جہنوں نے کفر کیا ان کے لئے سخت عذاب ہے۔ اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
الَّذِينَ كَفَرُوا: جن لوگوں نے کفر کیا، یعنی اللہ کی وحدانیت اور اس کے رسولوں کی تعلیمات کو جھٹلایا۔
عَذَابٌ شَدِيدٌ: سخت اور دردناک عذاب۔
آمَنُوا: ایمان لائے، یعنی اللہ اور اس کے رسول پر سچے دل سے یقین کیا۔
عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ: نیک اور صالح اعمال کیے۔
مَغْفِرَةٌ: گناہوں کی معافی اور پردہ پوشی۔
أَجْرٌ كَبِيرٌ: بڑا اجر اور عظیم انعام۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنے بندوں کو دو واضح راستے دکھا رہے ہیں، تاکہ ہر شخص اپنی منزل خود چن لے۔ پہلا راستہ کفر کا ہے، یعنی اللہ کی وحدانیت کا انکار، اس کے رسولوں کو جھٹلانا، اور شیطان کی پیروی کرنا۔ ایسے لوگوں کے لیے اللہ نے سخت ترین عذاب تیار کیا ہے، جو آخرت میں ان کا انتظار کر رہا ہے۔ یہ عذاب صرف جسمانی نہیں، بلکہ روحانی اور نفسیاتی بھی ہوگا، اور اس سے کوئی چیز نہیں بچا سکے گی۔
دوسرا راستہ ایمان اور عمل صالح کا ہے، یعنی اللہ اور اس کے رسول پر سچے دل سے یقین کرنا، اور اس ایمان کے تقاضوں کو عملی زندگی میں نافذ کرنا۔ ایسے لوگوں کے لیے دو عظیم انعامات ہیں: ایک مغفرت، یعنی اللہ ان کے گناہوں کو معاف کر دے گا اور ان پر پردہ ڈال دے گا، اور دوسرا اجر کبیر، یعنی جنت، جو ہر نعمت اور خوشی کا مرکز ہے۔ یہ اجر اتنا بڑا ہے کہ اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، اور یہ اللہ کی رحمت کا خاص تحفہ ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں زندگی کا سب سے اہم سبق سکھاتی ہے۔ اللہ نے ہمیں اختیار دیا ہے کہ ہم خود اپنا راستہ چنیں، لیکن اس نے رحمت سے یہ بھی بتا دیا کہ کون سا راستہ کہاں لے جاتا ہے۔ کفر کا راستہ عذاب کی طرف لے جاتا ہے، جبکہ ایمان اور عمل صالح کا راستہ مغفرت اور جنت کی طرف۔ اللہ کی رحمت کا دروازہ ہر لمحہ کھلا ہے، وہ چاہتا ہے کہ ہم اس کی طرف رجوع کریں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اور نیک اعمال کریں۔ کوئی بھی شخص اس رحمت سے محروم نہیں رہنا چاہیے، کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اس کا اجر بے حساب ہے۔ آئیے، ہم سب اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اپنے اعمال کو درست کریں، اور اس عظیم انعام کے حقدار بنیں۔ اللہ ہمیں توفیق دے۔ آمین۔
بھلا جس شخص کو اس کے اعمال بد آراستہ کرکے دکھائے جائیں اور وہ ان کو عمدہ سمجھنے لگے تو (کیا وہ نیکوکار آدمی جیسا ہوسکتا ہے) ۔ بےشک خدا جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ تو ان لوگوں پر افسوس کرکے تمہارا دم نہ نکل جائے۔ یہ جو کچھ کرتے ہیں خدا اس سے واقف ہے
اور خدا ہی تو ہے جو ہوائیں چلاتا ہے اور وہ بادل کو اُبھارتی ہیں پھر ہم ان کو ایک بےجان شہر کی طرف چلاتے ہیں۔ پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کردیتے ہیں۔ اسی طرح مردوں کو جی اُٹھنا ہوگا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔