ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- حَاجَّكَ: تجھ سے جھگڑا کرے، حجت بازی کرے
- تَعَالَوْا: آؤ، چلو
- نَبْتَهِل: ہم دعا میں تضرع کریں، گڑگڑائیں
- لَعْنَتَ اللَّهِ: اللہ کی پھٹکار اور رحمت سے دوری
تفسیر آیت:
اے محبوب رسول! جب آپ کے پاس عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں صحیح علم آچکا ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نہ کہ اللہ کے بیٹے، نہ تین میں سے ایک، اور نہ ہی وہ مقتول یا مصلوب ہوئے، تو اس کے باوجود اگر کوئی (خاص طور پر نجران کے عیسائی) آپ سے اس معاملے میں جھگڑا کرے اور حق کے سامنے آنے کے بعد بھی ضد اور عناد پر اڑا رہے، تو آپ انہیں مبہالہ کی دعوت دیں۔
مبہالہ کا مطلب یہ ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے بچوں، عورتوں اور اپنے آپ کو لے کر آئیں، پھر سب مل کر اللہ کے حضور گڑگڑائیں اور دعا کریں کہ جو شخص جھوٹا ہو اس پر اللہ کی لعنت نازل ہو۔
یہ دعوت نہایت جرأت اور یقین کامل کا اظہار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سب سے پیارے عزیزوں کو ساتھ لے جانے کا اعلان کیا — اپنے نواسوں حسن و حسین کو، اپنی صاحبزادی فاطمہ زہرا کو، اور اپنے نفس کے برابر علی المرتضیٰ کو — تاکہ یہ ثابت ہو کہ ہم اپنے سب سے عزیز لوگوں کو اس معاملے میں پیش کر رہے ہیں، کیونکہ ہمیں اپنے موقف پر کوئی شک نہیں۔
یہ آیت اسلام کی حقانیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کا عظیم ترین ثبوت ہے۔ جب نجران کے عیسائیوں نے یہ دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سب سے عزیز افراد کو لے کر مبہالہ کے لیے نکلے ہیں، تو وہ سمجھ گئے کہ یہ کوئی عام بات نہیں، یہ سچے نبی کی جرأت ہے۔ انہوں نے مبہالہ سے انکار کیا اور جزیہ دینے پر راضی ہوگئے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں چند بہترین سبق ملتے ہیں:
- حق پر ثابت قدمی: جب آپ کو کسی معاملے میں یقینی علم ہو جائے تو پھر کسی کے جھگڑے کی پرواہ نہ کریں، بلکہ حق پر ڈٹے رہیں۔
- دعوت کا مؤثر انداز: مبہالہ کی دعوت اسلام کا وہ شاندار طریقہ ہے جو مخالفین کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ یہ دعوت صرف اس وقت دی جاتی ہے جب آپ کو اپنے موقف پر سو فیصد یقین ہو۔
- خاندان کی اہمیت: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت کو ساتھ لیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حق کے لیے اپنے عزیزوں کو بھی پیش کرنے سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔
- دعا کی طاقت: جب دلائل ختم ہو جائیں اور مخالف ضد پر اڑا رہے تو اللہ کے سامنے گڑگڑانا اور اس سے فیصلہ طلب کرنا سب سے بڑی طاقت ہے۔
- سچائی کا انجام: سچائی ہمیشہ غالب آتی ہے۔ عیسائیوں نے مبہالہ سے انکار کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر وہ مبہالہ کریں گے تو ان پر عذاب آئے گا۔ یہی اسلام کی سچائی کا سب سے بڑا عملی ثبوت ہے۔
آئیے ہم بھی اس آیت سے سبق لیں کہ حق پر قائم رہنا چاہیے، چاہے مخالفین کتنے ہی زیادہ ہوں، کیونکہ اللہ ہمیشہ سچے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے اور انہیں کامیابی عطا فرماتا ہے۔
📜 آیت 59-63 — آل عمران
ترجمہ — آل عمران 61
سورہ آل عمران آیت 61 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر اگر یہ لوگ عیسیٰ کے بارے میں تم سے…سورہ آیت 61/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 59–63. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








