قصص · 24/88
ترجمہ تلفظ — قصص
فَسَقَىٰ لَهُمَا ثُمَّ تَوَلَّىٰ إِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ ۝٢٤
Fasaqaa lahumaa summa tawallaaa ilaz zilli faqaala Rabbi innee limaaa anzalta ilaiya min khairin faqeer
📖 اردو ترجمہ
تو موسٰی نے اُن کے لئے (بکریوں کو) پانی پلا دیا پھر سائے کی طرف چلے گئے۔ اور کہنے لگے کہ پروردگار میں اس کا محتاج ہوں کہ تو مجھ پر اپنی نعمت نازل فرمائے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فَسَقَىٰ لَهُمَا: انہوں نے ان دونوں (عورتوں) کے لیے (جانوروں کو) پانی پلایا۔
  • تَوَلَّىٰ إِلَى الظِّلِّ: وہ سائے کی طرف چلے گئے۔
  • لِمَا أَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ: جو بھی بھلائی (رزق) آپ میری طرف نازل فرمائیں۔
  • فَقِيرٌ: محتاج، ضرورت مند۔

تفسیر:

حضرت موسیٰ علیہ السلام جب مدین پہنچے تو دیکھا کہ دو عورتیں اپنی بھیڑوں کو پانی پلانے کے لیے کنویں کے قریب کھڑی ہیں، لیکن دوسرے چرواہوں کی بھیڑیں کنویں پر ہجوم کیے ہوئے ہیں اور وہ اپنی بھیڑوں کو پانی نہیں پلا پا رہیں۔ آپ علیہ السلام نے ان کی مدد کی، ان کے لیے جانوروں کو پانی پلایا، اور یہ کام انہوں نے خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے کیا، بغیر کسی اجرت یا بدلے کے۔

پھر جب یہ کام مکمل ہوا تو شدید گرمی کی وجہ سے آپ ایک درخت کے سائے میں جا کر بیٹھ گئے۔ اس وقت آپ بھوکے تھے اور سخت تھکے ہوئے تھے۔ اس حالت میں آپ نے اپنے رب سے دعا کی، لیکن کس انداز میں؟ آپ نے براہِ راست کھانا یا روٹی نہیں مانگی، بلکہ ادب اور انکساری کے ساتھ عرض کیا: "اے میرے رب! میں اس بھلائی کا محتاج ہوں جو تو میری طرف نازل فرمائے۔" یعنی جو کچھ بھی تو دے، میں اس کا محتاج ہوں۔ یہ دعا انتہائی جامع اور متواضعانہ تھی، جس میں اپنی حاجت کا اظہار اللہ کی طرف متوجہ ہو کر کیا گیا۔

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ مصیبت اور تنگی کے وقت اللہ سے دعا کرنی چاہیے، لیکن ادب اور انکساری کے ساتھ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی حاجت کو اللہ کے سامنے اس طرح رکھا کہ گویا وہ اپنی ضرورت کا اظہار کر رہے ہیں، نہ کہ تقاضا۔ یہی طرزِ عمل ہر مسلمان کے لیے نمونہ ہے۔

اس دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد کی اور انہیں رزق عطا فرمایا۔ جلد ہی ان دو عورتوں میں سے ایک ان کے پاس آئی اور انہیں اپنے والد کی طرف بلایا تاکہ ان کی خدمت کا صلہ دیا جائے۔ یوں اللہ نے ان کی حاجت پوری فرمائی۔

یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ نیکی کرنے والے کو اللہ کبھی محروم نہیں رکھتا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بلا کسی غرض کے دو کمزور عورتوں کی مدد کی، تو اللہ نے انہیں رزق، پناہ اور خاندان عطا کیا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم دوسروں کی مدد کریں، خاص کر کمزوروں اور ضرورت مندوں کی، اور اللہ پر بھروسہ رکھیں کہ وہ ہمیں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔

یہ دعا ہمارے لیے بھی ایک بہترین نمونہ ہے۔ جب بھی ہم کسی مشکل میں ہوں، تو ہمیں چاہیے کہ اللہ سے اس طرح دعا کریں: "اے رب! میں جو بھی بھلائی تو مجھے دے، اس کا محتاج ہوں۔" یہ دعا ہمیں اللہ کے سامنے عاجزی اور انکساری سکھاتی ہے اور اس کی رحمت کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 22-26 — قصص

22وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَاءَ مَدْيَنَ قَالَ عَسَىٰ رَبِّي أَن يَهْدِيَنِي سَوَاءَ السَّبِيلِ
اور جب مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے اُمید ہے کہ میرا پروردگار مجھے سیدھا رستہ بتائے
23وَلَمَّا وَرَدَ مَاءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسْقُونَ وَوَجَدَ مِن دُونِهِمُ امْرَأَتَيْنِ تَذُودَانِ ۖ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا ۖ قَالَتَا لَا نَسْقِي حَتَّىٰ يُصْدِرَ الرِّعَاءُ ۖ وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ
اور جب مدین کے پانی (کے مقام) پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہو رہے (اور اپنے چارپایوں کو) پانی پلا رہے ہیں اور ان کے ایک طرف دو عورتیں (اپنی بکریوں کو) روکے کھڑی ہیں۔ موسٰی نے (اُن سے) کہا تمہارا کیا کام ہے۔ وہ بولیں کہ جب تک چرواہے (اپنے چارپایوں کو) لے نہ جائیں ہم پانی نہیں پلا سکتے اور ہمارے والد بڑی عمر کے بوڑھے ہیں
24فَسَقَىٰ لَهُمَا ثُمَّ تَوَلَّىٰ إِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ
تو موسٰی نے اُن کے لئے (بکریوں کو) پانی پلا دیا پھر سائے کی طرف چلے گئے۔ اور کہنے لگے کہ پروردگار میں اس کا محتاج ہوں کہ تو مجھ پر اپنی نعمت نازل فرمائے
25فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ قَالَتْ إِنَّ أَبِي يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا ۚ فَلَمَّا جَاءَهُ وَقَصَّ عَلَيْهِ الْقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفْ ۖ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
(تھوڑی دیر کے بعد) ان میں سے ایک عورت جو شرماتی اور لجاتی چلی آتی تھی۔ موسٰی کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ تم کو میرے والد بلاتے ہیں کہ تم نے جو ہمارے لئے پانی پلایا تھا اس کی تم کو اُجرت دیں۔ جب وہ اُن کے پاس آئے اور اُن سے اپنا ماجرا بیان کیا تو اُنہوں نے کہا کہ کچھ خوف نہ کرو۔ تم ظالم لوگوں سے بچ آئے ہو
26قَالَتْ إِحْدَاهُمَا يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ ۖ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ
ایک لڑکی بولی کہ ابّا ان کو نوکر رکھ لیجئے کیونکہ بہتر نوکر جو آپ رکھیں وہ ہے (جو) توانا اور امانت دار (ہو)
قصصقرآن فہرست
88آیت
مکیRevelation
24آیت

ترجمہ — قصص 24

سورہ قصص آیت 24 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو موسٰی نے اُن کے لئے (بکریوں کو) پانی پلا…

سورہ آیت 24/88 — قصص القصص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قصص سنیں, قصص ترجمہ, قصص mp3, قصص pdf. آیت 22–26. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں