Awalam yaraw annaa ja`alnaa haraman aaminanw wa yutakhattafun naasu min haw lihim; afabil baatili yu`minoona wa bini`matil laahi yakfuroon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو مقام امن بنایا ہے اور لوگ اس کے گرد ونواح سے اُچک لئے جاتے ہیں۔ کیا یہ لوگ باطل پر اعتقاد رکھتے ہیں اور خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آيا ندانستهاند كه حرم را جاى امن مردم قرار داديم، حال آنكه مردم در اطرافشان به اسارت ربوده مىشوند؟ آيا به باطل ايمان مىآورند و نعمت خدا را كفران مىكنند؟
کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو مقام امن بنایا ہے اور لوگ اس کے گرد ونواح سے اُچک لئے جاتے ہیں۔ کیا یہ لوگ باطل پر اعتقاد رکھتے ہیں اور خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
حَرَمًا آمِنًا: امن والا، جہاں قتل و خونریزی، ظلم و زیادتی اور ڈاکہ زنی حرام ہو۔
یُتَخَطَّفُ: ادھر ادھر سے اچک لیا جاتا ہے، قتل، قید اور لوٹ مار کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
بِالْبَاطِلِ: جھوٹے معبودوں، بتوں اور شیطانی عقائد پر ایمان لانا۔
نِعْمَتَ اللہِ: اللہ کی وہ عظیم نعمت جو اس نے اہل مکہ کو امن و حرمت کی صورت میں دی۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اہل مکہ کو ان کی ناشکری پر متنبہ فرما رہے ہیں۔ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے لیے مکہ کو ایک پرامن حرم بنا دیا ہے؟ جہاں وہ اپنی جان، مال اور عزت کے ساتھ محفوظ رہتے ہیں، جبکہ ان کے گرد و نواح میں لوگ ڈاکہ زنی، قتل، قید اور لوٹ مار کا شکار ہوتے ہیں۔ عرب کے مختلف قبائل آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے تھے، ایک دوسرے کو قتل کرتے، قیدی بناتے اور مال لوٹتے تھے، لیکن حرم مکہ کی حرمت کی وجہ سے اہل مکہ ہمیشہ امن و امان کی زندگی بسر کرتے تھے۔
یہ اللہ کی طرف سے اہل مکہ پر ایک خاص فضل و کرم تھا، جس کا تقاضا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں اور اس کا شکر ادا کریں۔ لیکن افسوس! انہوں نے اس نعمت کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے اللہ کی نعمتوں کا انکار کیا اور بتوں کو اپنا معبود بنا لیا۔ وہ باطل (جھوٹے معبودوں) پر ایمان لائے اور اللہ کی عظیم نعمت (امن، سلامتی اور نبی کریم ﷺ کی بعثت) کو ماننے سے انکار کر دیا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی تلقین کرتی ہے۔ اللہ نے ہمیں جو امن، سلامتی، رزق اور دین اسلام جیسی عظیم نعمت عطا کی ہے، اس کا تقاضا ہے کہ ہم اللہ کے شکر گزار بندے بنیں، اس کی عبادت کریں اور اس کی نافرمانی سے بچیں۔ امن و سلامتی اللہ کی سب سے بڑی نعمتوں میں سے ہے، جس کی قدر وہی کر سکتا ہے جس نے جنگ اور خوف کی حالت دیکھی ہو۔ ہمیں چاہیے کہ اس نعمت کی حفاظت کریں اور اللہ کی طرف رجوع کریں، کیونکہ اللہ ہی امن دینے والا اور حفاظت کرنے والا ہے۔
پھر جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خدا کو پکارتے (اور) خالص اُسی کی عبادت کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ اُن کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو جھٹ شرک کرنے لگے جاتے ہیں
کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو مقام امن بنایا ہے اور لوگ اس کے گرد ونواح سے اُچک لئے جاتے ہیں۔ کیا یہ لوگ باطل پر اعتقاد رکھتے ہیں اور خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔