Mishary Rashid Alafasy
✓
Mahmoud Khalil Al-Husary
✓
Abdurrahman As-Sudais
✓
Mohamed Siddiq Al-Minshawi
✓
Abdul Basit Abdul Samad
✓
Ali Al-Hudhaify
✓
Ahmed ibn Ali al-Ajamy
✓
Abu Bakr Ash-Shaatree
✓
Muhammad Ayyoub
✓
Abdullah Basfar
✓
Abdullah Al-Juhani
✓
Maher Al Muaiqly
✓
ترجمہ — Tafsir
هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ ۖ قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِن لَّدُنكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۖ إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ
معانی الفاظ:
- هُنَالِكَ: اس موقع پر، اس مقام پر، یعنی جب زکریا علیہ السلام نے یہ معجزہ دیکھا۔
- هَبْ لِي: مجھے عطا فرما، مجھے دے۔
- مِن لَّدُنكَ: اپنی خاص جناب سے، اپنے پاس سے، بغیر کسی ذریعے کے۔
- ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً: پاکیزہ اولاد، نیک اور صالح نسل۔
- سَمِيعُ الدُّعَاءِ: دعا سننے والا، دعا قبول کرنے والا۔
تفسیر:
یہ وہ مبارک لمحہ تھا جب زکریا علیہ السلام نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے مریم علیہا السلام کو ان کے کمرے میں غیر معمولی رزق عطا فرمایا ہے، جو کسی بھی انسانی ذریعے کے بغیر ان کے پاس پہنچ رہا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر زکریا علیہ السلام کے دل میں اللہ کی قدرت کا یقین اور بھی پختہ ہو گیا۔ وہ بوڑھے ہو چکے تھے، ان کی بیوی بانجھ تھی، لیکن جب انہوں نے اللہ کی بے پناہ قدرت کا یہ جلوہ دیکھا تو ان کے دل میں اولاد کی امید پیدا ہوئی۔ انہوں نے اللہ سے دعا کی: "اے میرے رب! مجھے اپنی خاص جناب سے پاکیزہ اولاد عطا فرما۔" انہوں نے یہ دعا اس یقین کے ساتھ کی کہ اللہ تعالیٰ ہر دعا سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔
یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ جب انسان اللہ کی قدرت کے جلوے دیکھتا ہے تو اس کے دل میں امید پیدا ہوتی ہے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔ زکریا علیہ السلام نے مایوسی نہیں کی، بلکہ اللہ کی رحمت سے امید وابستہ رکھی۔ یہ ہمارے لیے بہترین سبق ہے کہ ہم بھی اللہ سے ہمیشہ امید رکھیں اور اپنی حاجات اس کے سامنے پیش کریں، کیونکہ وہی ہے جو ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت لامحدود ہے، اور وہ اپنے بندوں کی دعائیں سنتا ہے۔ جب ہم کسی مشکل میں ہوں تو ہمیں اللہ سے ہی امید رکھنی چاہیے، کیونکہ وہی ہے جو ہر مشکل کو آسان کر سکتا ہے۔ زکریا علیہ السلام کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں اللہ سے ہمیشہ بہترین چیز مانگنی چاہیے، نہ کہ صرف دنیاوی مفاد۔ "ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً" یعنی پاکیزہ اولاد کی دعا کرنا ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنی اولاد کے لیے بھی نیکی اور تقویٰ کی دعا کرنی چاہیے۔ یہ دعا ہمیں اللہ سے قریب ہونے کا ذریعہ بنتی ہے، اور ہمیں اپنے رب کی رحمت پر بھروسہ رکھنا سکھاتی ہے۔
📜 آیت 36-40 — سورہ آل عمران
ترجمہ — آل عمران 38
سورہ آل عمران آیت 38 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اس وقت زکریا نے اپنے پروردگار سے دعا کی (اور)…سورہ آیت 38/200 — سورہ آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ آل عمران سنیں, سورہ آل عمران ترجمہ, سورہ آل عمران mp3, سورہ آل عمران pdf. آیت 36–40. اردو ترجمہ: فارسی.
سورہ آل عمران
قرآن کریم
Monday, September 28, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں


