هُنَالِكَ: اس موقع پر، اس مقام پر، یعنی جب زکریا علیہ السلام نے یہ معجزہ دیکھا۔
هَبْ لِي: مجھے عطا فرما، مجھے دے۔
مِن لَّدُنكَ: اپنی خاص جناب سے، اپنے پاس سے، بغیر کسی ذریعے کے۔
ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً: پاکیزہ اولاد، نیک اور صالح نسل۔
سَمِيعُ الدُّعَاءِ: دعا سننے والا، دعا قبول کرنے والا۔
تفسیر:
یہ وہ مبارک لمحہ تھا جب زکریا علیہ السلام نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے مریم علیہا السلام کو ان کے کمرے میں غیر معمولی رزق عطا فرمایا ہے، جو کسی بھی انسانی ذریعے کے بغیر ان کے پاس پہنچ رہا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر زکریا علیہ السلام کے دل میں اللہ کی قدرت کا یقین اور بھی پختہ ہو گیا۔ وہ بوڑھے ہو چکے تھے، ان کی بیوی بانجھ تھی، لیکن جب انہوں نے اللہ کی بے پناہ قدرت کا یہ جلوہ دیکھا تو ان کے دل میں اولاد کی امید پیدا ہوئی۔ انہوں نے اللہ سے دعا کی: "اے میرے رب! مجھے اپنی خاص جناب سے پاکیزہ اولاد عطا فرما۔" انہوں نے یہ دعا اس یقین کے ساتھ کی کہ اللہ تعالیٰ ہر دعا سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔
یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ جب انسان اللہ کی قدرت کے جلوے دیکھتا ہے تو اس کے دل میں امید پیدا ہوتی ہے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔ زکریا علیہ السلام نے مایوسی نہیں کی، بلکہ اللہ کی رحمت سے امید وابستہ رکھی۔ یہ ہمارے لیے بہترین سبق ہے کہ ہم بھی اللہ سے ہمیشہ امید رکھیں اور اپنی حاجات اس کے سامنے پیش کریں، کیونکہ وہی ہے جو ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت لامحدود ہے، اور وہ اپنے بندوں کی دعائیں سنتا ہے۔ جب ہم کسی مشکل میں ہوں تو ہمیں اللہ سے ہی امید رکھنی چاہیے، کیونکہ وہی ہے جو ہر مشکل کو آسان کر سکتا ہے۔ زکریا علیہ السلام کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں اللہ سے ہمیشہ بہترین چیز مانگنی چاہیے، نہ کہ صرف دنیاوی مفاد۔ "ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً" یعنی پاکیزہ اولاد کی دعا کرنا ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنی اولاد کے لیے بھی نیکی اور تقویٰ کی دعا کرنی چاہیے۔ یہ دعا ہمیں اللہ سے قریب ہونے کا ذریعہ بنتی ہے، اور ہمیں اپنے رب کی رحمت پر بھروسہ رکھنا سکھاتی ہے۔
جب ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور جو کچھ ان کے ہاں پیدا ہوا تھا خدا کو خوب معلوم تھا تو کہنے لگیں کہ پروردگار! میرے تو لڑکی ہوئی ہے اور (نذر کے لیے) لڑکا (موزوں تھا کہ وہ) لڑکی کی طرح (ناتواں) نہیں ہوتا اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں
تو پروردگار نے اس کو پسندیدگی کے ساتھ قبول فرمایا اور اسے اچھی طرح پرورش کیا اور زکریا کو اس کا متکفل بنایا زکریا جب کبھی عبادت گاہ میں اس کے پاس جاتے تو اس کے پاس کھانا پاتے (یہ کیفیت دیکھ کر ایک دن مریم سے) پوچھنے لگے کہ مریم یہ کھانا تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے وہ بولیں خدا کے ہاں سے (آتا ہے) بیشک خدا جسے چاہتا ہے بے شمار رزق دیتا ہے
وہ ابھی عبادت گاہ میں کھڑے نماز ہی پڑھ رہے تھے کہ فرشتوں نے آواز دی کہ (زکریا) خدا تمہیں یحییٰ کی بشارت دیتا ہے جو خدا کے فیض یعنی (عیسیٰ) کی تصدیق کریں گے اور سردار ہوں گے اور عورتوں سے رغبت نہ رکھنے والے اور (خدا کے) پیغمبر (یعنی) نیکو کاروں میں ہوں گے
سورہ آل عمران آیت 38 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اس وقت زکریا نے اپنے پروردگار سے دعا کی (اور)…
سورہ آیت 38/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 36–40. اردو ترجمہ: فارسی.
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔