آل عمران · 137/200
ترجمہ تلفظ — آل عمران
قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِكُمۡ سُنَنٌ فَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَٱنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُكَذِّبِينَ  ۝١٣٧
Qad khalat min qablikum sunanum faseeroo fil ardi fanzuroo kaifa kaana `aaqiba tul mukazzibeen
📖 اردو ترجمہ
تم لوگوں سے پہلے بھی بہت سے واقعات گزر چکے ہیں تو تم زمین کی سیر کرکے دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • خَلَتْ: گزر چکیں، پیچھے رہ گئیں۔
  • سُنَنٌ: طریقے، راہیں، قانون (یہاں مراد اللہ کے قوانین اور اُس کے فیصلے ہیں جو پچھلی امتوں پر نافذ ہوئے
  • عَاقِبَةُ: انجام، نتیجہ، آخری انجام۔
  • الْمُكَذِّبِينَ: جھٹلانے والے، وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا۔

تفسیر:

اے ایمان والو! جب تمہیں اُحد کے دن تکلیف پہنچی اور تم پر صدمات آئے تو اللہ تعالیٰ تمہیں تسلی دیتا ہے اور کہتا ہے کہ تم سے پہلے بھی بہت سی قومیں گزر چکی ہیں، اور اللہ کا قانون ہمیشہ سے جاری ہے۔ اُس کا طریقہ یہ رہا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے، کبھی سختی سے اور کبھی آسانی سے، لیکن انجام کار ہمیشہ اہل ایمان کے حق میں ہوتا ہے اور جھٹلانے والوں کا انجام تباہی اور بربادی ہوتا ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ زمین پر چلو پھرو اور دیکھو کہ جن لوگوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا، اُن کا انجام کیا ہوا؟ اُن کے گھر اجڑ گئے، اُن کی سلطنتیں ختم ہو گئیں، اُن کی قومیں صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں۔ یہ سب کچھ اِس لیے ہوا کہ اُنہوں نے حق کو جھٹلایا اور اپنے رسولوں کی مخالفت کی۔

یہ آیت مسلمانوں کو صبر اور استقامت کی تعلیم دیتی ہے۔ اگر تمہیں کوئی نقصان پہنچے یا تم پر کوئی مصیبت آئے تو گھبراؤ نہیں، کیونکہ یہ اللہ کا قانون ہے کہ وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ جو لوگ صبر کریں گے اور اللہ پر بھروسہ رکھیں گے، اُن کے لیے کامیابی ہے، اور جو لوگ حق کو جھٹلائیں گے، اُن کا انجام ویسا ہی ہوگا جیسا پچھلے جھٹلانے والوں کا ہوا۔

یہ آیت ہمیں تاریخ سے سبق لینے کی تلقین کرتی ہے۔ زمین پر اللہ کے نشانات موجود ہیں، تباہ شدہ تہذیبوں کے کھنڈرات گواہ ہیں کہ اللہ کا قانون کبھی نہیں بدلتا۔ پس اے مسلمانو! تم اپنے ایمان پر قائم رہو، اللہ کے دین کی مدد کرو، اور اُس کے وعدے پر یقین رکھو کہ انجام کار متقیوں کے لیے ہے۔

یہ بھی یاد رکھو کہ یہ آیت صرف اُحد کے واقعے کے لیے نہیں، بلکہ ہر زمانے کے لیے ہے۔ جب بھی تم پر کوئی مصیبت آئے، تو تاریخ سے سبق لو، اللہ کے قانون پر بھروسہ کرو، اور یقین رکھو کہ اللہ اپنے مخلص بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ آخرت میں بھی کامیابی اہل ایمان کے لیے ہے اور دنیا میں بھی، بشرطیکہ وہ صبر اور تقویٰ اختیار کریں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 135-139 — آل عمران

135وَٱلَّذِينَ إِذَا فَعَلُواْ فَٰحِشَةً أَوۡ ظَلَمُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ ذَكَرُواْ ٱللَّهَ فَٱسۡتَغۡفَرُواْ لِذُنُوبِهِمۡ وَمَن يَغۡفِرُ ٱلذُّنُوبَ إِلَّا ٱللَّهُ وَلَمۡ يُصِرُّواْ عَلَىٰ مَا فَعَلُواْ وَهُمۡ يَعۡلَمُونَ 
اور وہ کہ جب کوئی کھلا گناہ یا اپنے حق میں کوئی اور برائی کر بیٹھتے ہیں تو خدا کو یاد کرتے اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور خدا کے سوا گناہ بخش بھی کون سکتا ہے؟ اور جان بوجھ کر اپنے افعال پر اڑے نہیں رہتے
136أُوْلَٰٓئِكَ جَزَآؤُهُم مَّغۡفِرَةٌ مِّن رَّبِّهِمۡ وَجَنَّٰتٌ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ وَنِعۡمَ أَجۡرُ ٱلۡعَٰمِلِينَ 
ایسے ہی لوگوں کا صلہ پروردگار کی طرف سے بخشش اور باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) وہ ان میں ہمیشہ بستے رہیں گے اور (اچھے) کام کرنے والوں کا بدلہ بہت اچھا ہے
137قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِكُمۡ سُنَنٌ فَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَٱنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُكَذِّبِينَ 
تم لوگوں سے پہلے بھی بہت سے واقعات گزر چکے ہیں تو تم زمین کی سیر کرکے دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا
138هَٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوۡعِظَةٌ لِّلۡمُتَّقِينَ 
یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے
139وَلَا تَهِنُواْ وَلَا تَحۡزَنُواْ وَأَنتُمُ ٱلۡأَعۡلَوۡنَ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ 
اور (دیکھو) بے دل نہ ہونا اور نہ کسی طرح کا غم کرنا اگر تم مومن (صادق) ہو تو تم ہی غالب رہو گے
آل عمرانقرآن فہرست
200آیت
مدنیRevelation
137آیت

ترجمہ — آل عمران 137

سورہ آیت 137/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 135–139. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں