آل عمران · 126/200
ترجمہ تلفظ — آل عمران
وَمَا جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرَىٰ لَكُمْ وَلِتَطْمَئِنَّ قُلُوبُكُم بِهِ ۗ وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ ۝١٢٦
Wa maa ja`alahul laahu illaa bushraa lakum wa litatma`inna quloobukum bih` wa man-nasru illaa min `indilllaahil `Azeezil Hakeem
📖 اردو ترجمہ
اور اس مدد کو خدا نے تمھارے لیے (ذریعہٴ) بشارت بنایا یعنی اس لیے کہ تمہارے دلوں کو اس سے تسلی حاصل ہو ورنہ مدد تو خدا ہی کی ہے جو غالب (اور) حکمت والا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • بُشْرَىٰ: خوشخبری، بشارت
  • لِتَطْمَئِنَّ: تا کہ اطمینان حاصل ہو، سکون ملے
  • الْعَزِيزِ: غالب، زبردست، جسے کوئی مغلوب نہ کر سکے
  • الْحَكِيمِ: حکمت والا، جو ہر کام حکمت سے کرے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اہلِ ایمان کو ایک عظیم حقیقت سے آگاہ فرمایا ہے۔ جب بدر کے میدان میں مسلمانوں کی تعداد کم تھی اور سامانِ جنگ بھی محدود تھا، تو اللہ نے اپنے فرشتوں کے ذریعے ان کی مدد فرمائی۔ مگر اس امدادِ الٰہی کا اصل مقصد محض جنگی امداد نہیں تھا، بلکہ یہ ایک بشارت اور خوشخبری تھی تاکہ مومنین کے دلوں کو سکون و اطمینان حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ امداد اور وعدہِ نصرت صرف اس لیے ہے کہ تمہارے دل مطمئن ہو جائیں، تمہارے اندر ہمت اور حوصلہ پیدا ہو، اور تم یہ جان لو کہ اللہ تمہارے ساتھ ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ ایک اہم حقیقت بیان فرما رہے ہیں کہ اصل نصرت اور فتح صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ نہ فرشتے خود نصرت دیتے ہیں، نہ اسباب و وسائل، بلکہ یہ سب اللہ کے حکم اور اس کی مشیت سے ہی کام آتے ہیں۔ اللہ "عزیز" ہے یعنی ایسا غالب جو کبھی مغلوب نہیں ہوتا، اور "حکیم" ہے یعنی ہر کام حکمت کے ساتھ کرتا ہے۔ وہ جب چاہتا ہے نصرت عطا فرماتا ہے، اور جو چاہتا ہے اسے عزیز کر دیتا ہے۔

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے اسباب پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اللہ پر توکل کرنا چاہیے۔ جب ہم اللہ پر بھروسہ کریں گے تو اللہ ہمارے دلوں میں سکون ڈال دے گا، اور جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ یہی وہ ایمان کی دولت ہے جو مومن کو ہر مشکل میں مضبوط رکھتی ہے۔

اے ایمان والو! جب تم پر کوئی مصیبت آئے یا تمہیں کوئی مشکل پیش آئے، تو یاد رکھو کہ اصل مددگار صرف اللہ ہے۔ وہی تمہارے دلوں کو سکون دیتا ہے، وہی تمہاری مشکلات کو آسان کرتا ہے۔ اس لیے ہمیشہ اللہ سے مدد مانگو، اس پر بھروسہ کرو، اور یقین رکھو کہ اللہ اپنے مومن بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ اللہ کی نصرت ضرور آتی ہے، چاہے وہ کسی بھی شکل میں آئے۔ بس صبر کرو اور اللہ پر یقین رکھو۔

🎧 سنیں

📜 آیت 124-128 — آل عمران

124إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ أَلَن يَكْفِيَكُمْ أَن يُمِدَّكُمْ رَبُّكُم بِثَلَاثَةِ آلَافٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُنزَلِينَ
جب تم مومنوں سے یہ کہہ (کر ان کے دل بڑھا) رہے تھے کہ کیا یہ کافی نہیں کہ پروردگار تین ہزار فرشتے نازل کر کے تمہیں مدد دے
125بَلَىٰ ۚ إِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا وَيَأْتُوكُم مِّن فَوْرِهِمْ هَٰذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُم بِخَمْسَةِ آلَافٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُسَوِّمِينَ
ہاں اگر تم دل کو مضبوط رکھو اور (خدا سے) ڈرتے رہو اور کافر تم پر جوش کے ساتھ دفعتہً حملہ کردیں تو پروردگار پانچ ہزار فرشتے جن پر نشان ہوں گے تمہاری مدد کو بھیجے گا
126وَمَا جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرَىٰ لَكُمْ وَلِتَطْمَئِنَّ قُلُوبُكُم بِهِ ۗ وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ
اور اس مدد کو خدا نے تمھارے لیے (ذریعہٴ) بشارت بنایا یعنی اس لیے کہ تمہارے دلوں کو اس سے تسلی حاصل ہو ورنہ مدد تو خدا ہی کی ہے جو غالب (اور) حکمت والا ہے
127لِيَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَوْ يَكْبِتَهُمْ فَيَنقَلِبُوا خَائِبِينَ
(یہ خدا نے) اس لیے (کیا) کہ کافروں کی ایک جماعت کو ہلاک یا انہیں ذلیل ومغلوب کر دے کہ (جیسے آئے تھے ویسے ہی) ناکام واپس جائیں
128لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ
(اے پیغمبر) اس کام میں تمہارا کچھ اختیار نہیں (اب دو صورتیں ہیں) یا خدا انکے حال پر مہربانی کرے یا انہیں عذاب دے کہ یہ ظالم لوگ ہیں
آل عمرانقرآن فہرست
200آیت
مدنیRevelation
126آیت

ترجمہ — آل عمران 126

سورہ آل عمران آیت 126 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اس مدد کو خدا نے تمھارے لیے (ذریعہٴ) بشارت…

سورہ آیت 126/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 124–128. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں