ترجمہ — Tafsir
آیت نمبر 37 کے اہم الفاظ کے معانی:
- فَتَقَبَّلَهَا: تو اللہ نے اسے قبول فرمایا
- بِقَبُولٍ حَسَنٍ: اچھی قبولیت کے ساتھ
- وَأَنبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا: اور اسے اچھی نشوونما دی
- وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا: اور زکریا (علیہ السلام) کو اس کا کفیل بنایا
- الْمِحْرَابَ: عبادت گاہ، مقدس جگہ
- أَنَّىٰ لَكِ هَـٰذَا: یہ تمہیں کہاں سے آیا
- بِغَيْرِ حِسَابٍ: بغیر شمار کے، بے حساب
تفسیر:
یہ آیت مبارکہ حضرت مریم (علیہا السلام) کے فضل و کمال اور اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت کا حسین منظر پیش کرتی ہے۔ جب حضرت عمران کی بیوی نے اپنے پیٹ میں موجود بچے کو اللہ کی راہ میں نذر کیا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے اس نذر کو قبول فرمایا اور اسے بہترین قبولیت عطا کی۔ اللہ نے حضرت مریم (علیہا السلام) کو ایسی پاکیزہ نشوونما دی کہ وہ اپنے زمانے کی سب سے بہترین اور پاکیزہ خاتون بنیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو ان کا کفیل بنایا، جو ان کے خالو تھے اور بہت نیک اور عابد انسان تھے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے حضرت مریم (علیہا السلام) کو بیت المقدس کے ایک مقدس حجرے (محراب) میں رکھا، جو عبادت کے لیے مخصوص تھا۔
اس آیت کا سب سے حیرت انگیز واقعہ یہ ہے کہ جب بھی حضرت زکریا (علیہ السلام) حضرت مریم (علیہا السلام) کے پاس اس محراب میں جاتے، تو ان کے پاس کھانے کا رزق موجود پاتے۔ وہ پوچھتے: "اے مریم! یہ رزق تمہیں کہاں سے آتا ہے؟" تو وہ فرماتیں: "یہ اللہ کی طرف سے ہے، بے شک اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔"
یہ ایک معجزہ تھا جو اللہ نے اپنی نیک بندی کو عطا کیا تھا۔ حضرت مریم (علیہا السلام) کا یہ جواب ایمان اور یقین کا اعلیٰ نمونہ ہے کہ وہ اپنے رب پر مکمل بھروسہ رکھتی تھیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں:
- اللہ پر بھروسہ: جب انسان اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ کے حوالے کر دیتا ہے تو اللہ اسے ایسے رزق اور مدد سے نوازتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔
- نیک اولاد کی دعا: حضرت عمران کی بیوی نے جو نذر مانی تھی، اللہ نے اسے قبول فرمایا اور اسے بہترین اولاد عطا کی۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنی اولاد کی تربیت پر توجہ دینی چاہیے اور انہیں نیک بنانے کے لیے دعا کرنی چاہیے۔
- اخلاص اور عبادت: حضرت مریم (علیہا السلام) کی عبادت اور اخلاص کی برکت سے اللہ نے انہیں معجزاتی رزق عطا کیا۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ عبادت اور اخلاص کے ذریعے انسان اللہ کے قرب اور اس کی خاص رحمت کا مستحق بنتا ہے۔
- بے حساب رزق کا یقین: اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بے حساب رزق دیتا ہے۔ ہمیں اپنے رب پر مکمل یقین رکھنا چاہیے کہ وہ ہمیں ہمیشہ رزق دینے والا ہے، چاہے حالات کیسے بھی ہوں۔
یہ آیت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر ہم اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالیں، اپنے دلوں کو پاک کریں اور اپنے اعمال کو نیک بنائیں تو اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی برکتیں عطا فرمائے گا جو ہماری سمجھ سے باہر ہوں گی۔ اللہ اپنے نیک بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا اور ان کی حفاظت اور رزق کا انتظام خود فرماتا ہے۔
📜 آیت 35-39 — آل عمران
ترجمہ — آل عمران 37
سورہ آل عمران آیت 37 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو پروردگار نے اس کو پسندیدگی کے ساتھ قبول فرمایا…سورہ آیت 37/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 35–39. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








