ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- وَرَدَ: پہنچنا، آنا
- مَدْيَنَ: شام اور حجاز کے درمیان ایک علاقہ، جہاں حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم آباد تھی
- أُمَّةً: ایک جماعت، لوگوں کا گروہ
- يَسْقُونَ: پانی پلاتے ہیں (اپنے جانوروں کو)
- تَذُودَانِ: روک رہی ہیں، ہانک رہی ہیں (اپنی بکریوں کو پانی سے دور رکھتی ہیں)
- مَا خَطْبُكُمَا: تمہارا معاملہ کیا ہے؟ تمہاری حالت کیسی ہے؟
- يُصْدِرَ الرِّعَاءُ: چرواہے اپنے جانوروں کو پانی سے واپس لے جائیں
- شَيْخٌ كَبِيرٌ: بہت بوڑھا، ضعیف العمر
تفسیر:
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر سے نکل کر مدین کی طرف روانہ ہوئے تو وہ ایک طویل اور مشکل سفر کے بعد مدین کے کنویں پر پہنچے۔ وہاں انہوں نے دیکھا کہ بہت سے لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں، لیکن کچھ فاصلے پر دو عورتیں اپنی بکریوں کو روکے کھڑی ہیں، وہ پانی کے قریب نہیں جا رہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کی یہ حالت دیکھ کر ان سے پوچھا: "تمہارا معاملہ کیا ہے؟ تم اپنے جانوروں کو پانی کیوں نہیں پلا رہیں؟"
ان عورتوں نے جواب دیا: "ہم اس وقت تک اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلا سکتیں جب تک چرواہے اپنے جانوروں کو پانی سے واپس نہ لے جائیں، کیونکہ ہم عورتیں ہیں اور مردوں کے ساتھ مل کر پانی نہیں بھر سکتیں۔ ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں، وہ خود اس قابل نہیں کہ اپنے جانوروں کو پانی پلا سکیں، اس لیے یہ کام ہمیں کرنا پڑتا ہے۔"
یہ دو عورتیں حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹیاں تھیں۔ انہوں نے یہ بات نہایت ادب اور سنجیدگی سے کہی، ان کے اندر حیا اور شرافت کا جذبہ نمایاں تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کی یہ حالت دیکھ کر ان کی مدد کرنے کا ارادہ کیا اور ان کے جانوروں کو پانی پلایا۔
دعوتی پہلو:
اس واقعے میں ہمارے لیے بہت سے سبق ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک اجنبی شہر میں پہنچ کر دو کمزور عورتوں کی مدد کی، حالانکہ وہ خود سفر کی تھکاوٹ اور بھوک سے نڈھال تھے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں ہمیشہ دوسروں کی مدد کرنی چاہیے، چاہے ہم خود کتنی ہی مشکل میں ہوں۔
دوسری طرف ان عورتوں کا کردار بھی ہمارے لیے نمونہ ہے کہ انہوں نے حیا اور شرافت کا دامن نہیں چھوڑا، مردوں کے ساتھ مل کر پانی نہیں بھرا، بلکہ انتظار کیا۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ عورت کو چاہیے کہ وہ حیا اور پردے کا لحاظ رکھے، اور اپنی عزت اور شرافت کو ہر حال میں محفوظ رکھے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اس نیکی کا بدلہ انہیں دنیا میں ہی دیا، انہیں حضرت شعیب علیہ السلام کی خدمت کا موقع ملا، اور وہاں انہیں سکون اور راحت نصیب ہوئی۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ نیکی کا بدلہ اللہ تعالیٰ ضرور دیتا ہے، چاہے وہ دنیا میں ہو یا آخرت میں۔
آئیے ہم بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سیرت سے سبق لیں، دوسروں کی مدد کریں، خاص کر کمزوروں اور ضرورت مندوں کی، اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل کے طلبگار بنیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 21-25 — قصص
ترجمہ — قصص 23
سورہ قصص آیت 23 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب مدین کے پانی (کے مقام) پر پہنچے تو…سورہ آیت 23/88 — قصص القصص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قصص سنیں, قصص ترجمہ, قصص mp3, قصص pdf. آیت 21–25. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








