ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- الْحَقُّ: وہ بات جو حق اور سچ ہو، جس میں کوئی شک و شبہ نہ ہو۔
- مِن رَّبِّكَ: تیرے رب کی طرف سے۔
- الْمُمْتَرِينَ: شک کرنے والے، تردد میں پڑنے والے، جھگڑا کرنے والے۔
تفسیر:
اے نبیِ مکرم! یہ جو حق ہے، یہ تمہارے رب کی طرف سے ہے، نہ کہ کسی اور کی طرف سے۔ یہ حق وہ ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملے میں ہے — کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے، نہ اللہ کے بیٹے اور نہ کوئی معبود۔ یہی سچا اور درست عقیدہ ہے جو تمہارے رب نے تم پر نازل کیا ہے۔
پس تم اس حق پر ثابت قدم رہو، اور ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہو۔ یہاں خطاب اگرچہ ظاہری طور پر رسول اللہ ﷺ سے ہے، لیکن مقصد امت کو تلقین کرنا ہے کہ وہ حق پر جمے رہیں اور کسی شک و تردد میں نہ پڑیں۔ اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی اور اطمینان دیا گیا ہے کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو وہ سراسر حق ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں۔
یہ حکم دراصل اہلِ ایمان کے لیے ایک مضبوط بنیاد ہے کہ وہ اپنے دین کے معاملات میں کسی شک اور تذبذب کا شکار نہ ہوں۔ حق تو وہی ہے جو اللہ کی طرف سے آیا ہے، اور باطل وہ ہے جو اس کے خلاف ہو۔ جب حق واضح ہو جائے تو پھر شک کرنا شیطان کی طرف سے وسوسہ ہے، جس سے بچنا ضروری ہے۔
دعوتی پہلو:
اے مسلمان بھائیو اور بہنو! دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بھی شک سے منع فرمایا، حالانکہ وہ سب سے زیادہ یقین رکھنے والے تھے۔ یہ ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ ہم اپنے دین کے معاملات میں ثابت قدم رہیں، کسی شک اور تردد میں نہ پڑیں۔ آج کے دور میں بہت سے لوگ طرح طرح کے شبہات پھیلاتے ہیں، لیکن ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن و سنت کے واضح حقائق پر مضبوطی سے قائم رہیں۔ جب اللہ نے خود فرمایا کہ یہ حق ہے، تو پھر کسی شک کی گنجائش ہی نہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں کامیابی اور نجات تک پہنچائے گا۔ اللہ ہمیں حق پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 58-62 — آل عمران
ترجمہ — آل عمران 60
سورہ آیت 60/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 58–62. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








