آل عمران · 36/200
ترجمہ تلفظ — آل عمران
فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنثَىٰ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنثَىٰ ۖ وَإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ۝٣٦
Falammaa waqa`athaa qaalat Rabbi innee wada`tuhaaa unsaa wallaahu a`lamu bimaa wada`at wa laisaz zakaru kalunsaa wa innee sammaituhaa Maryama wa innee u`eezuhaa bika wa zurriyyatahaa minash Shaitaanir Rajeem
📖 اردو ترجمہ
جب ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور جو کچھ ان کے ہاں پیدا ہوا تھا خدا کو خوب معلوم تھا تو کہنے لگیں کہ پروردگار! میرے تو لڑکی ہوئی ہے اور (نذر کے لیے) لڑکا (موزوں تھا کہ وہ) لڑکی کی طرح (ناتواں) نہیں ہوتا اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • وَضَعَتْهَا: اسے جنم دیا۔
  • أُنثَىٰ: لڑکی۔
  • اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ: اللہ ہی بہتر جانتا ہے جو اس نے جنم دیا۔
  • لَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنثَىٰ: لڑکا لڑکی جیسا نہیں۔
  • أُعِيذُهَا: میں اسے پناہ دیتی ہوں۔
  • الرَّجِيمِ: (جو) رحمت سے دھتکارا ہوا ہے۔

تفسیر:

جب حضرت عمران کی بیوی نے اپنے حمل کو مکمل کیا اور بچے کو جنم دیا تو وہ اپنے رب کے حضور عرض کرنے لگیں: "اے میرے رب! میں نے لڑکی کو جنم دیا ہے۔" وہ اس لیے معذرت خواہ تھیں کیونکہ انہوں نے بیت المقدس کی خدمت کے لیے نذر مانگی تھی اور وہ سمجھ رہی تھیں کہ لڑکی اس خدمت کے قابل نہیں ہوگی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم تھا کہ اس لڑکی کا مقام و مرتبہ کیا ہوگا، اور وہ لڑکے سے کہیں بڑھ کر ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے اس خاندان کو ایک ایسی ہستی عطا فرمائی جو ساری دنیا کے لیے رحمت بنی۔

حضرت عمران کی بیوی نے یہ بھی کہا: "لڑکا لڑکی جیسا نہیں ہوتا" یعنی لڑکا بیت المقدس کی خدمت کے لیے زیادہ موزوں ہوتا ہے کیونکہ وہ مضبوط ہوتا ہے اور اسے وہ عوارض لاحق نہیں ہوتے جو عورتوں کو ہوتے ہیں (جیسے حیض اور نفاس)۔ لیکن اللہ کا فضل و کرم دیکھیے کہ اس نے اس لڑکی کو اتنا بلند مقام عطا کیا کہ وہ اپنے زمانے کی تمام عورتوں میں سب سے افضل ہوئیں۔

پھر انہوں نے اپنی بیٹی کا نام "مریم" رکھا اور دعا کی: "اے میرے رب! میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطانِ مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔" یہ دعا اس قدر مقبول ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے مریم اور ان کی اولاد (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے، ہمیں یہ سیکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کا علم ہمارے اندازوں سے بہت بلند ہے۔ ہم جو چیز اپنے محدود علم کی بنا پر کمزور یا نااہل سمجھتے ہیں، اللہ اس میں بڑی برکت اور خیر رکھ سکتا ہے۔ دوسرے، ہمیں اپنے بچوں کے لیے دعا کرنی چاہیے، خاص کر انہیں شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ میں دینا چاہیے، جیسا کہ حضرت عمران کی بیوی نے کیا۔ تیسرے، یہ کہ اللہ سے جڑے ہوئے لوگوں کی دعائیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں، چاہے حالات کتنے ہی مختلف کیوں ہوں۔ آج بھی ہم اپنے بچوں کو شیطان کے شر سے بچانے کے لیے یہ دعا پڑھ سکتے ہیں اور اللہ کی رحمت پر بھروسہ رکھ سکتے ہیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 34-38 — آل عمران

34ذُرِّيَّةً بَعْضُهَا مِن بَعْضٍ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
ان میں سے بعض بعض کی اولاد تھے اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے
35إِذْ قَالَتِ امْرَأَتُ عِمْرَانَ رَبِّ إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّي ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے) جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے پروردگار جو (بچہ) میرے پیٹ میں ہے میں اس کو تیری نذر کرتی ہوں اسے دنیا کے کاموں سے آزاد رکھوں گی تو (اسے) میری طرف سے قبول فرما توتو سننے والا (اور) جاننے والا ہے
36فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنثَىٰ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنثَىٰ ۖ وَإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
جب ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور جو کچھ ان کے ہاں پیدا ہوا تھا خدا کو خوب معلوم تھا تو کہنے لگیں کہ پروردگار! میرے تو لڑکی ہوئی ہے اور (نذر کے لیے) لڑکا (موزوں تھا کہ وہ) لڑکی کی طرح (ناتواں) نہیں ہوتا اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں
37فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ۖ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزْقًا ۖ قَالَ يَا مَرْيَمُ أَنَّىٰ لَكِ هَٰذَا ۖ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِندِ اللَّهِ ۖ إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ
تو پروردگار نے اس کو پسندیدگی کے ساتھ قبول فرمایا اور اسے اچھی طرح پرورش کیا اور زکریا کو اس کا متکفل بنایا زکریا جب کبھی عبادت گاہ میں اس کے پاس جاتے تو اس کے پاس کھانا پاتے (یہ کیفیت دیکھ کر ایک دن مریم سے) پوچھنے لگے کہ مریم یہ کھانا تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے وہ بولیں خدا کے ہاں سے (آتا ہے) بیشک خدا جسے چاہتا ہے بے شمار رزق دیتا ہے
38هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ ۖ قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِن لَّدُنكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۖ إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ
اس وقت زکریا نے اپنے پروردگار سے دعا کی (اور) کہا کہ پروردگار مجھے اپنی جناب سے اولاد صالح عطا فرما تو بے شک دعا سننے (اور قبول کرنے) والا ہے
آل عمرانقرآن فہرست
200آیت
مدنیRevelation
36آیت

ترجمہ — آل عمران 36

سورہ آل عمران آیت 36 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جب ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور جو کچھ…

سورہ آیت 36/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 34–38. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں