آل عمران · 136/200
ترجمہ تلفظ — آل عمران
أُولَٰئِكَ جَزَاؤُهُم مَّغْفِرَةٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَجَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ ۝١٣٦
Ulaaa`ika jazaaa`uhum maghfiratum mir Rabbihim wa Jannaatun tajree min tahtihal anhaaru khaalideena feeha; wa ni`ma ajrul `aamileen
📖 اردو ترجمہ
ایسے ہی لوگوں کا صلہ پروردگار کی طرف سے بخشش اور باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) وہ ان میں ہمیشہ بستے رہیں گے اور (اچھے) کام کرنے والوں کا بدلہ بہت اچھا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • مغفرت: گناہوں کی بخشش اور پردہ پوشی۔
  • جنات: باغات، جنت کے باغ۔
  • تجری من تحتها الأنهار: جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔
  • خالدین: ہمیشہ رہنے والے۔
  • نعم أجر العاملین: عمل کرنے والوں کا کیا ہی اچھا اجر ہے۔

تفسیر:

یہ آیت ان مومنوں کے انجامِ نیک کا ذکر کر رہی ہے جن کی صفات کا تذکرہ گزشتہ آیات میں ہوا۔ وہ لوگ جو صبر کرنے والے، سچے، فرمانبردار، اللہ کے حضور جھکنے والے، اور استغفار کرنے والے ہیں، ان کا اجر کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے۔ یعنی اللہ ان کے گناہوں کو ڈھانپ دے گا اور ان سے درگزر فرمائے گا، کوئی سزا انہیں نہیں چھوئے گی۔

پھر فرمایا کہ ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ یہ جنت کے باغ ہیں، جن کی نہریں دودھ، شہد، اور خالص پانی کی ہوں گی۔ ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے، کبھی باہر نہیں نکلیں گے، نہ انہیں موت آئے گی، نہ بیماری، نہ کوئی رنج و غم۔ یہ ابدی زندگی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگی۔

آخر میں فرمایا: "اور عمل کرنے والوں کا کیا ہی اچھا اجر ہے!" یہ اللہ کی طرف سے انعام ہے، اور یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو نیک عمل کرتے ہیں، صرف دعوے نہیں کرتے بلکہ حقیقت میں اللہ کی اطاعت کرتے ہیں۔

دعوتی پہلو:

پیارے مسلمانوں! یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو کبھی ناکام نہیں کرتا۔ جو شخص ایمان لائے، صبر کرے، اللہ سے ڈرے، اور اپنے گناہوں پر استغفار کرے، اس کے لیے اللہ نے دو عظیم تحفے تیار کیے ہیں: ایک تو گناہوں کی معافی، اور دوسرا جنت کی دائمی نعمتیں۔ کیا اس سے بڑی خوشخبری کوئی اور ہو سکتی ہے؟ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو ان صفات کے مطابق ڈھالیں، تاکہ ہم بھی ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہو جائیں جن کا ذکر اللہ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ یہ دنیا کی محنت کا صلہ آخرت میں ملے گا، اور اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اللہ ہمیں عمل کی توفیق دے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 134-138 — آل عمران

134الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
جو آسودگی اور تنگی میں (اپنا مال خدا کی راہ میں) خرچ کرتےہیں اور غصے کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہیں اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے
135وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَىٰ مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ
اور وہ کہ جب کوئی کھلا گناہ یا اپنے حق میں کوئی اور برائی کر بیٹھتے ہیں تو خدا کو یاد کرتے اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور خدا کے سوا گناہ بخش بھی کون سکتا ہے؟ اور جان بوجھ کر اپنے افعال پر اڑے نہیں رہتے
136أُولَٰئِكَ جَزَاؤُهُم مَّغْفِرَةٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَجَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ
ایسے ہی لوگوں کا صلہ پروردگار کی طرف سے بخشش اور باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) وہ ان میں ہمیشہ بستے رہیں گے اور (اچھے) کام کرنے والوں کا بدلہ بہت اچھا ہے
137قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُمْ سُنَنٌ فَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ
تم لوگوں سے پہلے بھی بہت سے واقعات گزر چکے ہیں تو تم زمین کی سیر کرکے دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا
138هَٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ
یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے
آل عمرانقرآن فہرست
200آیت
مدنیRevelation
136آیت

ترجمہ — آل عمران 136

سورہ آل عمران آیت 136 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ایسے ہی لوگوں کا صلہ پروردگار کی طرف سے بخشش…

سورہ آیت 136/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 134–138. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں