ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- خَالِدِينَ فِيهَا: اس میں ہمیشہ رہنے والے
- لَا يُخَفَّفُ: کم نہیں کیا جائے گا
- الْعَذَابُ: عذاب
- يُنظَرُونَ: مہلت دیے جائیں، ڈھیل دی جائے
تفسیر:
یہ آیت ان لوگوں کے انجام کو بیان کر رہی ہے جنہوں نے ایمان کے بعد کفر کیا، حق کو چھوڑ کر باطل کو اپنایا، اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دشمنی کا راستہ اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ لعنت میں ہمیشہ رہیں گے، یعنی ان پر اللہ کی رحمت سے محرومی کا سایہ دائمی ہوگا۔ وہ جہنم میں داخل ہوں گے اور وہاں سے کبھی نکل نہیں سکیں گے۔
ان کے عذاب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی، نہ تو عذاب ہلکا کیا جائے گا تاکہ انہیں کچھ سکون مل سکے، اور نہ ہی انہیں کوئی مہلت دی جائے گی تاکہ وہ معذرت پیش کر سکیں یا توبہ کا موقع پا سکیں۔ یعنی ان کے لیے نہ تو عذاب میں تخفیف ہے، نہ توقف، نہ مہلت۔ وہ ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہیں گے، جیسے اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا: "ان کے لیے جہنم میں کوئی اور عذاب نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں" (سورۃ البقرہ: 167)۔
یہ آیت ہمارے لیے ایک زبردست نصیحت اور ڈر ہے کہ ہم ایمان کے بعد کفر کی طرف نہ پلٹیں، حق کو نہ چھوڑیں، اور اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی سے بچیں۔ کیونکہ اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے، اور اس کا عذاب ایسا ہے جس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔
دعوتی پہلو:
میرے پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے، لیکن اس کی پکڑ بھی بہت شدید ہے۔ جب تک ہم زندہ ہیں، توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے ایمان پر ثابت قدم رہیں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اور اس دن سے ڈریں جب کوئی معذرت قبول نہیں کی جائے گی اور نہ ہی کوئی مہلت ملے گی۔ آئیے ہم سب اپنے رب کی طرف رجوع کریں، اس کی اطاعت کریں، اور اپنے اعمال کو سنواریں، تاکہ ہم اس سخت عذاب سے بچ سکیں اور اللہ کی رحمت کے حقدار بن سکیں۔ اللہ ہم سب کو صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 86-90 — آل عمران
ترجمہ — آل عمران 88
سورہ آیت 88/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 86–90. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








