آل عمران · 146/200
ترجمہ تلفظ — آل عمران
وَكَأَيِّن مِّن نَّبِيٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ فَمَا وَهَنُوا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَكَانُوا ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ ۝١٤٦
Wa ka aiyim min Nabiyyin qaatala ma`ahoo ribbiyyoona kaseerun famaa wahanoo limaaa Asaabahum fee sabeelil laahi wa maa da`ufoo wa mas takaanoo; wallaahu yuhibbus saabireen
📖 اردو ترجمہ
اور بہت سے نبی ہوئے ہیں جن کے ساتھ ہو کر اکثر اہل الله (خدا کے دشمنوں سے) لڑے ہیں تو جو مصبتیں ان پر راہِ خدا میں واقع ہوئیں ان کے سبب انہوں نے نہ تو ہمت ہاری اور نہ بزدلی کی نہ (کافروں سے) دبے اور خدا استقلال رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • وَکَأَیِّن: کتنے ہی، بہت سے
  • رِبِّیُّونَ: اللہ والے، ربانی علماء و عباد، یا بڑی جماعتیں
  • وَهَنُوا: ڈھیلے پڑ گئے، ہمت ہار بیٹھے
  • ضَعُفُوا: کمزور پڑ گئے
  • اسْتَکَانُوا: دشمن کے سامنے جھک گئے، عاجز و مغلوب ہو گئے

تفسیر:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو تسلی اور ہمت دلائی ہے کہ جہاد اور اللہ کے راستے میں قربانی کا یہ سلسلہ صرف تمہارے ساتھ خاص نہیں، بلکہ اس سے پہلے بھی بہت سے انبیاء علیہم السلام اور ان کی امتوں نے اس راہ میں قربانیاں دی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کتنے ہی انبیاء ایسے گزرے ہیں جن کے ساتھ ان کے ربانی اور اللہ والے پیروکاروں کی بڑی جماعتیں مل کر لڑیں۔ انہیں راہِ خدا میں زخم بھی لگے، شہادتیں بھی ہوئیں، نقصانات بھی اٹھانے پڑے، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری، نہ وہ ڈھیلے پڑے، نہ کمزور ہوئے اور نہ ہی دشمن کے سامنے سر جھکایا۔

یہ تین چیزیں جو اللہ نے بیان فرمائیں — نہ وہ ڈھیلے پڑے، نہ کمزور ہوئے، نہ دشمن کے آگے جھکے — یہ دراصل صبر اور استقامت کی انتہائی اعلیٰ منزل ہے۔ انہوں نے ثابت قدمی کا ایسا مظاہرہ کیا کہ مصائب اور مشکلات ان کے عزم و ہمت کو متزلزل نہ کر سکیں۔ ان کا ایمان اور اللہ پر بھروسہ اتنا مضبوط تھا کہ راہِ حق میں آنے والی ہر تکلیف کو وہ اللہ کی رضا کے لیے خندہ پیشانی سے قبول کرتے رہے۔

اس آیت کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اس کے لیے یہی سب سے بڑی سعادت ہے۔ صبر کا مطلب صرف خاموش رہنا نہیں، بلکہ اللہ کے راستے میں ثابت قدم رہنا، مصائب پر صبر کرنا، اور دشمن کے مقابلے میں دلیری اور استقامت کا مظاہرہ کرنا ہے۔

پیارے مسلمانو! جب ہم تاریخِ انبیاء پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے راستے میں آزمائشیں اور مشکلات ہی وہ راستہ ہیں جو بندے کو اللہ کے قریب کرتا ہے اور اس کے درجات بلند کرتا ہے۔ آج اگر ہم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو ہمیں گھبرانا نہیں چاہیے، بلکہ ان انبیاء اور صالحین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے صبر اور استقامت کا دامن تھامے رکھنا چاہیے۔ یاد رکھیں، اللہ کی محبت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ہم اس کی راہ میں صبر کریں۔ جو شخص اللہ کی راہ میں صبر کرتا ہے، اللہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا، بلکہ اسے فتح اور کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے۔



📜 آیت 144-148 — آل عمران

144وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ
اور محمد (صلی الله علیہ وسلم) تو صرف (خدا کے) پیغمبر ہیں ان سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ہو گزرے ہیں بھلا اگر یہ مر جائیں یا مارے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ؟ (یعنی مرتد ہو جاؤ؟) اور جو الٹے پاؤں پھر جائے گا تو خدا کا کچھ نقصان نہ کر سکے گا اور خدا شکر گزاروں کو (بڑا) ثواب دے گا
145وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ كِتَابًا مُّؤَجَّلًا ۗ وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الْآخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا ۚ وَسَنَجْزِي الشَّاكِرِينَ
اور کسی شخص میں طاقت نہیں کہ خدا کے حکم کے بغیر مر جائے (اس نے موت کا) وقت مقرر کر کے لکھ رکھا ہے اور جو شخص دنیا میں (اپنے اعمال کا) بدلہ چاہے اس کو ہم یہیں بدلہ دے دیں گے اور جو آخرت میں طالبِ ثواب ہو اس کو وہاں اجر عطا کریں گے اور ہم شکر گزاروں کو عنقریب (بہت اچھا) صلہ دیں گے
146وَكَأَيِّن مِّن نَّبِيٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ فَمَا وَهَنُوا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَكَانُوا ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ
اور بہت سے نبی ہوئے ہیں جن کے ساتھ ہو کر اکثر اہل الله (خدا کے دشمنوں سے) لڑے ہیں تو جو مصبتیں ان پر راہِ خدا میں واقع ہوئیں ان کے سبب انہوں نے نہ تو ہمت ہاری اور نہ بزدلی کی نہ (کافروں سے) دبے اور خدا استقلال رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے
147وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ
اور (اس حالت میں) ان کے منہ سے کوئی بات نکلتی ہے تو یہی کہ اے پروردگار ہمارے گناہ اور زیادتیاں جو ہم اپنے کاموں میں کرتے رہے ہیں معاف فرما اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور کافروں پر فتح عنایت فرما
148فَآتَاهُمُ اللَّهُ ثَوَابَ الدُّنْيَا وَحُسْنَ ثَوَابِ الْآخِرَةِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
تو خدا نے ان کو دنیا میں بھی بدلہ دیا اور آخرت میں بھی بہت اچھا بدلہ (دے گا) اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے
آل عمرانقرآن فہرست
200آیت
مدنیRevelation
146آیت

ترجمہ — آل عمران 146

سورہ آل عمران آیت 146 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور بہت سے نبی ہوئے ہیں جن کے ساتھ ہو…

سورہ آیت 146/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 144–148. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں