں تھے کہ کب کوئی ان کا تعاقب کرنے والا آئے۔
اس خوف اور پریشانی کی حالت میں انہوں نے اپنے رب سے دعا کی: "اے میرے رب! مجھے ان ظالم لوگوں سے نجات دے، ان کے شر سے بچا لے۔" یہ دعا ان کی عاجزی، اللہ پر بھروسے اور توکل کا مظہر تھی۔ وہ جانتے تھے کہ اصل پناہ گاہ اللہ ہی ہے، اور وہی اپنے بندوں کو مصیبتوں سے نجات دیتا ہے۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب انسان کسی مشکل میں ہو تو اسے اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کیا۔ اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور انہیں مدین کی طرف راہ دکھائی، جہاں انہیں سکون اور رزق ملا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ پر بھروسہ رکھنا اور اس سے دعا مانگنا کتنا بڑا ذریعہ نجات ہے۔ جب بندہ اللہ سے خلوص دل سے دعا کرتا ہے تو اللہ اس کی مدد ضرور فرماتا ہے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تنہا اور خوفزدہ ہو کر اللہ کو پکارا، اور اللہ نے انہیں نہ صرف اس خطرے سے بچایا بلکہ انہیں ایک نئی زندگی اور مقام عطا فرمایا۔ یہ ہمارے لیے بھی بہترین نمونہ ہے کہ ہر مشکل میں اللہ سے دعا کریں اور اس پر بھروسہ رکھیں۔
📜 آیت 19-23 — قصص
ترجمہ — قصص 21
سورہ قصص آیت 21 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : موسٰی وہاں سے ڈرتے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں…سورہ آیت 21/88 — قصص القصص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قصص سنیں, قصص ترجمہ, قصص mp3, قصص pdf. آیت 19–23. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








