ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- تِلْقَاءَ: سمت، طرف، جانب۔
- مَدْيَنَ: شعیب علیہ السلام کا شہر، جو بحیرہ قُلزم کے کنارے آباد تھا۔
- سَوَاءَ السَّبِیلِ: سیدھا راستہ، درمیانی اور صحیح راہ۔
تفسیر:
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے غضب سے نجات پا کر مصر سے نکلے اور اپنا رخ مدین کی طرف کیا، تو وہ اس علاقے کے راستے سے واقف نہیں تھے۔ تنہا، بے سامان، اور اجنبی سرزمین میں، بھوکے پیاسے، ایک مشکل اور طویل سفر ان کا منتظر تھا۔ اس حالت میں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی: "امید ہے میرا رب مجھے سیدھا راستہ دکھائے گا۔"
یہ دعا محض راستے کی رہنمائی کی درخواست نہیں تھی، بلکہ اس میں توکل علی اللہ، عاجزی، اور اللہ پر بھروسے کا درس پوشیدہ ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی پوری زندگی اللہ کے بھروسے پر گزاری، اور یہاں بھی جب وہ ایک نامعلوم منزل کی طرف بڑھ رہے تھے، تو انہوں نے اللہ سے ہدایت طلب کی۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ جب بھی ہم کسی نئے کام کا آغاز کریں، کسی مشکل راستے پر چلیں، یا کسی فیصلے کا سامنا کریں، تو ہمیں اللہ سے رہنمائی مانگنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی دعا سنتا ہے اور اسے بہترین راستہ دکھاتا ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مدین کا راستہ دکھایا اور وہاں انہیں پناہ، رزق، اور اہل خانہ عطا فرمایا۔
یہ دعا ہمارے لیے ایک بہترین نمونہ ہے کہ ہم اپنے معاملات میں اللہ پر بھروسہ کریں، کیونکہ وہی بہترین راہ دکھانے والا ہے۔ جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے، اللہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی یہ دعا آج بھی ہر مسلمان کے لیے مشعل راہ ہے کہ مشکل وقت میں اللہ سے امید رکھیں اور اس کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔
📜 آیت 20-24 — سورہ قصص
ترجمہ — قصص 22
سورہ قصص آیت 22 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے…سورہ آیت 22/88 — سورہ قصص القصص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ قصص سنیں, سورہ قصص ترجمہ, سورہ قصص mp3, سورہ قصص pdf. آیت 20–24. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Monday, September 7, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








