ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- تابوا: توبہ کیا، گناہوں سے باز آئے اور اللہ کی طرف رجوع کیا۔
- أصلحوا: اپنے اعمال کو درست کیا، جو خرابی اور فساد انہوں نے کیا تھا اس کی اصلاح کی۔
- غفور: بہت زیادہ بخشنے والا۔
- رحیم: بہت زیادہ رحم فرمانے والا۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان لوگوں کے لیے بھی رحمت کا دروازہ کھلا رکھتا ہے جنہوں نے کفر اور ظلم کا راستہ اختیار کیا، لیکن پھر وہ اپنے رب کی طرف لوٹ آئے۔ یعنی جو لوگ اپنے کفر اور ظلم کے بعد سچی توبہ کریں، دل سے نادم ہوں، گناہوں کو چھوڑ دیں، اور اپنے اعمال کو درست کر لیں، اپنی زندگی کو سنوار لیں، اور جو کچھ انہوں نے بگاڑا تھا اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کریں، تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمائے گا۔
اللہ تعالیٰ کی صفات "غفور" اور "رحیم" اس بات کی ضمانت ہیں کہ وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے اور ان پر رحم فرمانے والا ہے۔ اس کی رحمت اس کے غضب سے زیادہ وسیع ہے۔ جو بندہ بھی خلوص دل سے اس کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ اسے خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت مومنوں کے دلوں میں امید کا پیغام بھرتی ہے۔ یہ سکھاتی ہے کہ اللہ کی رحمت کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔ چاہے انسان کتنا ہی گناہگار ہو، کتنا ہی بھٹکا ہوا ہو، جب وہ سچے دل سے توبہ کرتا ہے اور اپنی زندگی کو درست کرنے کا عزم کرتا ہے، تو اللہ اسے معاف کر دیتا ہے۔ یہ وہ خوبصورت پیغام ہے جو اسلام دیتا ہے — مایوسی اور ناامیدی کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ اللہ کی رحمت ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ آئیے ہم سب اپنے رب کی طرف رجوع کریں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اور اپنی زندگیوں کو اس کی رضا کے مطابق ڈھالیں۔ اللہ یقیناً بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
📜 آیت 87-91 — آل عمران
ترجمہ — آل عمران 89
سورہ آیت 89/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 87–91. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








